نامور کرکٹر وسیم اکرم کی ان کہی داستان حیات۔۔۔ پانچویں قسط

نامور کرکٹر وسیم اکرم کی ان کہی داستان حیات۔۔۔ پانچویں قسط
نامور کرکٹر وسیم اکرم کی ان کہی داستان حیات۔۔۔ پانچویں قسط

  

تحریر۔شاہدنذیرچودھری

اب ہر کسی کو امید تھی کہ وسیم نے پاکستانی ٹیم میں مستقل جگہ بنالی ہے مگر جونہی نیوزی لینڈ کے ساتھ ون ڈے میچوں کا سلسلہ شروع ہوا، اس کی کارکردگی کو نظر انداز کر دیا گیا۔وسیم اس تبدیلی پر حیران اور پریشان ہو گیا اور دل چھوڑ بیٹھا اس لمحے خان محمد نے اس کی دلجوئی کی اور اسے سمجھایا۔

’’دیکھو میاں!گھبرانا نہیں۔۔۔سمجھو یہ صرف ایک بار ہوا ہے،اب تمہیں اپنی جگہ بنانے کے لئے اپنے کھیل کے علاوہ ذاتی تعلقات کو بھی فروغ دینا ہو گا۔‘‘

وسیم اس بات کو ہضم نہ کر سکا اور بول۔

’’مگر سر!یہ تو زیادتی ہے۔کیا میرا کھیل میری سفارش نہیں ہے۔مجھے اب بڑوں کے آگے پیچھے پھرنا پڑے گا میری تو کوئی سفارش بھی نہیں ہے۔‘‘

خان محمد کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہ تھا۔ وہ آہستہ سے بولے۔

’’آہستہ آہستہ تم سب سمجھ جاؤ گے‘‘۔

لیکن تقدیر نے خود ہی وسیم کے لئے بھرپور سفارش کر دی۔ سرفراز نواز نے اچانک ہی ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا اور یوں وسیم اکرم کو متبادل کھلاڑی کے طور پر ٹیم میں دوبارہ شامل کرلیا گیا۔

وسیم اکرم کے لئے نیوزی لینڈ ایک کڑا امتحان ثابت ہوئی۔ اس کی کارکردگی متاثر کن نہیں تھی۔ کیونکہ یہ میچ بارش کی وجہ سے مختصر ہو گیا تھا اور دونوں ٹیموں کوصرف بیس بیس اوورز کھیلنے تھے۔پاکستان نے140سکور بنائے،اگرچہ بیس اووروں میں یہ حوصلہ افزا سکور تھا مگر نیوزی لینڈ نے آتے ہی پاکستانی باؤلروں کی پٹائی شروع کر دی۔یہ صورت حال دیکھ کر کپتان ظہیر عباس نے جاوید میاں داد کے مشورے پر وسیم اکرم کو باؤلنگ کرانے کے لئے بلایا اور کہا۔

’’وسیم اس وقت تمہاری سوئنگ بالیں ہی پاکستان کو بچا سکتی ہیں‘‘۔

پہلے اووروں میں تو وسیم اکرم نے سوئنگ کے کمال دکھائے مگر ظہیر عباس جو محتاط دفاعی اعتبار سے کسی قسم کا خطرہ نہ مول لینے والا کپتان تھا۔ اس نے اگلے اووروں میں وسیم اکرم سے باؤلنگ نہ کرائی پھر نہ جانے کیوں اس نے آخری اوور وسیم اکرم سے کرانے کا فیصلہ کرلیا۔ اس وقت نیوزی لینڈ کو جیتنے کے لئے24سکور کرنے تھے اور اس کی تین وکٹیں باقی تھیں۔ اس کی فرنٹ لائن پر جرمی کونی جیسا ماہر بلے باز تھا۔ وسیم اکرم نے بڑے پر اعتماد انداز میں اسے شارٹ پچ بال کرائی مگر جرمی کونی نے یہ بال باؤنڈری سے باہر پھینک دی اور پھر تو گویا وسیم اور جرمی دونوں ہی جنونی ہو گئے۔وسیم شارٹ پچ بال پھینکتا رہا اور جرمی کونی ہر بال کو باؤنڈری کے پار پھینک دیتا تھا۔ لیکن پاکستان کی قسمت اچھی تھی وسیم اکرم کی ایک یارکر پر جرمی آؤٹ ہو گیا اور یوں پاکستان پانچ سکور سے جیت گیا۔

چوتھی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ وسیم اکرم کی جو بال بعد میں اس کا خاصہ بنی یار کر بال تھی۔یہ انداز اسکاخفیہ ہتھیار بن گیا۔حالانکہ وسیم اس ون ڈے انٹرنیشنل میچ تک یار کرکے نام سے ہی ناواقف تھا۔ یارکرایک ایسی بال کو کہتے ہیں جو سیدھی بلے کے عین نیچے گرے اور وکٹیں اڑا کر رکھ دے۔دنیائے کرکٹ میں وسیم اکرم کی یارکر نے بعد میں تہلکہ مچادیا ۔اسکی مدد سے وہ میچ کا پانسہ پلٹ دیتا۔جب کسی وکٹ کو گرانا مقصود ہوتا وہ خفیہ ہتھیار کو اچانک استعمال کرتا۔

اس میچ کے بعد وسیم اکرم ایک بار پھر ڈراپ کر دیا گیا اور اس قدر مایوس ہوا کہ اس نے کرکٹ چھوڑ دینے کا فیصلہ کرلیا۔ کیونکہ کپتان سمیت کسی کھلاڑی نے اس کی دلجوئی نہیں کی تھی۔ مگر قسمت بہلاتی اور اسے آگے دھکیلتی رہی۔ پاکستان نے اب نیوزی لینڈ کا جوابی دورہ کرنا تھا۔ کھلاڑیوں کو چناؤ ہوا تو وسیم اکرم کا نام شامل نہیں تھا۔ اس ورے کی قیادت جاوید میاں داد کے سپرد تھی۔ اس موقع پر جاوید میاں داد نے وسیم اکرم کو ٹیم میں شامل کرنے کی ضد کی،کیونکہ وہ اس کی خوبیوں سے آگاہ تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ میانداد ہی تھا جس نے وسیم اکرم کو پاکستانی کرکٹ ٹیم کا مستقل اور اہم رکن بنانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا مگر کرکٹ کی سیاست اور حالات نے آنے والے دنوں میں وسیم اکرم کو اپنے اسی محسن کے خلاف کھڑا کر دیا۔

نیوزی لینڈ کی وکٹیں انگلینڈ کی طرح سست ہیں۔وسیم اکرم شروع میں ان وکٹوں پر اپنی روایتی باؤلنگ کا مظاہرہ نہ دکھا سکا۔پہلے اسے ایک سائیڈ میچ میں کھیلایا گیا تو وہ صرف ایک ہی کھلاڑی آؤٹ کر سکا۔ نیوزی لینڈ ایک تو اپنی پسندیدہ اور ہوم گراؤنڈ پچوں پر کھیلنے کا فائدہ اٹھا رہی تھی بلکہ رائٹ، رچرڈ ہیڈلی، مارٹن کرو، این سمتھ اور لانس کینز جیسے شہرہ آفاق کھلاڑی ٹیم سکواڈ میں شامل تھے۔وسیم اکرم جیسے نو آموز کھلاڑی کے لئے یہ پہلا بیرونی دورہ تھا لٰہذا اسے باؤلنگ کراتے ہوئے دانتوں پسینہ آگیا۔ پہلے ٹیسٹ میں اسے کھیلایا گیا مگر وہ صرف دو وکٹیں ہی حاصل کر سکا۔وسیم اپنی کارکردگی سے دل برداشتہ ہو گیا۔ جاوید میاں داد نے نہ صرف اس کی حوصلہ افزائی کی بلکہ وسیم کو نیوزی لینڈ کے خلاف بطور زہریلا تیر استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے ٹیم کے دوسرے کھلاڑیوں کی نسبت وسیم اکرم پر خصوصی توجہ دی اور دوسرے ٹیسٹ سے پہلے اسے سب سے الگ کر کے تین چار گھنٹے روزانہ باؤلنگ کی پریکٹس کراتا رہا۔اس لمحہ مدثر نذر نے بھی میاں داد کا ساتھ دیا اور وسیم اکرم کو نیوزی لینڈ کے بلے بازوں کی خامیاں بتائیں اور اسے سمجھایا کہ کس بلے باز کو کیسے سوئنگ کرانی ہے۔

وسیم اکرم ایک ذہین شاگرد ثابت ہوا۔صرف چند روز کی محنت رنگ لائی اور جب میدان سجا تو وسیم اکرم نے سب کو حیران کر دیا۔اس نے دونوں اننگز میں پانچ پانچ وکٹیں حاصل کیں۔اس ٹیسٹ نے وسیم اکرم کی شہرت کو چار چاند لگا دئیے۔ اس کی دھواں دھار باؤلنگ کا تو چرچا ہر سوپھیل گیا تھا مگر ایک بات اور بھی ہو گئی جس نے باؤلنگ کی تاریخ میں ایک نیا واقعہ رقم کر دیا۔ ہوا یوں کہ جب نیوزی لینڈ کا جارحانہ بلے باز لانس کینز اپنی بیٹنگ کے عروج پر تھا، وسیم اکرم جنونی ہو گیا اور اس نے انتہائی تیز رفتار شارٹ پچ بالیں پھینکنا شروع کر دیں۔ایک ایسی ہی بال کو کھیلنے کے لئے جب لانس کینز نے اسے ہک کرنا چاہا تو بال اس کے سر سے ٹکرا گئی اور وہ وکٹ پر ہی گر گیا۔ اسے فوری طور پر ہسپتال لے جایا گیا۔ یوں یہ واقعہ اور دس وکٹوں کا اعزاز اخبار نویسوں اور الیکٹرانک میڈیا کی دلچسپی کا باعث بنا رہا۔اسی بنا پر وسیم اکرم کا پہلی بار ٹی وی انٹرویو بھی نشر ہوا۔ انگریزی پر عبور نہ ہونے کے باعث وہ اپنی مدد کے لئے قاسم عمر کو ساتھ لے گیا تھا۔

جاری ہے،اگلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

(دنیائے کرکٹ میں تہلکہ مچانے والے بائیں بازو کے باؤلروسیم اکرم نے تاریخ ساز کرکٹ کھیل کر اسے خیرباد کہا مگرکرکٹ کے میدان سے اپنی وابستگی پھریوں برقرار رکھی کہ آج وہ ٹی وی سکرین اور مائیک کے شہہ سوار ہیں۔وسیم اکرم نے سٹریٹ فائٹر کی حیثیت میں لاہور کی ایک گلی سے کرکٹ کا آغاز کیا تو یہ ان کی غربت کا زمانہ تھا ۔انہوں نے اپنے جنون کی طاقت سے کرکٹ میں اپنا لوہا منوایااور اپنے ماضی کو کہیں بہت دور چھوڑ آئے۔انہوں نے کرکٹ میں عزت بھی کمائی اور بدنامی بھی لیکن دنیائے کرکٹ میں انکی تابناکی کا ستارہ تاحال جلوہ گر ہے۔روزنامہ پاکستان اس فسوں کار کرکٹر کی ابتدائی اور مشقت آمیز زندگی کی ان کہی داستان کو یہاں پیش کررہا ہے)۔

مزید : سٹریٹ فائٹروسیم اکرم