سلسلہ نوشاہیہ کی تحقیقی داستان۔ ۔ ۔تیرہویں قسط

سلسلہ نوشاہیہ کی تحقیقی داستان۔ ۔ ۔تیرہویں قسط
سلسلہ نوشاہیہ کی تحقیقی داستان۔ ۔ ۔تیرہویں قسط

  

شہنشاہ اکبر کے دین الٰہی کے خلاف شریعت و طریقت کا علم بلند کرنے والی عظیم ہستی،سلسلہ و خانواد ۂنوشاہیہ کی خدمات

دیکھانے والے نے دیکھنے والوں کو۔۔۔اور اُن کو بھی جو دیکھ کر بھی نہیں دیکھ پاتے تھے اور اُن سمجھداروں کو جو سمجھ کر بھی نہیں سمجھ پاتے تھے ،انہیں خوب دیکھا اور سمجھادیا تھا اور پھر انہیں اس کا گواہ بنا دیا تھا کہ خالق و مالک ایک بچّے کوبھی اپنی قدرت کریمہ کے اظہارکا مظہر بنا دیتا ہے۔حضرت سیّدابوالکمال برقؒ جو ابھی غلامِ رسول کے نام سے مانوس و منسوب ہوئے تھے انہیں ادنا واعلٰی میں ممتاز کردیا تھا اور انہیں مادرزاد ولی کے طور پرنامزد کردیا تھا۔

چکسواری آزاد کشمیر کی آج ایک معروف تحصیل بن چکی ہے،اس زمانے میں بہت مختصر گاؤں تھا۔ لیکن حضرت نوشہ پاکؒ کی اولاد پاک کے قدم یہاں پہنچے تو اس گاؤں کی تقدیر کے بند دروازے کھل گئے۔ ابھی پاکستان کی تحریک جوبن پکڑ رہی تھی اور ابھی اس خطے میں منگلہ ڈیم بھی نہیں بنا تھا مگر سرسبز وشاداب کوہساروں کی دھرتی پر بزرگان دین کا نور پھیل گیا تھا اور جب قیام پاکستان کے بعد منگلہ ڈیم بننا شروع ہوا تو چکسواری کے شہزادگان طریقت دوسرے لوگوں کی طرح انگلستان چلے گئے تھے ۔

حضرت نوشہ گنج بخشؓ، سلسلہ نوشاہیہ کی تحقیقی داستان۔ ۔ ۔بارہویں قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اللہ کی حکمت کون جان پاتا ہے۔کون ہے جو اللہ کریم کی تدبیر سے بہتر تدبیر تیار کرسکتا ہے۔اللہ نے چاہا تو چکسواری میں جنم لینے والے اپنے مادرزادولی کو شیر خوارگی میں ہی مقبولیت اور قبولیت سے سرفراز کردیاتھااور پھر انہیں تبلیغ دین اور نوشاہی قادری سلسلہ ہائے طریقت کو یورپ میں پھیلانے پر مامور کردیا ۔یہ کاتب تقدیر کا فیصلہ تھا کہ ہندوستان کو جہالت اور اندھیروں میں رکھنے والی اپنے دور کی سُپر پاور کے اندھیرے دور کرنے لئے اپنے بندۂ خاص حضرت نوشہ گنج بخشؒ کی اولاد کو یہ فرض سونپ دیا جائے،اللہ کریم کی توفیق اور رسول کریمﷺ کے فیضان نظر کا نتیجہ تھا کہ حضرت نوشہؒ نے دولاکھ ہندؤوں کو مسلمان کرکے برصغیر میں اسلامی نظام حیات کو مضبوط بنیاد اور تحریک دے دی تھی تو بیسویں اور اکیسویں صدی میں آپؒ کے وارثان حضرت ابوالکمال برقؒ اور حضرت سید معروف حسین شاہ کو یورپ سے نکل کر دوسرے ملکوں تک شریعت وطریقت محمدیﷺ کو پھیلانے کا موقع دیا، بے شک دین کی مستقل مزاجی اور نیک نیتی ،عاجزی و محبت سے خدمت انہیں نصیب ہوتی ہے جنہیں اللہ اپنے کاموں کے لئے چُن لیتاہے۔

چکسواری میں چمکنے والے چراغ طریقت نے جمعۃ المبارک کے روز سعید کو اس جہان رنگ وبو میں8 اگست 1924ء کی صبح آنکھ کھولی ۔یہ بڑی اُجلی صبح تھی۔نماز تہجد کے وقت سے حضرت نوشہ گنج بخش ؒ کے مزار مبارک سے ایک روحانی اجالا پھوٹ رہا تھا اور دیکھنے والے اپنی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے ان لمحوں کی کہانی یوں بیان کرتے ہیں کہ باطنی نظام سے منسلک انس وجن اور ملائکہ نے ابلاغ کا سلسلہ جاری رکھا ہوا تھا،بہت سے قلندران طریقت ،مجذوبان ،عشّاق اور اپنی ڈیوٹیوں پر مامور فرشتگان اس نئے مہمان کی آمد کا ذکرفرمارہے تھے۔حضرت سید ابوالکمال برقؒ کی ولادت پر مریدوں اور عشاقان نوشاہیہ کی مراد پوری ہوگئی تھی لہذا رنمل شریف سے چکسواری تک نومولود کی آمد پر خوشیاں منائی گئیں ،نوافل ادا کئے گئے۔

رنمل شریف کے کچھ فدایان طریقت اپنی خوشیوں کو دوبالا کرنے کے لئے نذرنیاز کا بھی اہتمام کررہے تھے ،اتفاق سے وہاں سے ایک مولوی کا گزر ہوا ۔وہ وزیرآباد کی ایک مسجد میں امامت کراتاتھا ۔ وہ اولیا کی کرامات کا قائل نہیں تھا اور نہ مجذوبان ،محبان طریقت کے انداز واطوار کو پسند کرتا تھا۔قدرت نے اسے وعظ کرنے کی خوبیوں سے بھی مالا مال کیا ہوا تھا اور قد کاٹھ سے بھی نوازا تھا۔لیکن مولوی اہل طریقت کی مخالفت میں اعتدال کی حد عبور کرجاتا اور دلیل کی بجائے محض طنز وتنقید کرتے ہوئے ہٹ دھرمی کا اظہار کرتا ۔اب یہ بھی ایک نازک مسئلہ ہے۔ اہل طریقت کو تسلیم کرنا اور انکے اندازو اطوار کو تسلیم کرنے میں بسا اوقات اختلاف ہوسکتا ہے۔بہر حال یہ اللہ کے معاملے ہیں ۔دنیا کا باطنی نظام چلانے کے لئے اللہ کریم نے اپنے محبوب بندوں کو بہت سے فرائض سونپ رکھے ہیں جنہیں عام کیا خاص بھی نہیں پہچان سکتے لیکن وہ اہل طریقت پر انگلیاں اٹھانا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔

اسلام انسانی عظمت اور انسانیت کے احترام کا درس دیتا ہے اور اہل طریقت اگر شریعت کے مطابق احکامات پر عمل کررہے ہوں تو ان پر بے جا تنقید میں احتیاط کرنی چاہئے کیونکہ یہ اللہ ہی جانتا ہے کہ کس میلے کچیلے لباس میں کون سا ہیرا چھپا ہوا ہوتا ہے،دنیا جس ملنگ،مجذوب اور سادہ بندے یا بندی کو دھتکاررہی ہوتی ہے نہ جانے وہ اللہ ،اسکے محبوب پاکﷺ اور اسکے اولیا ء کا کتنا مقرب ہوتا ہے۔لیکن یہ بھی ستم ظریفی ہے۔ہمارے ہاں بہت سے مکاتب میں مجذوب الحال کو دھتکاردینا ثواب سمجھا جاتا ہے۔مولوی صاحب کا ٹکراؤ بھی ایک ایسے مجذوب سے ہوگیا تھا ۔وہ دراصل جذب وحال میں مست تھا اور رنمل شریف میں تاجدار نوشاہیہ کی پیدائش پر اپنی باطنی پرواز اور کیف کی لذت کو محسوس کررہا تھا۔اتفاق سے وہ مولوی صاحب سے ٹکراگیا تو مولوی صاحب نے جھٹکے سے اسے پرے گرادیا اورپھر اپنے کپڑے جھاڑنے لگا۔

’’اوئے پاگلا،میرے کپڑے گندے کردئیے ہیں تو نے۔۔۔ میں غسل کرکے اور صاف ستھرے کپڑے پہن کر گھر سے نکلا تھا مگر تونے پلید کردئیے ہیں‘‘ مولوی کبھی قمیض کے گھیرے کو ہاتھ سے صاف کرتا اور کبھی دھوتی کو،مجذوب کے جسم پر تھوڑا بہت کیچڑ لگا ہوا تھا جو بے دھیانی سے ٹکرانے سے اسکے کپڑوں کو لگ گیا تھا۔

مجذوب نے گرنے کے بعد مولوی کو دیکھا اور خلاف توقع کھل کھلا کر ہنس دیا ۔اسکی یہ حرکت دیکھ کر مولوی کا غصہ اور بھڑکا۔’’بڑا بے شرم ہے تو ،ایک تو میرے کپڑے پلید کردئیے اور اوپر سے ہنستا ہے‘‘

اسی دوران پاس کھڑے شخص نے مولوی صاحب کو سمجھایا’’ مولوی صاحب جانے دیں ۔وہ تو مجذوب ہے۔ آپ اس پر غصہ کیوں ہورہے ہیں۔خدا نہ کرے ،لیکن اگر وہ بھی غصہ میں آگیا تو بھونچال آجائے گا‘‘

’’ہیں جی،بھونچال کس بات پر آئے گا‘‘ مولوی صاحب نے تیکھی نظروں سے دیکھ کر سوال کیا’’ اسکے پاس ہے کیا جو بھونچال لے آئے گا‘‘

وہ آدمی دبے لفظوں میں بولا’’مولوی صاحب اسکے پاس وہ کچھ ہے جو آپ کے پاس نہیں ۔یہ سرکار حضرت نوشہ پاکؒ کے دربارشریف پر رہتا ہے ،اللہ والوں کا خاص بندہ ہے۔آپ جائیں اپنا کام کریں ،کیوں اسکے ساتھ وقت برباد کرتے ہیں۔اگر آپ کو کپڑے صاف کرنے ہیں یا دھونے ہیں تو سامنے دربار پر چلے جائیں اور نلکے کے۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘

’’کیا مطلب میں اور دربار پر جا کر نلکے کے پانی سے کپڑے دھوؤں ۔لاحول ولاقوۃ‘‘ یہ کہتے ہوئے مولوی نے موقع محل دیکھا نہ کچھ سوچا اور دربار اور صاحبان دربار کے خلاف بولنا شروع کردیا۔ابھی اس کے منہ سے چند لفظ ہی نکالے تھے کہ مجذوب زمین سے اچھلا اور جھٹ سے مولوی کا گریبان پکڑ کر اپنے میلے کچیلے ہاتھوں سے اسکے گریبان سے لیکر چاک تک ہاتھ صاف کردئیے اور بولا’’جا اور پانی سے داغ مٹا کر دکھا‘‘

مولوی کو اسکی حرکت نے دیوانہ بنا دیا اور اس نے زبان کے ساتھ ہاتھ چلانے کی کوشش کی لیکن اس دوران کچھ دوسرے لوگ بیچ میں آگئے اور مجذوب کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کھڑے ہوگئے’’بابا یہ اجنبی مولوی ہے۔معاف کردے اسے‘‘ انہوں نے مولوی صاحب کو بھی سمجھانا چاہا’’مولوی صاحب یہ بابا بہت خاموش رہتا ہے لیکن جب اسے جلال آتا ہے تو تباہی آجاتی ہے۔اصل میں آج حضرت نوشہ پاکؒ کی اولاد پاک میں سے ایک مادر زاد ولی پیدا ہوئے ہیں جس کی یہ خوشی منارہے ،اسی خوشی میں یہ بابا آپ سے ٹکڑا گیا‘‘

لیکن مولوی ہتھے سے اکھڑگیا۔’’مادر زاد ولی کون ہے،یہ سب تم جاہلوں کی اختراع ہے ۔‘‘مولوی کے منہ میں جو آیا بولتا چلا گیا۔

’’میں بتاتا ہوں تجھے مادر زاد ولی کون ہوتا ہے ‘‘ مجذوب بابا نے جلالی لہجے میں اسے مخاطب کیا اور لوگ دیکھتے ہی رہ گئے۔ مجذوب نے مولوی کا دامن پکڑا اور مولوی صاحب کو کھینچتا ہوا دربار شریف میں لے گیا اور جاتے ہی اسکے سر پر ایک چادرڈال دی اورکہا ’’لے مر جانیا ،بیٹھ جا اور دیکھ لے مادر زاد ولی کیا ہوتا ہے‘‘

مجذوب کی زبان سے الفاظ مولوی کی سماعت پر برق وباراں بن کر گونجے ۔کچھ ہی لمحوں بعد مولوی صاحب کے جسم پر لرزہ طاری ہوگیا ۔پھر کچھ دیر بعد اسکا بدن ساکت ہوااور بے جان سا ہوکر ایک طرف لڑھک گیا۔اسکی حالت دیکھ مجذوب کے لبوں پر تبسم رینگ آیا۔اس نے مولوی کے سر سے کپڑاہٹایا تو مولوی ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔

’’میں کدھر ہوں‘‘ وہ ادھر ادھر دیکھنے لگا۔

ضرور پڑھیں: سونا سستا ہوگیا

’’ادھر ہی ہو جہاں بیٹھے تھے ،یہ بتاؤ ہوا کیا ہے‘‘

مولوی صاحب کے حواس بحال ہوئے توبولا’’ہونا کیا ہے۔میں تو اس چاند سے بچے کو دیکھ کر حیران رہ گیا ہوں ۔اللہ کیا شان تھی اس بچے کی ۔اسکی موٹی روشن آنکھیں میرے پر لگی تھیں ۔ننھا سا بچہ جو ابھی پنگھوڑے میں تھا لیکن مجھے مخاطب ہو کر اس نے کہا کہ مولوی الٰہ دین۔ تو دین کا چراغ ہے۔تو روشنی بن کر رہو،لوگوں میں محبت بانٹا کرو،نفرت سے دلوں کو فتح نہیں کیا جاتا۔آپ نے ہمارے مجذوب کا دل توڑا ہے لیکن اس نے پھر بھی آپ پر مہربانی کی ہے‘‘۔مولوی صاحب یہ واقعہ بیان کرکے بولے ’’اس بچے کے الفاظ نے میرا دل دماغ بدل دیا ہے ۔ مجھے لگتا ہے یہ میں نہیں ہوں۔میرے اندر اب کوئی اور بس گیا ہے‘‘

حقیقت بھی یہی تھی اور تاریخ کے اوراق حضرت سیدنانوشہ گنج بخش ؒ کی اس کرامت اور فیض کی گواہ ہے کہ آپؒ لمحوں میں مردہ دلوں کو زندہ کردیتے اور انہیں اللہ کے بندوں کے لئے رحمت بنادیتے ۔آپ کا یہ ورثہ منتقل ہوتا رہا اور وہ بچہ جو مجذوب بابا کی وجہ سے مولوی صاحب کے دل کو بدلنے کا باعث بن گیا وہ حضرت ابوالکمال برق ؒ بیان کئے جاتے ہیں۔آپؒ اپنی نظروں سے سائل کے دل کو کھلی کتاب کی طرح پڑھ لیتے تھے۔آپؒ کی نظربرق رحمت بن جاتی اور بولے بغیرہی تیرنظر سے کام کر جاتے تھے۔

(جاری ہے، اگلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں)

مزید : حضرت سیّد نوشہ گنج بخشؒ