قیامت میں دو منٹ 30 سیکنڈ باقی   

 قیامت میں دو منٹ 30 سیکنڈ باقی   
 قیامت میں دو منٹ 30 سیکنڈ باقی   

  

امریکی سائنسدانوں نےٹرمپ کے عہدہ صدارت سنبھالنے کےچھ دن بعداپنی فرضی قیامت کی گھڑی کو 30سکینڈبڑھادیاہے۔سائنسدانوں کے مطابق اب دنیا کی تباہی3منٹ کے بجائے 2 منٹ تیس سکینڈ کےفاصلےپررہ گئی ہے۔یہ 1953ء(امریکا اور سویت یونین کی باہمی کشمکش ) کے بعد پہلا موقع ہے جب دنیا کی تباہی اس قدر کم فاصلے پر رہ گئی ہے۔اگرچہ اسلام ایسےتخمینوں کا قائل نہیں ہے،کیوں کہ قیامت کا حتمی اور مکمل  علم اللہ کے پاس ہے۔البتہ قیامت کی علامات جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائیں،ان کے مطابق قیامت بہت قریب لگتی ہے۔یہی وجہ ہے ان علامات  سے نہ صرف  نتائج اخذ کیے جاسکتے ہیں،بلکہ لوگوں کو وعظ ونصیحت کرکے آخرت کی تیاری کی ترغیب بھی دی جاسکتی ہے۔اس لیےاس فرضی قیامت کی گھڑی کو قیامت کی بیان کردہ مستند اور مصدقہ تباہی تو قرار نہیں دیا جاسکتا البتہ دنیا میں خوفناک تباہی کو استعارۃً قیامت سےتعبیر کیا جاسکتا ہے۔جیسا کہ ایٹمی سائنسدان1947 سے ایٹمی ہتھیاروں کی بڑھوتری اور مختلف ملکوں کی باہمی دشمنی کو سامنے رکھتے ہوئے دنیا کی تباہی اور موسمیاتی تبدیلی سے لوگوں کو باخبر رکھنے کے لیےقیامت کی  اس فرضی گھڑی کوعلامتی طور پر استعمال کررہے ہیں۔

ستر سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ سائنسدانوں نے کسی ایک شخص(ٹرمپ) کی وجہ سےاپنی فرضی قیامت کی گھڑی  کی سوئی کو آگے بڑھایاہے۔گھڑی میں رات کے بارے بجے کے وقت کو دنیا میں تباہی کا وقت دکھایا گیا ہے۔ ابتدا میں گھڑی کی سوئی کو بارہ بجنے سے سات منٹ پیچھے رکھا گیا۔بعدازاں 1953میں امریکا اور سوویت یونین کے ہائیڈروجن بمبوں کےیکے بعد تجربے کے بعد گھڑی کی سوئی بارہ بجنے سے صرف 2 منٹ کے فاصلے پرکردی گئی۔اس فرضی قیامت کی گھڑی کی تاریخ کے ستر سالوں میں یہی وہ واحد  سال تھا جب  دنیا کی تباہی صرف دو منٹ کے فاصلے پر تھی۔بعدازاں 90 کی دہائی میں گھڑی کی سوئی بارہ بجنے سے 17 منٹ پیچھے چلی گئی۔سائنسدانوں  کے مطابق اس کی وجہ اُس وقت دنیا میں ایٹمی ہتھیاروں کی عدم بڑھوتری اور مختلف ممالک کے درمیان ایٹمی ہتھیاروں  کے استعمال کے خدشے کا نہ ہونا تھا۔لیکن پھر1998ء میں پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کے بعد گھڑی کی سوئی9 منٹ کے فاصلے پر آگئی۔2007 میں جنوبی کوریا اور ایران کی طرف سے ایٹمی ہتھیاروں  کی بھاگ دوڑ   میں شمولیت کی وجہ سے دنیا کی تباہی میں 5 منٹ کا فاصلہ رہ گیا ۔بعدازاں 2015میں بین الاقوامی سیاست کی تبدیلی  اورروس  کی دنیا میں بلندہوتی طاقت کی وجہ سے یہ فاصلہ سکڑ کر 3 منٹ کا رہ گیا۔ٹرمپ کے آنے کے بعد سائنسدانوں نے 26 جنوری 2017 کو گھڑی کی سوئی کو 30 سیکنڈ اور آگے کردیا۔چنانچہ اس وقت قیامت کی فرضی گھڑی کے اعتبار سےبارہ بجنے (دنیا کی تباہی )میں2 منٹ 30 سیکنڈباقی ہیں۔

 Bulletin of atomic scientistsنامی قیامت کی اس فرضی گھڑی کے سائنسدانوں کی تنظیم کے  مطابق اس گھڑی کا مقصد دنیا کی حقیقی تباہی کا وقت بتانا ہرگز نہیں ہے۔بلکہ اس کا مقصد ایٹمی ہتھیاروں اور ان کے حامل ملکوں کی سیاسی صورتحال اور دنیا کے دیگر ملکوں کے باہمی تنازعات کو سامنے رکھ کر ایسے نتائج مرتب کرنا ہے جس سے یہ اندازہ ہو کہ دنیا اس وقت کس قدر حالت جنگ میں ہے اور ایٹمی ہتھیاروں سے دنیاکو کس قدر خطرات لاحق ہیں۔اس تنظیم کے دو اہم عہدیداروں کے مطابق قیامت کی اس گھڑی کی سوئی کو1953کے بعداب اس لیے  بارہ بجے کے قریب کیا گیا ہے کہ  ڈونلڈ ٹرمپ کے آنے کے بعددنیا کو درپیش خطرات میں اضافہ ہوگیا ہے۔اس کی وجہ ٹرمپ کے بیانات اور وہ عزائم ہیں جس سے قوم پرستی کامرض پروان چڑھ رہا ہے اور امریکا کےدنیا کے کئی ممالک کے ساتھ تعلقات میں دراڑیں پڑ رہی ہیں۔اس کے علاوہ پاکستان انڈیا کی ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ میں حالیہ اضافہ،روس کی جدید میزائل اور ایٹمی ہتھیاروں  کی تیاری،جنوبی کوریا اور ایران کے ایٹمی عزائم کو توسیع دینا،روس اور امریکا کے باہمی تعلقات میں تغیروتبدل اور مشرق وسطی میں بین الاقوامی طاقتوں کی باہمی رسہ کشی ایسے کئی مسائل ہیں  جن سے دنیا کو کئی خطرات لاحق ہوگئے ہیں اور اس وقت انسانیت بہت بڑی تباہی کے قریب جا پہنچی ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا واقعی دنیا کی تباہی اس وقت 2 منٹ تیس سیکنڈ کے فاصلے  پر ہے؟"قیامت کی فرضی گھڑی "کے سائنسدانوں  کی اس رپورٹ  کو سامنے رکھ کر دنیا کی موجودہ صورتحال کا تجزیہ کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ واقعی اس وقت دنیا بہت بڑی  تباہی کے دہانے پر جاپہنچی ہے،جہاں ایٹمی ہتھیاروں  کی جنگ سمیت قوم پرستی،نسل پرستی،شدت پسندی  اور مذہبی بالادستی کی جنگ سمیت کئی خوفناک مسائل سےانسانیت کوخطرات لاحق ہوچکے ہیں۔ٹرمپ کے آنے کے بعد ان خطرات میں کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے۔بڑے پیمانے پرایٹمی ہتھیاروں کی  جنگ کے امکانات اگرچہ اتنے واضح نہیں ،لیکن نسل پرستی اور مذہبی بالادستی کی جنگ کے خوفناک بادل  دنیا میں بڑی تیزی سےمنڈھ لارہے ہیں۔نہ صرف ٹرمپ کا نعرہ"سب سے پہلے امریکا"اس کا واضح ثبوت ہے،بلکہ ٹرمپ کاایران،عراق،شام،یمن، لیبیا،صومالیہ اور سوڈان ایسے مسلمان ملکوں کے شہریوں پر امریکا داخلے پر پابندی ،امریکہ میں مقیم مسلمانوں کے خلاف نئی قانون سازی،مشرق وسطی میں عیسائیت کے نام پر صلیبی جنگوں کو طول دینے کی دھمکی ،میکسیکو امریکا بارڈر پر دیوار کی تعمیر اور دنیا بھرسے امریکی سرمایے کو صرف امریکیوں کے لیے مختص کرنے سمیت کئی ایسے اقدامات ہیں  جن سے باآسانی اندازہ لگایا جاسکتاہےکہ ٹرمپ قوم پرستی اور مذہبی بالادستی کے لیے کس قدر متشدد ہے۔ٹرمپ کی اس شدت پسندی سے فائدہ اٹھانے کے لیے اسرائیل  نے بھی قوم پرستی اور مذہبی بالادستی کے لیے پرمارنے شروع کردیے ہیں۔جس کا اندازہ  ٹرمپ کی اسرائیل نوازی کے کئی متوقع اہداف سے لگایاجاسکتاہے۔جن میں امریکی سفارت خانے کوفلسطین کے دارالحکومت  القدس منتقل کرنا اور اسرائیل کی فلسطین کے مغربی کنارے میں آبادکاری کو قانونی سپوٹ فراہم کروانا شامل ہے۔دوسری طرف روس دنیا بھر میں اپنی سیاسی،مذہبی اور قومی بالادستی قائم کرنے  کے لیے امریکا سمیت پورے یورپ کو للکار رہاہے۔جس کااندازہ امریکا کے حالیہ انتخابات میں روس کی مبینہ مداخلت اور برطانیہ سمیت دیگر یورپی ممالک کی امریکا کو روس سے خبردار رہنے ایسے مشوروں سے لگایاجاسکتاہے۔اس کے علاوہ مشرق وسطی ٰبالخصوص شام میں جاری خانہ جنگی میں روس سب سے بڑی طاقت کے طور پر کام کررہاہے،جس نے امریکا سمیت یورپی طاقتوں کو ماضی کی طرح  من مانیاں کرنے اور قدرتی وسائل سے مالا مال خطوں پر بالادستی قائم کرنے کی استعماری  خواہش کو بری طرح کچل کرکے رکھ دیاہے۔یہ سب کچھ روس عیسائیت کی بالادستی کے لیے کررہاہے۔جس کا حلف پیوٹن کئی بار عیسائی  لیڈروں کے سامنے اٹھاچکاہے کہ وہی عیسائیت کا حقیقی نمائندہ ہے اور وہ ضرور عیسائیوں کو ان کا کھویا ہوا مقام دلوا کررہے گا۔

اُدھر پاکستان اور بھارت کے مابین ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ میں گزشتہ  کئی ماہ سے اضافہ دیکھنے میں آرہاہے۔سائنسدانوں کے بقول دنیا پاک بھارت  اسلحہ مقابلہ بازی سے بھی تباہی کے خطرات سے دوچارہوچکی ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ بھارت اپنے خفیہ جنگی عزائم سے خطے کی صورتحال کو کشیدہ کررہاہے۔5ہزار رینج تک مارکرنے والے میزائل بھارت بنارہاہے،جس سے ایشیاء سمیت یورپ تک کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔پاکستان  صرف  ترکی بہ ترکی اپنی دفاعی صلاحیت کو بہتر کرنے کے لیے میزائیل تجربات کررہاہے۔ جب کہ چین اور پاکستان پر دباؤ بڑھانے کے لیے ماضی کی طرح ٹرمپ نے بھی بھارت پر نوازشات شروع کردی ہیں۔عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد بھارتی وزیراعظم کو ٹرمپ دورہ امریکا کی دعوت دے چکے ہیں،جب کہ پاکستانی شہریوں کو امریکا داخلے پر سخت چیکنگ کی دھمکی دی ہے۔جس سے اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ آمریت کاڈان ٹرمپ خطےمیں تباہی کےلیے کس قدرخوفناک عزائم کوپروان چڑھارہاہے۔

ٹرمپ کو ان عزائم سے باز رکھنے اور دنیا کو تباہی سے بچانے کے لیے نہ صرف عالمی طاقتوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ،بلکہ چھوٹے بڑے ملکوں کے درمیان نسلی،لسانی،سیاسی اورمذہبی بنیادوں پر کی جانے والی تفریق کو ختم کرکے مساوات کوبھی فروغ دینا ہوگا۔اس کے علاوہ اقوام متحدہ میں ویٹو پاور ایسے غیرمنصفانہ قوانین میں تبدیلیاں کرنا ہوں گی اورایٹمی ہتھیاروں کے لیے بنائے گئے معیارات پر صحیح معنوں میں عمل کرنا ہوگا۔ورنہ انسانیت کے سروں پر خوفناک تباہی کی تلوار یوں ہی لٹکتی رہی گی اور کسی دن ٹرمپ یااس جیسے کسی اورقوم پرست کی آمریت سے دنیا آنافاناتباہی کا شکار ہوکر خاکستر ہوجائی گی۔

 ۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -