سائنسدانوں کو 2200 سال پرانے شاہی جوڑے کی لاشیں مل گئیں، اور پھر اُن کے جسم پر ایک ایسی چیز نظر آگئی کہ حیرت کے مارے ماہرین بھی چکرا کر رہ گئے، وہ چیز جو آج کل کے نوجوانوں کو بھی بے حد پسند ہے

سائنسدانوں کو 2200 سال پرانے شاہی جوڑے کی لاشیں مل گئیں، اور پھر اُن کے جسم پر ...
سائنسدانوں کو 2200 سال پرانے شاہی جوڑے کی لاشیں مل گئیں، اور پھر اُن کے جسم پر ایک ایسی چیز نظر آگئی کہ حیرت کے مارے ماہرین بھی چکرا کر رہ گئے، وہ چیز جو آج کل کے نوجوانوں کو بھی بے حد پسند ہے

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) سٹالن کے دور میں سوویت یونین کے ماہرین آثار قدیمہ نے سائبیریا میں التائی پہاڑی سلسلے کی برف میں دبا ایک مقبرہ دریافت کیا تھا جس سے ایک مرد اور خاتون کی حنوط شدہ لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔ اب تک یہ لاشیں سینٹ پیٹرزبرگ کے ہرمیتاژ میوژیم میں پڑی رہیں مگر 1949ءسے اب جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ان کا تجزیہ شروع کر دیا گیا ہے جس سے ان کے متعلق انتہائی حیران کن انکشافات سامنے آ رہے ہیں۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں نے ان کے متعلق بتایا ہے کہ یہ ”2200سال قبل اس دنیا میں موجود تھے اور یہ مرد التائی پہاڑی سلسلے کی ایک سلطنت کا بادشاہ جبکہ عورت اس کی ملکہ یا باندی تھی۔ مرد کے بال گھنگریالے تھے جبکہ عورت کی لمبی چوٹی تھی جس کے بال نفاست سے گوندھے ہوئے تھے۔“

عجائب گھر میں پڑا 148 سال پرانا مجسمہ، ماہرین نے ایکسرے کیا تو اندر ایسی چیز موجود کہ دیکھ کر ہر کسی کے پیروں تلے واقعی زمین نکل گئی کیونکہ۔۔۔

رپورٹ کے مطابق ان حنوط شدہ مرد اور عورت دونوں کے جسموں پر ٹیٹو بنے ہوئے تھے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں بھی لوگوں کو اپنے جسم پر نقش و نگار بنوانے کا شوق تھا۔ان کے جسم پر ٹائیگر اور گھوڑے کی تصاویر بنی ہوئی تھیں۔ جب یہ لاشیں دریافت کی گئیں تو ان کے مقبرے سے دو قالین بھی دریافت ہوئے تھے جو بہترین حالت میں تھے اور ان پرقدیم Pazyrykثقافت کے دور کی زندگی کے حوالے سے خوبصورت نقش و نگار بنے ہوئے تھے۔ماہرین کے مطابق یہ دنیا کا قدیم ترین جوڑا ہے جو قالینوں کا مالک بھی تھا۔Pazyryk ثقافت کا تعلق تیسری سے چھٹی صدی قبل مسیح سے ہے، اس سلطنت کے لوگوں میں ماہر سرجن بھی موجود تھے جنہوں نے قدیم یونانی طبی کتابیں پڑھ رکھی تھیں۔ اس دور کو لوہے کا دور بھی کہا جاتا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس