گینگ میں ہر فرمائش پوری ہونے پر نور محمد کو بابا لاڈلہ کہا جانے لگا، قانون کی حاکمیت نہ ہو تو جرائم بڑھتے ہیں: مجیب الرحمان شامی

گینگ میں ہر فرمائش پوری ہونے پر نور محمد کو بابا لاڈلہ کہا جانے لگا، قانون کی ...
گینگ میں ہر فرمائش پوری ہونے پر نور محمد کو بابا لاڈلہ کہا جانے لگا، قانون کی حاکمیت نہ ہو تو جرائم بڑھتے ہیں: مجیب الرحمان شامی

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) لیاری گینگ وار کا اہم ترین کردار نور محمد بابالاڈلہ رینجرز کے ساتھ مقابلے میں مارا گیا ہے جس سے جرم کی دنیا کا ایک باب بند ہوگیا ہے۔ بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں سوال ہے کہ نور محمد کو بابا لاڈلہ کیوں کہا جاتا تھا؟ ۔

نجی ٹی وی دنیا نیوز کے پروگرام نقطہ نظر میں بتایا گیا ہے کہ نور محمد کو پہلے چھوٹو کہا جاتا تھا جس نے بس اڈے سے اپنے جرائم کا آغاز کیا اور آہستہ آہستہ پیپلز امن کمیٹی کے سربراہ رحمان ڈکیت کے قریب آگیا۔ رحمان ڈکیت کے قریب آنے کے بعد پرفارمنس کی بنیاد پر اس کی تمام فرمائشیں پوری کی جاتی تھیں۔ اگر نورمحمد کسی لڑکے کو گینگ میں شامل کرنے یا نکالنے کا کہتا تو اس کی بات مانی جاتی جس کی وجہ سے یہ لاڈلہ مشہور ہو گیا۔

لیاری میں رات گئے رینجرز کی بڑی کارروائی ،بابا لاڈلہ ساتھیوں سمیت مارا گیا

سینئر صحافی و تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب قانون کی حاکمیت نہیں ہوتی، بچوں کو تعلیم نہیں ملتی اور پڑھے لکھوں کو روزگار نہیں ملتا تو جرائم بڑھتے ہیں اور بابا لاڈلہ جیسے کردار جنم لیتے ہیں۔بابا لاڈلہ بہت تھوڑی عمر میں ہی حاجی لالو کے ہتھے چڑھ گیا تھا جس کے بعد اس کی پرورش ہوئی اور آخر کار اپنے انجام کو پہنچ گیا۔

پاک فوج قوم کی توقعات پرپورا اترنے کیلئے تمام چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے،آرمی چیف

پروگرام میں بتایا گیا کہ بابا لاڈلہ لیاری گینگ وار کا سب سے اہم کردار تھا جس کے لڑکوں کی تعداد دوسرے کسی بھی گروپ سے کہیں زیادہ تھی۔ بابا لاڈلہ کی ہلاکت کے بعد اب بھی کراچی کے مختلف علاقوں جیسے لیاری، مواچ گوٹھ، پی آئی بی کالونی وغیرہ میں ایسے گروپ موجود ہیں جن میں ہر لیڈر کے نیچے 40 سے 50 یا اس سے بھی زیادہ لڑکے کام کر رہے ہیں ۔ اگر کسی بھی وقت رینجرز کا آپریشن معطل کیا گیا تو ان لیڈرز میں اتنی طاقت ہے کہ وہ نئے سرے سے کراچی میں اودھم مچا سکیں گے۔

مزید : قومی /اہم خبریں