مسئلہ سوئمنگ پول کی فیسوں کا

مسئلہ سوئمنگ پول کی فیسوں کا
مسئلہ سوئمنگ پول کی فیسوں کا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

جی چاہتا ہے آج پنجاب حکومت کے کھیلوں کے حوالے سے کئے گئے ان اچھے اقدامات کو خراج تحسین پیش کروں جو نوجوانوں کو صحت مندانہ سرگرمیوں کی فراہمی کے لئے شروع کئے گئے ہیں۔

پنجاب سپورٹس بورڈ کی زیر نگرانی جاری سوئمنگ پول کی سہولت ایک عمدہ کاوش ہے جو پنجاب بھر کے نوجوانوں کے لئے بالعموم اور زندہ دلان لاہور کے لئے بالخصوص امورِ صحت کی فراہمی میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔

یہ اچھا منصوبہ ہے جس سے مثبت سرگرمیوں کو یقیناً فروغ حاصل ہوگا لیکن جہاں تک اس پول کی فیس اور دیگر چارجز کا تعلق ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ان کے تعین میں عجلت سے کام لیا گیا ہے اور فیس مقرر کرتے وقت زیادہ سوچ بچار نہیں کی گئی۔

میں اس حوالے سے مکمل تحقیق کے بعد حکومت کے اربابِ بست و کشاد کو تجویز دینا چاہتا ہوں کہ وہ پنجاب سپورٹس بورڈ کے اس سوئمنگ پول کو استعمال کرنے والے سرکاری افراد سے 25ہزار سے ایک لاکھ روپے تک چارج کریں جبکہ پرائیویٹ لوگوں بالخصوص کاروباری حضرات کے لئے فیس ایک لاکھ سے دو لاکھ روپے ہونی چاہئے۔

جہاں تک عام افراد کا تعلق ہے تو وہ شاید اس منصوبے سے مکمل استفادہ نہیں کر پائیں گے کیونکہ اس سوئمنگ پول کی فیس عام شہری کی استطاعت سے باہر ہے اس کا بھی سدِباب کرنے کی ضرورت ہے۔صحافیوں کے لئے بھی یہاں کوئی خصوصی رعائتی پیکج دیا جانا چاہیے ۔

سوئمنگ پول کے دیگر انتظامی امور بھی خاصے قابلِ توجہ ہیں اور ان میں بھی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ سوئمنگ کے لئے آنے والی فیملیز کے لئے یہ ضابطہ بنایا گیا ہے کہ 18سے 20سال تک کے بچے آپ کے ساتھ آسکتے ہیں۔

یہ نظام یورپ میں موجود ہے اور شاید اسی کی نقل یہاں کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ہمارے ہاں چونکہ جوائنٹ فیملی سسٹم ہے اس لئے اس سے ملتا جلتا نظام اس سوئمنگ پول پر اپنانے کی ضرورت ہے۔

ہمارے ہاں جب تک بچے شادی کے بعد اپنا الگ گھر نہ بسالیں انہیں علیحدہ تصور نہیں کیا جاتا اس لئے ہمارا روایتی خاندانی نظام ہی یہاں بہتر نتائج دے سکتا ہے۔ چھوٹے بچوں کے ساتھ ساتھ بڑے بچے بھی خاندان کا حصہ سمجھے جائیں جیسا کہ دیگر کلبوں اور سوئمنگ پول میں ہوتا ہے۔

پنجاب سپورٹس بورڈ نوجوانوں کی غیر نصابی سرگرمیوں کے لئے اور بھی کئی منصوبوں پر عمل پیرا ہے وہ بھی خوب ہیں اور ان کی بھی تعریف کے ساتھ ساتھ پذیرائی بھی ہونی چاہئے۔

نوجوانوں کو منفی معاملات سے دور رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ انہیں کھیل کود کی سرگرمیوں میں زیادہ سے زیادہ مصروف رکھا جائے اور اس سلسلے میں سب سے زیادہ مثبت اور ٹھوس تجویز یہ ہے کہ گلی محلے کی گراؤنڈز اور پارکوں کو بہتر انداز میں منظم کیا جانا چاہئے۔

ہمارے ہاں بیشتر علاقوں میں میدانوں یا پارکوں کو آج کل محض شادی بیاہ کی تقریبات کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اور وہاں گھاس یا بیل بوٹوں کی تزئین و آرائش تو دور کی بات مٹی ہموار کرنا بھی گوارہ نہیں کیا جا رہا۔

کھیل کے میدانوں یا پارکوں کی مناسب دیکھ بھال یا نگہداشت نہ ہونے کے باعث ان میدانوں میں دھول اڑتی دکھائی دیتی ہے جس وجہ سے نوجوان یا بچے یہاں کا رخ کرنے سے کتراتے ہیں۔

کشتی اور کبڈی کے اکھاڑے تو ناپید ہوتے جارہے ہیں، لاہور اور گوجرانوالہ جیسے پہلوانوں کے شہر میں اب لوگ کشتی کے نام سے بھی بے خبر دکھائی دیتے ہیں۔

نوجوانوں کو اگر قومی دھارے میں بہتر انداز سے شامل کرنا مقصود ہے تو انہیں صحت مندانہ سرگرمیوں سے قریب کرنا ہوگا جس کا دوسرے معنوں میں مطلب منفی سرگرمیوں سے دور رکھنا ہے۔ کھیلوں کے میدان آباد کرکے ہسپتالوں اور جیلوں کو ویران کیا جاسکتا ہے۔

قومی اور بین الاقوامی کھیلوں یا ان جیسی دیگر غیر نصابی مثبت سرگرمیوں اور گلی محلے میں سپورٹس ایکٹیویٹی کے درمیان بہت بڑا فرق ہے اسے بھی دور کرنے کی ضرورت ہے۔

ہم فرسٹ کلاس پلیئرز پر توجہ کرتے ہیں لیکن ان پلیئرز کی نرسریاں قائم کرنے سے کتراتے ہیں جس وجہ سے گلی محلے میں کھیل رواج نہیں پا رہے۔ سپورٹس بورڈ کو اس طرف بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

وزارتِ کھیل کے اعلیٰ حکام چھوٹی چھوٹی بستیوں میں کھیلوں کو فروغ دینے اور ٹیلنٹ تلاش کرنے کے لئے ہر ماہ تمام چھوٹی بڑی کھیلوں کے مقابلے کروائے جس سے سپورٹس کی ہر سطح پر پذیرائی ہوگی اور وہ نوجوان جو کھیلوں میں حصہ لینے کے خواہش مند ہیں اپنے علاقوں سے ہی تیاری کے مراحل طے کرکے قومی یا بین الاقوامی سطح پر متعارف ہوسکیں گے۔

مزید : رائے /کالم