کرش پلانٹ سے متعلق حکومت کی نئی پالیسی واپس لینے کا مطالبہ

کرش پلانٹ سے متعلق حکومت کی نئی پالیسی واپس لینے کا مطالبہ

سخاکوٹ(نمائندہ پاکستان)ڈویژنل کرش پلانٹس ایسوسی ایشن ملاکنڈ نے کرش پلانٹس سے متعلق صوبائی حکومت کے نئے پالیسیاں واپس لینے کا مطالبہ کردیا ۔نئے پاکستان کی آڑ میں لوگوں سے روزگار چھیننے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کرش پلانٹس پر پابندی کا فیصلہ واپس نہیں لیا گیا تو پورے ڈویژن میں احتجاج کا سلسلہ شروع کیا جائیگا اور پورا ڈویژن جام کر دینگے ۔ ٹربیونل کے فیصلے کے باوجود محکمہ ماحولیات کرش پلانٹس کو این او سی نہیں دے رہی ہے جس سے کرش پلانٹس مالکان سمیت غریب مزدوروں کو شدید مشکلات کاسامنا ہے ۔کرش پلانٹس سے کسی قسم کی آلودگی نہیں پھیل رہی ۔ پلانٹس بند ش سے لاکھوں مزدور بے روزگار ہوگئے ہیں ۔ صوبائی حکومت کی پالیسیاں واپس لینے کا مطالبہ ڈویژنل کرش پلانٹس ایسوسی ایشن ملاکنڈ کے صدر محمد فیاض ، جنرل سیکرٹری بلال احمد ، ذاکر حسین ، سینئر نائب صدر محمد کبریا ، شاہ فیصل ، گل محمد ، عرفان اﷲاور ارشد علی نے دیگر قائدین کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے کرش پلانٹس کے لئے دو سو میٹر اور ریور بیلٹ سے تین سو میٹر فاصلے کی شرط رکھی ہے جو کہ ملاکنڈ جیسے پہاڑی علاقے میں ممکن ہی نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تین مہینوں سے بند کرش پلانٹس کی وجہ سے ہزاروں مزدور بے روزگار ہو چکے ہیں جو کہ سیلاب ، آپریشن اور زلزلہ سے متاثرہ ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کیساتھ نا انصافی اور ظلم ہے ۔ ڈویژنل صدر محمد فیاض نے کہا کہ عمران خان باہر کے لوگوں سے پاکستان میں روزگار شروع کرنے کا کہتے ہیں لیکن اگر صوبائی حکومت لوگوں کو روزگار نہیں دے سکتے تو کم از کم ان سے روزگار تو نہ چھینیں ۔انہوں نے کہا کہ کرش پلانٹس مالکان بند پلانٹس پر بھی لاکھوں روپے بجلی وغیرہ کے بلز جمع کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پالیسیاں بناتے وقت پلانٹس مالکان کو ایڈوانس میں بتانا چاہئے تھا اور انہیں اعتماد میں لیکر پالیسی بنانی چاہئے تھی ۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے پالیسی پر نظر ثانی نہیں اور پلانٹس کھولنے کے لئے اقدامات نہیں کئے تو پورے ڈویژن میں احتجاجی تحریک شروع کرینگے اور اس وقت تک احتجاج جاری رکھیں گے جب تک ہمارے مسائل حل نہیں کئے جاتے ۔انہوں نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن ٹیکس فری زون ہے لیکن پھر بھی یہاں کے لوگوں پر ٹیکس لگانے کی کوشش کی جارہی ہے جس کے لئے ہم کسی صورت تیار نہیں ہے ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر این او سی رینیول کرانے کے لئے اقدامات کریں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر