سخاکوٹ ،ٹمبر ایسوسی ایشن کا لکڑی سپلائی بندش کیخلاف مظاہرہ

سخاکوٹ ،ٹمبر ایسوسی ایشن کا لکڑی سپلائی بندش کیخلاف مظاہرہ

سخاکوٹ(نمائندہ پاکستان) ٹمبر ایسوسی ایشن درگئی نے درگئی ٹمبر مارکیٹ کو لکڑی کی سپلائی کے بندش کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اور مین چوک میں دھرنے دیا ۔درگئی ٹرک اونرز ایسوسی ایشن اور لیبر یونین درگئی نے بھی ٹمبر ایسوسی ایشن کے ہمراہ احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ لکڑی بندش کی وجہ سے کوہستان اور دیگر علاقوں میں پڑے اربوں روپے کے لکڑی ضائع ہونے اور زندگی بھر کا سرمایہ ڈوبنے کا خدشہ ہے ۔ٹمبر مارکیٹ کو سپلائی بند کرنے سے سینکڑوں لوگ بے روزگار ہو گئے ہیں جبکہ ٹرانسپورٹ مالکان بھی مالی خسار ے کے شکار ہو رہے ہیں ۔مظاہرین جس کی قیادت صدر حاجی آمیر اعظم خان ،جنرل سیکرٹری عبد الشہید پراچہ ، حاجی آمیر زمان خان اور سیکرٹری اطلاعات مکرم خان صبا کر رہے تھیں نے درگئی بازار میں ریلی نکالی اور لکڑی پر پابندی ختم کرنے کے نعرے لگائیں ۔ٹمبر ایسوشی ایشن ، ٹرک اونرز ایسوسی ایشن اور لیبر یونین کے عہدیداروں اور ممبران نے درگئی مین چوک میں دھرنا دیا ۔ احتجاجی دھرنے میں تحصیل ناظم درگئی عبد الرشید بھٹو ، اے این پی کے ضلعی صدر شفیع اﷲ خان ، جماعت اسلامی کے ضلعی آمیر مولانا جمال الدین ، قاضی رشید احمد ، ٹریڈ یونین کے صدر اسفندیار خان، ممبران ضلع کونسل حاجی طیب خان ،سفید خان دریاب اورمسلم لیگ ن کے حاجی ایصال خان نے شرکت کی اور ٹمبر ایسوسی ایشن درگئی کے ممبران سے اظہاریکجہتی کا اظہار کیا ۔اس موقع پر مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے صدر آمیر اعظم خان ، حاجی آمیر زمان ،مکرم خان صبا ، حاجی محمد طیب اور سفید خان سمیت دیگر مقررین نے کہا کہ درگئی ٹمبر مارکیٹ 1986سے قانونی حیثیت رکھنے والی سب سے بڑی ٹمبر منڈی ہے جہاں محکمہ فارسٹ اور تمام قوانین کے عین مطابق کاروبار ہو رہاہے ۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک سے اربوں روپے کی لکڑی منگوائی جارہی ہے اور اربوں ڈالرز باہر منتقل ہو رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں نے بیرون ممالک میں محنت مزدوری کرکے جمع پونجی سے یہاں کاروبار شروع کیا ہے جس سے صوبائی حکومت کو سالانہ سات ارب سے زائد ریونیو ہو رہی ہے لیکن اس کے باوجود ٹمبر سے وابستہ تاجر گوناگوں مسائل سے دوچار ہیں اور کوہستان، داسو اور پٹن سمیت دیگر علاقوں میں ہمارا 35لاکھ فٹ سے زیادہ لکڑی پھنسی ہوئی ہے جس کا سیلاب یا دیگر قدرتی آفات سے ضائع ہونے کا خدشہ ہے ۔ مقررین نے کہا کہ محکمہ فارسٹ کیساتھ بار بار رابطوں پر وہ بتاتے ہیں کہ ہمارے طرف سے سپلائی پر کسی قسم کی بندش نہیں ہے جس پر ہم نے سیکرٹری سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی تحریری درخواستیں دئیے ہیں لیکن تا حال کسی قسم کی شنوائی نہیں ہوئی ہے اس لئے مجبورأ سڑکوں پر نکلنے اور دھرنا دینے کا فیصلہ کیا ہے اُس وقت تک جاری رہے گا جب تک ہمارے مطالبات پورے نہیں ہوتے اور ٹمبر مارکیٹ کو لکڑی کی سپلائی شروع نہیں کی جاتی ۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف حویلیاں کے منڈی میں لکڑی کی سپلائی جاری ہے جبکہ دوسری جانب درگئی ٹمبر مارکیٹ کو ٹی پی نہیں مل رہی ہے جس پر ہم نے لکڑی کے نیلامی میں حصہ لینے سے بائیکاٹ کیا ہے اور یہ بائیکاٹ اُس وقت تک جاری رہے گی جب تک درگئی ٹمبر مارکیٹ کو سپلائی شروع نہیں کی جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ لکڑی بندش سے صوبائی حکومت کو اربوں روپے کانقصان ہورہاہے اور سینکڑوں گھروں کے چولہے بند ہو گئے ہیں لیکن وزیر اعلیٰ اور وزیر خزانہ کو اس نقصان کی کوئی پرواہ نہیں۔انہوں نے کہا کہ ان سب حالات کو دیکھتے ہوئے ہم محکمہ فارسٹ، صوبائی و زیر اعلیٰ،ملاکنڈ کے منتخب ممبران اسمبلی ، سینیٹر اور ڈی سی ملاکنڈسمیت امن جرگہ کے ممبران سے مطالبہ کرتے ہیں کہ درگئی ٹمبر مارکیٹ کو لکڑی کے فوری سپلائی کے لئے اقدامات کریں بصورت دیگر ہمارا احتجاج اور دھرنا جاری رہے گا ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر