لنڈی کوتل کی پر امن فضاء کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائیگی : قبائلی ملکان

لنڈی کوتل کی پر امن فضاء کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائیگی : قبائلی ملکان

خیبر ایجنسی ( بیوروپورٹ)لنڈی کوتل کی پرامن فضاء کو جان بوجھ کر خراب نہ کیا جائے، یہاں کے لوگ پرامن اور محب وطن ہیں، دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں، بے گناہ افراد کو رہا اور نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کو چھوڑ دیا جائے، گھروں پر چھاپے، چادر اور چاردیواری کی پامالی بند نہیں ہوئیں تو اسلام آباد میں دھرنا دینگے ، ظلم و جبراور ناانصافی پر خاموش نہیں رہینگے، آرمی چیف ، گورنر خیبرپختونخوا اور�آئی جی ایف سی نوٹس لیں، لنڈی کوتل بازار میں جلسہ سے سیاسی قائدین اور خوگہ خیل قبیلے کے عمائدین نے خطاب کیا ۔ لنڈی کوتل بازار میں سیاسی جماعتوں کے قائدین اور خوگہ خیل قوم کے عمائدین نے ایک بہت بڑے عوامی احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت لنڈی کوتل میں ظلم و جبر اور بے گناہ افراد کی گرفتاری کا نوٹس لیں ، جماعت اسلامی فاٹا کے رہنماء زرنور آفریدی ، اے این پی کے رہنماء شاہ حسین شنواری ، پی ٹی آئی کے رہنماء عبدالرازق شنواری ، زرقیب شنواری ، اکرام الدین ، سید مقتدر شاہ و دیگر نے لنڈی کوتل بازار میں احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لنڈی کوتل جیسے پرامن علاقے کو شام و فلسطین اور عراق نہ بنائیں مقررین نے کہا کہ اگر ایف سی کے حکام نے بلاجواز انسانوں اور نا ن کسٹم پیڈ گاڑیوں کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ بند نہیں کیا تو اسلام آباد میں اہم دفاتر اور پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنے دینگے اور کسی صورت جاری ظلم اور نا انصافی پر خاموش تماشائی نہیں بنیں گے انہوں نے رات کے وقت گھروں پر چھاپوں ،چادر اور چاردیواری کی پامالی کی مذمت کی اور کہا کہ ساری قوم دہشت گردی کی مذمت کرتی ہے اور لنڈی کوتل کے عوام کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں سیاسی قائدین نے کہا کہ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں سے پیسے لے کر افغانستان سے پاکستان لانے کے لئے مختلف راستوں پر بھاری رشوت لی جاتی ہے اور پھر ان گاڑیوں کو لنڈی کوتل میں پکڑا جاتا ہے جس سے بے روزگاری اور غربت میں اضافہ ہو رہا ہے جس کی مذمت کرتے ہیں اور کہا کہ طورخم میں کاروبار اور تجارت کو برباد اور خراب کر دیا گیا ہے جس سے علاقے میں بے روزگاری بڑھ رہی ہے انہوں نے طورخم سے این ایل سی کو بے دخل کرنے ، قومی آڈے کو بحال کرنے ، گرفتار افراد کو رہا کرنے ، پکڑی گئی گاڑیوں کو چھوڑنے اور سرچ آپریشن کے نام پر چادر اورچاردیواری کے تقدس کو پامال کرنے کا سلسلہ بند کرنے کے مطالبات کئے اور آرمی چیف، آئی جی ایف سی اور گورنر خیبر پختون خوا سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہو ئے کہا کہ لنڈی کوتل کی پرامن فضاء کو خراب نہ کیا جائے اور لوگوں کی تذلیل کو روکا جائے انہوں نے منتخب نمائندوں اور پولیٹیکل انتظامیہ کی خاموشی اور بے بسی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ 6 فروری کو پھر احتجاجی جلسہ کرینگے مظاہرین نے با چا خان چوک سے پریس کلب تک جلوس بھی نکالا اور سخت نعرے بازی کی۔

مزید : پشاورصفحہ آخر