علاقہ کہون کے عوام پانی کی بوند بوند کو ترس گئے،اہلیان علاقہ

علاقہ کہون کے عوام پانی کی بوند بوند کو ترس گئے،اہلیان علاقہ

چوآسیدن شاہ (نمائندہ پاکستان)چوآسیدن شاہ کے شہریوں اور علاقہ کہون کے مکینوں نے جن میں محمد سلیم ، آفتاب حسین ،حسنین عاطف ، محمدارشد ، محمد بنارس، ملک اللہ داد، زمان خان ، عبداللہ ملک ،حزائم خان ، راجہ منور ،ضمیرالحسن،یعقوب احمد ،شان محمد ،اللہ یار، دین محمد ، خیال خان ، رمیض ملک،اویس محمود،تاج علی نے چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی جانب سے کٹاس راج اور علاقہ کہون میں پانی کی شدید قلت پر ازخود نوٹس پر فیصلہ سناتے ہو ئے فوری طور پر سیمنٹ فیکٹریوں میں قائم واٹر ٹینک اور پانی کے ہیوی بور فوری ختم کرنے اور سیمنٹ فیکٹریوں کو اپنے پانی کا بندوبست کرنے کا فیصلہ دینے پر خراج تحسین پیش کیا ہے اور کہا ہے کہعلاقہ کہون کے عوام پانی کی بوند بوند کو ترس گئے زیر زمین پانی کی سطح خطر ناک حد تک کم ہونے سے شریں کٹاس راج تالاب بھی خشک ہوگیا جبکہ اس علاقہ کا حسن بھی پانی نہ ہونے سے سرسبز وادی بنجر ہونا شروع ہوگئی ہے جبکہ یہ علاقہ نایاب جانوروں کا مسکن ہے جو کہ پانی اور سبزہ ختم ہو نے سے مر رہے ہیں جبکہ قیمتی پھلدار درخت بھی پانی نہ ہونے کی وجہ سے سٹر رہے ہیں علاقہ کہون میں موجودسیمنٹ فیکٹریوں نے علاقہ کہون کوکربلا بنا دیا بیسٹ وے سیمنٹ کمپنی اورڈی جی کمپنی نے دریا سے پانی لانے کی بجائے علاقہ کہون کے پانی پر قبضہ جمالیا ہے ہیوی پمپینگ اور ایک سو سے زائد پانی والے بوروں سے سیمنٹ فیکٹریاں اپنی ضرورت کا پانی استعمال میں لا رہی ہیں جس سے علاقہ کہون میں پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے انھوں نے چیف جسٹس آف پاکستانمیاں ثاقب نثارسے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سیمنٹ فیکٹریوں سے علاقہ کہون کے پانی پر کیا جانے والا قبضہ ختم کرائیں اور سیمنٹ فیکٹریوں کو اپنی ضرورت کا پانی دریاء سے لانے کے لئے پابند کریں کیونکہ سیمنٹ فیکٹریاں ایک پوری نہر کا پانی استعمال میں لارہی ہیں ورنہ پورا علاقہ سراپا احتجاج بن جائے گا ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر