میٹرک پاس کلرک نے جب بتایا کہ اس نے لیڈی ڈاکٹر سے شادی کے لئے اس بابے سے رابطہ کیا تھاتو مجھے چارسوچالیس وولٹ کا جھٹکا لگا کیونکہ ۔۔۔

میٹرک پاس کلرک نے جب بتایا کہ اس نے لیڈی ڈاکٹر سے شادی کے لئے اس بابے سے رابطہ ...
میٹرک پاس کلرک نے جب بتایا کہ اس نے لیڈی ڈاکٹر سے شادی کے لئے اس بابے سے رابطہ کیا تھاتو مجھے چارسوچالیس وولٹ کا جھٹکا لگا کیونکہ ۔۔۔

  

تحریر: پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

اللہ کے بندوں کی دعا میں بڑی تاثیر ہوتی ہے،وہ نگاہ کرتے ہیں تو انسان کامرجھایا ہوا مقدر کھل جاتا ہے۔ ایک روز میرے ایک پروفیسر دوست نے فون کیا کہ اسکا ایک کزن ہے جس کی نئی نئی شادی ہوئی ہے۔ وہ اپنی نئی نویلی دلہن کے ساتھ مری آنا چاہتا ہے۔ وہ میاں بیوی میرے پاس آ گئے۔ دونوں کو دیکھ کر مجھے چارسوچالیس وولٹ کا جھٹکا لگا، بیوی بہت ہی نوجوان اور خوبصورت اور میاں صاحب انتہائی عام شکل و صورت کے تھے۔ جب مجھے یہ پتہ چلا کہ خاوند صاحب میٹرک پاس اور کلرک ہیں اور دلہن ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں تو میری حیرت سو گنا بڑھ گئی۔ سب سے اہم بات میاں بیوی بہت خوش تھے اور باتوں کے دوران پتہ چلا کہ دلہن بہت خوش ہے اور اسے اس شادی کا کوئی ملال یا پچھتاوا نہیں ہے بلکہ بیوی کے رویے سے لگ رہا تھا کہ وہ بہت خوش ہے کیونکہ دلہن کے چہرے پر قوس قزح کے رنگ بکھرے تھے۔ اس کی ہر ادا سے خوشی اور سرشاری چھلک رہی تھی۔

شاید میں بھی خاوند کے مقدر پر رشک یا حسد کرنے لگ تھا۔ میں نے دونوں کو الگ کمرے دے دئیے کیونکہ ان دنوں موبائل فون ابھی نیا نیا تھا۔ عام لوگوں کے پاس ابھی موبائل فون نہیں تھے۔ خاوند صاحب رات کو میرے کمرے میں آئے کہ پروفیسر صاحب میں نے اپنے مرشد پاک کو فون کرنا ہے کیونکہ باہر بہت بارش ہو رہی ہے اس لئے میں مال روڈ پر نہیں جا سکتا ۔ جب میں نے نمبر ملا کر دیا تو وہ کسی سے بات کرنے لگا کہ بابا جی کو جا کر بتا دینا ہم خیریت سے پہنچ گئے ہیں اور آپ کی دعاؤں کے طلبگار ہیں۔

بابا جی کے نام پر میرے کان بھی کھڑے ہو چکے تھے۔ اس کی جب بات ختم ہوئی تو میں نے پوچھا’’یار کیا بابا جی کے گھر فون نہیں لگا آپ ڈائریکٹ فون کر لیں ناں‘‘۔

وہ بولا’’ وہ درویش آدمی ہیں اور ابھی ان کے گاؤں میں فون لگا بھی نہیں‘‘ ان دنوں میں بھی بابوں کی تلاش میں تھا۔ اس لئے خاوند صاحب سے بابا جی کے بارے میں پوچھا تو وہ تو پہلے ہی بابا جی کے نشے میں تھا ۔ بابا جی کے واقعات اور کرامات بتانا شروع کر دیں اور بولا۔’’ پروفیسر صاحب! ایک کلرک سے ڈاکٹر لڑکی کبھی شادی کر سکتی ہے بھلا، یہ صرف بابا جی کی دعاؤں سے ہی ممکن ہوا ہے، ورنہ میں کہاں اور ڈاکٹر لڑکی کہاں، یہ صرف بابا جی کا کمال ہے‘‘ میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ میں ایک ہسپتال میں کلرک ہوں۔ یہ میری بیگم نئی نئی میرے ہسپتال میں آئی۔ میری ڈیوٹی اس کے ساتھ لگی۔ یہ بہت مغرور اور خودسر ڈاکٹر تھی۔ میں نے غلطی سے ایک دن مذاق کر دیا۔ اس نے تو آسمان سر پر اٹھا لیا اور مجھے بہت زیادہ تنگ کرنے لگی۔ میں نے معافی بھی مانگی لیکن مجھے معافی نہ ملی یہاں تک کہ میری نوکری بھی خطرے میں پڑ گئی۔ لہٰذا میں نے کئی سفارشیں بھی کرائیں لیکن ڈاکٹر صاحبہ کا غصہ ٹھنڈا نہ ہوا۔ لہٰذا اب میں تعویذ گنڈے، دم جھاڑے کی طرف آ گیا اور بابوں کے پاس جانا شروع ہو گیا۔ اسی دوران میرا ایک کزن جو بابا جی کا پرانا مرید ہے۔ مجھے بہت پریشان دیکھ کر بابا اللہ دتہ صاحب کے پاس لے گیا۔ اس طرح میری بابا اللہ دتہ صاحب سے پہلی ملاقات ہوئی۔ بابا جی نے مجھے دعا دی اور کہاکہ ایک دن یہی ڈاکٹرانی تجھ سے بیاہ کرے گی۔خدا کی کرنی ایسی ہوئی کہ ڈاکٹرانی صاحبہ نفرت اور غصہ چھوڑ کر ایسی مہربان ہوئیں کہ اللہ تعالٰی نے ان سے شادی کرا دی۔ اگر کوئی بیوی ناراض ہو کر بیٹھ جائے یا شوہر تنگ کرتا ہو تو بابا جی کے عمل سے مسئلہ حل ہو جاتا ہے اور بہت سارے گھر اجڑنے سے بچ گئے۔ بعد میں جب میں ان بابا جی سے ملا تو مجھے واقعی اس بات پر یقین کرنا پڑا کہ اللہ والوں کی دعا رنگ لاتی ہے۔وہ ذرے کو آفتاب بنادیتے ہیں۔بے شک اللہ اپنے بندوں کی دعا کی لاج رکھتا ہے۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : مافوق الفطرت