معروف کالم نگار عطاءالحق قاسمی کو بطور پی ٹی وی چیئرمین ماہانہ کتنے کروڑ تنخواہ ملتی تھی؟ عدالت میں ایسا انکشاف کہ پاکستانیوں کے پیروں تلے واقعی زمین نکل گئی

معروف کالم نگار عطاءالحق قاسمی کو بطور پی ٹی وی چیئرمین ماہانہ کتنے کروڑ ...
معروف کالم نگار عطاءالحق قاسمی کو بطور پی ٹی وی چیئرمین ماہانہ کتنے کروڑ تنخواہ ملتی تھی؟ عدالت میں ایسا انکشاف کہ پاکستانیوں کے پیروں تلے واقعی زمین نکل گئی

  

اسلام آبا د(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ نے سابق ایم ڈی پی ٹی وی کی تعیناتی کے ازخود نوٹس کیس میں سابق وفاقی وزیر پرویز رشید، سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ، عطاءالحق قاسمی ، سابق سیکرٹری ندیم حسن آصف، صبا محسن اور فواد حسن فواد کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تحریری جواب طلب کر لیا ہے اور سماعت 12 فروری تک ملتوی کر دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔ملائکہ اروڑا کی بہن امریتا اروڑا نے اپنی 40 ویں سالگرہ کے موقع پر دنیا کا فحش ترین کیک انتہائی شرمناک طریقے سے کاٹ لیا، سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا ہو گیا

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ایک کروڑ روپے ماہانہ عطاءالحق قاسمی پر خرچ ہوا ہے اور 2 سال میں انہیں 27 کروڑ روپے ادا کئے گئے۔ ان کی تعیناتی سابق وزیراعظم نواز شریف نے کی تھی تو کیوں نہ انہیں نوٹس جاری کیا جائے اور اگر تعیناتی غیر قانونی ہو تو یہ رقم بھی ان سے وصول کی جائے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں سابق ایم ڈی پی ٹی وی کی تعیناتی کے ازخود نوٹس کی سماعت ہوئی جس دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہ عطاءالحق قاسمی کا میڈیا سے کیا تعلق تھا جس پر سیکرٹری اطلاعات نے بتایا کہ عطاءالحق قاسمی ڈرامے لکھتے تھے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے توتعیناتی کا ساراعمل ہی ڈرامہ لگ رہا ہے۔

عطاءالحق قاسمی کودوسال میں 27کروڑروپے اداکئے گئے جبکہ سیکرٹری اطلاعات عطاءالحق قاسمی کی تعیناتی پر مطمئن نہیں کر سکے، تعیناتی غیر قانونی ہوئی تو ذمہ داران سے 27کروڑ وصول کئے جائیں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عطاءالحق قاسمی کی تعیناتی سابق وزیراعظم نوازشریف نے کی تھی تو کیوں نہ نواز شریف کو نوٹس جاری کر کے 27 کروڑ روپے وصول کئے جائیں۔

عدالت نے سیکرٹری اطلاعات کو ہر پیشی پر حاضری یقینی بنانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ آپ کو تبدیل کر دیا جائے لیکن اگر تبدیل کر بھی دیا گیا تو پیشی پر بلاﺅں گا۔ ایک کروڑ روپے ماہانہ عطاءالحق قاسمی پر خرچ ہوا جبکہ دو سال کے دوران عطاءالحق قاسمی پر27کروڑ خرچ ہوئے،یہ ملک غریب لوگوں کا ہے اور ان کے ٹیکس کا پیسہ تھا۔ کیا یہ پیسے دینے والا وزیراعظم ہے؟ کیوں نہ سابق وزیراعظم نوازشریف کو نوٹس جاری کیا جائے اور اگر تعیناتی غیر قانونی ہو تو یہ رقم سابق وزیراعظم سے وصول کی جائے۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔مولانا طارق جمیل پنجاب میڈیکل کالج فیصل آباد میں خطاب کر رہے تھے کہ زلزلہ آ گیا، پھر انہوں نے کیا کیا؟ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی

چیف جسٹس نے کہا کہ جوڈیشل ایکٹو زم کو برا کہہ کر بند کرنے کی بات کی جا رہی ہے، کاشف عباسی نے بھی رات کوکہا جوڈیشل ایکٹوازم نہیں ہوناچاہیے۔ انہوں نے کورٹ روم میں بیٹھے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر میں اختیارات سے تجاوز کروں تو مجھے بتایا جائے۔

سپریم کورٹ نے سابق وفاقی وزیرپرویزرشید، سابق سیکرٹری اطلاعات صبامحسن رضا، سابق سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ، وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد، سابق سیکرٹری ندیم حسن آصف اور عطاءالحق قاسمی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 12 فروری تک تحریری جواب طلب کر لیا ہے۔ سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ بتایا جائے کیا عطاالحق قاسمی کی تعیناتی قانونی تھی؟ اگرتعیناتی غیر قانونی ثابت ہوئی ذمہ داروں کو رقم واپس کرنا ہو گی۔ کیس کی سماعت 12 فروری تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

مزید : اہم خبریں /قومی /علاقائی /اسلام آباد /پنجاب /لاہور