”آج کے اخبار میں یہ سرخی لگی ہے کہ۔۔۔“ روزنامہ جنگ نے اپنے خبار میں خیبرپختونخواہ پولیس کے بارے میں ایسی کیا بات لکھ دی کہ حامد میر بھی بول پڑے، ایسی بات کہہ دی کہ ہر پاکستانی داد دینے پر مجبور ہو گیا

”آج کے اخبار میں یہ سرخی لگی ہے کہ۔۔۔“ روزنامہ جنگ نے اپنے خبار میں ...
”آج کے اخبار میں یہ سرخی لگی ہے کہ۔۔۔“ روزنامہ جنگ نے اپنے خبار میں خیبرپختونخواہ پولیس کے بارے میں ایسی کیا بات لکھ دی کہ حامد میر بھی بول پڑے، ایسی بات کہہ دی کہ ہر پاکستانی داد دینے پر مجبور ہو گیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) معروف صحافی و تجزیہ کار حامد میر نے روزنامہ جنگ میں خیبرپختونخواہ پولیس سے متعلق لگنے والی خبر پر ایسی بات کہہ دی کہ ہر پاکستانی انہیں داد دینے پر مجبور ہو گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔ملائکہ اروڑا کی بہن امریتا اروڑا نے اپنی 40 ویں سالگرہ کے موقع پر دنیا کا فحش ترین کیک انتہائی شرمناک طریقے سے کاٹ لیا، سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا ہو گیا

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے حامد میر نے کہا کہ ”آج کل پولیس پر تنقید ہو رہی ہے اور تین حالیہ واقعات نے پولیس پر تنقید کے سیلاب کو جنم دیا ہے۔ پہلا واقعہ قصور کا ہے جہاں زینب قتل کیس کے باعث پنجاب پولیس پر تنقید ہو رہی ہے۔ اسی طرح خیبرپختونخواہ میں عاصمہ کا قاتل نہیں پکڑا گیا جس کے باعث خیبرپختونخواہ پولیس پر تنقید ہو ریہ ہے جبکہ سندھ میں نقیب اللہ محسود کے غیر عدالتی قتل میں راﺅ انوار کا نام سامنے آنے کے باعث سندھ پولیس پر تنقید کی جا رہی ہے۔

پولیس پر تنقید تو ضرور کرنی چاہئے لیکن جس طرح کے ریمارکس آ رہے ہیں اور اس پر جس طرح کی خبریں لگ رہی ہیں، ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ گزشتہ روز چیف جسٹس آف پاکستان کے ریمارکس تھے جو آج کے اخبارات میں شائع ہوئے ہیں کہ خیبرپختونخواہ پولیس نااہل۔۔۔ پہلی بات تو یہ کہ اگر ریمارکس آئیں گے تو خبر تو لگے گی لیکن اس قسم کے ریمارکس پر جس انداز میں ہم خبریں بنا رہے ہیں اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پولیس پر تنقید نہیں ہو رہی بلکہ اس کی حوصلہ شکنی کی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔مولانا طارق جمیل پنجاب میڈیکل کالج فیصل آباد میں خطاب کر رہے تھے کہ زلزلہ آ گیا، پھر انہوں نے کیا کیا؟ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی

پاکستان کے چاروں صوبوں کے پولیس افسروں اور جوانوں کے شہداءکی تعداد سامنے رکھیں تو یہ پانچ ہزار سے زیادہ بنتی ہے۔ میرے پاس جو اعداد و شمار ہیں ان کے مطابق پنجاب پولیس کے شہداءکی تعداد 1400 سے زیادہ ہے۔ خیبرپختونخواہ پولیس کے پچھلے چند سال کے دوران 1500 افسران اور جوان شہید ہوئے۔ سندھ پولیس کے شہداءکی تعداد 2041 ہے اور بلوچستان پولیس کے شہداءکی تعداد 359 ہے جس میں زیادہ تر اعلیٰ پولیس افسران شامل ہیں۔ میں کہنا صرف یہ چاہتا ہوں کہ تنقید ضرور کریں مگر پولیس کی حوصلہ شکنی مت کریں۔“

۔۔۔ویڈیو دیکھیں۔۔۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /علاقائی /اسلام آباد /بلوچستان /کوئٹہ /پنجاب /لاہور /خیبرپختون خواہ /پشاور /سندھ /کراچی