حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ..۔ چوتھی قسط

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ..۔ چوتھی قسط
حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ..۔ چوتھی قسط

  

میں، بلال، اس سارے قضأ سے الگ تھا۔ میرا کسی بات سے کوئی سروکار ہی نہیں تھا اور ہو بھی کیا سکتا تھا۔ مجھے تو خوامخواہ بیچ میں گھسیٹ لیا گیا تھا۔

میں غلام ابنِ غلام! مجھے کیا کہ کون کس کے برابر ہے یا نہیں ہے۔ میں تو کچھ تھا ہی نہیں۔ نہ کسی کے برابر، نہ بہتر، نہ فروتر۔ میری نظر میں میرا کوئی وجود ہوتا تو میں اپنے آپ کو کسی پیمانے سے ناپتا بھی! میں تو تھا ہی نہیں۔ اُمیہ کے الفاظ میں غصہ بھی تھا، طنز بھی اور اسی طنزیہ لہجے میں یہ سوال پوچھتے ہوئے وہ اپنا ہاتھ ایک پیالے کی سی شکل میں عمار کے منہ کے پاس لے گیا، بالکل مسخروں کے سے انداز میں۔ صورتِ حال مختلف ہوتی تو شاید مجھے اس پر ہنسی آ جاتی۔ امیہ کو جواب کا انتظار نہیں تھا۔ اُسے جواب کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ ایسی بات کا جواب ہو بھی کیا سکتا تھا لیکن عمار کی عاقبت نااندیشی کہ وہ اس سوال کا بھی جواب دینے کو تیار ہو گیا:

’’محمدؐ کہتے ہیں کہ اللہ کے نزدیک تمام انسان برابر ہیں، خواہ وہ کسی نسل، کسی رنگ کے ہوں‘‘

موؤن رسولﷺ کی ایمان افروز داستان حیات ..۔ تیسری قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

محفل پر سناٹا چھا گیا۔ پھر میں نے اپنے آقا کی آواز سنی:

’’بلال!‘‘

مجھے کیا خبر تھی کہ اس دفعہ میرا نام اس لئے پکارا جا رہا ہے کہ مجھے ایک زندگی سے دوسری زندگی ملنے والی تھی۔ بس اللہ ہی ہے جو جانتا ہے کہ اگلے لمحے کیا ہونے والا ہے۔ ایک ثانئے میں، میں تعمیلِ حکم کے لئے حاضر تھا۔

’’بلال! اس کو بتاؤ کہ تم میں اور ایک رئیسِ مکہّ میں کیا فرق ہے؟ یہ لو اور مار مار کے اس کا چہرہ مسخ کر دو تاکہ اسے سبق مل جائے‘‘۔

یہ کہہ کر اُس نے کوڑا میرے ہاتھ میں تھما دیا۔ کیسا واضح حکم تھا۔ کتنا مختصر اور جامع۔ میں آج تک ان فقروں کی جامعیت کا احاطہ نہیں کر سکا۔ سوچ میں ظلم کی انتہا مگر لفظ کتنے تھوڑے سے، کیسے گنے چنے! مقصد میں تشدد کی لامتناہی گنجائش مگر فقرے کیسے برجستہ، نپے تلے! عمار نے زمین پر اوندھے پڑے پڑے سر اٹھا کر اپنا چہرہ مجھے سزا کے لئے پیش کر دیا۔

اگلے لمحے کیا ہوا، یہ میں شاید کبھی بیان نہ کر سکوں۔ آج بھی جب میں اُس لمحے کا تصور کرتا ہوں تو میرے کانوں میں گھنٹیاں سی بجنے لگتی ہیں اور مجھ پر سکتہ سا طاری ہونے لگتا ہے۔

میرا خیال ہے کہ شاید وہ لمحہ اپنے وجود کی پوری وسعتوں اور پہنائیوں کے ساتھ میرے ذہن میں محفوظ ہی نہیں ہے۔ اُمیہ کی آنکھیں جو غصے سے باہر نکلی پڑتی تھیں اور ابوسفیان کا نصف چہرہ، کیونکہ اس نے نظریں دوسری طرف پھیر لی تھیں۔ ابوسفیان سزا دینے کا قائل تھا مگر اُس میں براہِ راست شرکت کو وہ اپنے منصب سے گری ہوئی بات سمجھتا تھا لیکن عمار صاف میری نظروں کے سامنے تھا۔ وہ ٹکٹکی باندھے مجھے دیکھ رہا تھا۔ اس کی نظروں میں پاکیزگی تھی، سکون تھا، بے خوفی تھی۔ سرتاپا مجبور مگر پُرعزم! میں نے اس کی آنکھوں میں ایک ایسی قوت دیکھی جو مجھے اپنے غلامی کے بندھن سے بھی زیادہ طاقتور محسوس ہوئی۔ ٹھیک اس لمحے امیہ کا غلام بلال، کسی اور کا غلام ہو گیا۔

میں نے کوڑا ہاتھ سے گرا دیا۔

سب نے بیک وقت ایک آواز کے ساتھ اندر کی طرف سانس کھینچا۔ منہ کھلے ہوئے تھے۔ چہرے حیرت زدہ! جو انہوں نے دیکھا تھا، ان کی سمجھ میں آ گیا تھا۔ جو میں نے کیا تھا، مجھے معلوم تھا۔ ایک غلام باغی ہو گیا تھا۔ عمار نے گھسٹتے گھسٹتے ، ہاتھ بڑھا کر کوڑے کو پکڑنے کی کوشش کی اور بالآخر کامیاب ہو گیا۔ کوڑا پکڑ کر اُس نے اپنے لرزتے ہاتھوں سے دوبارہ میرے ہاتھ میں دے دیا۔ وہ ہولے ہولے کچھ کہہ بھی رہا تھا۔ اُس کی سرگوشی میرے دماغ میں چیخوں کی طرح گونج رہی تھی۔

’’بلال! جو یہ کہتے ہیں کرو! بلال! یہ تمہیں مار ڈالیں گے۔‘‘

لیکن اس بار جو میں نے کوڑا نیچے پھینکا تو میرے اوپر جیسے نور کی پھوار پڑ گئی۔ میں نے دیکھا کہ ابوسفیان نے اُمیہ کو اشارہ کیا۔ میں نے ہند کی ہلکی سی ہنسی سنی اور مڑ کر اس کی طرف دیکھا۔ میں ہند کو ساری زندگی سے جانتا تھا لیکن اُس کے چہرے کی طرف دیکھنے کی جرأت مجھے کبھی نہیں ہوئی تھی۔ بس اُس کی کچھ جھلکیاں تھیں میرے ذہن میں، جن کو جوڑ کر میں اُنہیں ہند کی شخصیت سے تعبیر کر لیا کر تا تھا۔ مجھے یقین نہیں آتا تھا کہ آج میں نے اُسے سر سے پاؤں تک دیکھ لیا ہے۔

اُمیہ کا چہرہ ٹھہرا ہوا تھا۔ وہ غیر معمولی طور پر چپ چپ بھی تھا۔ پھر ایک دم میری طرف دیکھا اور کہنے لگا:

’’بلال اگر تمہیں یہ زعم ہے کہ تم انسان ہو اور یہ کہ تمہیں بھی خدا رکھنے کا حق ہے تو کان کھول کر سن لو، تمہارے خدا وہی ہوں گے جو تمہارے آقا کے خدا ہیں۔ کوئی نیا خدا میرے غلام خانے میں نہیں لایا جا سکتا‘‘۔ پھر اُمیہ نے باہر نظر دوڑائی اور کہا:

’’تمہاری اصلاح کرنی پڑے گی۔ لیکن آج نہیں۔ میں سورج کے نصف النہار پر آنے کا انتظار کروں گا۔ آج وہ ذرا ڈھل گیا ہے۔‘‘

پتہ نہیں کدھر سے اشارہ ہوا لیکن اگلے ہی لمحے میں نے اپنے بازوؤں اور گردن کے گرد رسیوں کی گرفت محسوس کی اور آناً فاناً انہوں نے مجھے جس طرح چاہا توڑا، مروڑا، جھنجھوڑا اور جکڑ کر رکھ دیا۔ میں غلام تھا۔ کبھی نافرمانی کا تصور بھی نہیں کیا تھا لیکن اُس وقت میں ضررت سے زیادہ فرماں بردار بنا ہوا تھا۔

وہ مجھے جس طرف موڑتے مڑ جاتا، جس طرح بٹھاتے بیٹھ جاتا، جب کہتے کھڑا ہو جاتا، باندھنے لگتے تو میں خود ہاتھ پاؤں آگے بڑھا دیتا۔ اچھی طرح مشکیں کس کے انہوں نے مجھے کمرے سے باہر دھکیلا اور دھکا دے کر غلام خانے کے فرش پر گرا دیا۔ کل کے سورج کے انتظار میں!(جاری ہے )

موؤن رسولﷺ کی ایمان افروز داستان حیات ..۔ پانچویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /حضرت بلال