وہ حکمران جو مرا تو اس کے ساتھ 2000 زندہ فوجیوں کو بھی اس کی قبر میں دفنا دیا گیاتاکہ۔۔۔ یہ حرکت کس لئے کی؟ جان کر آپ بھی حیرت کے مارے دنگ رہ جائیں گے

وہ حکمران جو مرا تو اس کے ساتھ 2000 زندہ فوجیوں کو بھی اس کی قبر میں دفنا دیا ...
وہ حکمران جو مرا تو اس کے ساتھ 2000 زندہ فوجیوں کو بھی اس کی قبر میں دفنا دیا گیاتاکہ۔۔۔ یہ حرکت کس لئے کی؟ جان کر آپ بھی حیرت کے مارے دنگ رہ جائیں گے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک)1974ءمیں چین کے صوبہ شانزی میں 6بھائیوں نے اپنی ملکیتی زمین پر ایک کنواں کھودنا شروع کیا۔ کھدائی کے دوران جب وہ ذرا گہرائی میں گئے تو ایک سر برآمد ہوا، اور مزید کھدائی کرنے پر ایک پورامجسمہ برآمد ہو گیا۔ جوں جوں وہ کھدائی کرتے گئے ایسے ہی مجسمے برآمد ہوتے چلے گئے۔ یہ بات جنگل کی آگ کی طرح پھیلی اور چین کے ماہرین آثار قدیمہ وہاں پہنچ گئے جنہوں نے ان مجسموں کے متعلق انتہائی حیران کن انکشاف کیا۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے بتایا کہ ”یہ ٹیراکوٹا آرمی کے سپاہی ہیں جو تیسری صدی قبل مسیح میں چین کے پہلے شہنشاہ چن شی ہوانگ کے ساتھ دفن کیے گئے تھے اور انہیں بادشاہ کے ساتھ دفن کرنے کا مقصد یہ تھا کہ موت کے بعد آئندہ زندگی میں یہ بادشاہ کی حفاظت کریں گے۔“ مقبرے سے کئی مردوں کی باقیات بھی برآمد ہوئی ہیں ۔ جس پر ماہرین نے امکان ظاہر کیا ہے کہ ممکنہ طور پر مجسموں کے ساتھ ساتھ زندہ فوجی بھی بادشاہ کے ساتھ دفن کیے گئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق اب تک اس مقام سے ٹیراکوٹا آرمی کے 2000فوجی برآمد ہو چکے ہیں۔ ’ٹیراکوٹا‘ چینی زبان میں مٹی اور گارے کو کہتے ہیں، تاہم فوجیوں کے یہ مجسمے پیتل اور دوسری دھاتوں کے بنے ہوئے ہیں جو اب تک بہترین حالت میں موجود تھے۔ انہیں چن شی ہوانگ نے اپنی زندگی میں بنوایا تھا تاکہ اس کے ساتھ دفن کیے جا سکیں۔چن شی ہوانگ کے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ ”اس کا خیال تھا کہ وہ اس دنیا سے جانے کے بعد بھی بادشاہ رہے گا۔ اس کو یقین تھا کہ مرنے کے بعد کی زندگی بھی بالکل اسی طرح کی ہو گی جیسی وہ دنیا میں گزار رہا تھا۔چنانچہ اسے اس مابعد زندگی میں بھی فوجیوں اور خادمین کی ضرورت ہو گی۔ یہی وجہ تھی کہ اس نے ٹیراکوٹا آرمی بنوائی۔“

رپورٹ کے مطابق اس جگہ سے چن شی ہوانگ کا مقبرہ بھی دریافت ہو چکا ہے اور اس کے مقبرے میں سے 20خواتین کی باقیات بھی برآمد ہوئی ہیں جن کی عمریں 30کے لگ بھگ تھیں۔ ان کے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ خواتین بادشاہ کی باندیاں تھیں اور ممکنہ طور پر انہیں بادشاہ کے ساتھ زندہ دفن کر دیا گیا تھا تاکہ وہ اگلی زندگی میں ان کے ساتھ تعلق استوار کر سکے۔ماہرین نے یہ بھی بتایا ہے کہ جن سینکڑوں کاریگروں اور مزدوروں نے بادشاہ کا مقبرہ تعمیر کیا تھا انہیں بھی بعد میں قتل کر دیا گیا تھا تاکہ وہ کسی کو مقبرے کی جگہ کے متعلق نہ بتا سکیں۔یہی وجہ ہے کہ اس دریافت سے قبل اس کی حتمی جگہ کے بارے میں کوئی نہیں جانتا تھا۔

ماہرین کے مطابق چن شی ہوانگ کو دائمی عمر پانے کا بھی بہت شوق تھا جس کے لیے وہ کئی مشروبات اور ادویات تیار کروا کے کھاتا رہتا تھا تاکہ ہمیشہ زندہ رہ سکے لیکن یہی مشروبات اور ادویات ہی اس کی موت کا ذریعہ بن گئے کیونکہ ان میں سے اکثر میں پارہ استعمال کیا جاتا تھا۔ چنانچہ پارے کے استعمال کی وجہ سے صرف 49سال کی عمر میں ہی اس کی موت واقع ہو گئی۔مقبرے سے کچھ گھوڑوں کی باقیات بھی برآمد ہوئی ہیں اور ان کے متعلق بھی ماہرین کا یہی کہنا ہے کہ انہیں بادشاہ کے استعمال کے لیے زندہ اس کے ساتھ دفن کر دیا گیا تھا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /بین الاقوامی