اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 125

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط ...
اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 125

  

بلبن ان تمام صفات او راعلیٰ عادات کے باوجود بغاوت و سرکشی کو ناپسند کرتا تھا۔باغی چاہے مسلم ہو چاہے غیر مسلم اس کی سرزنش میں کسی قسم کی رو رعایت نہ کرتا تھا اس کے عہد حکومت میں ملک میں امن وامان قائم رکھنے کیلئے مفسدوں کو ہر طرح کی سزائیں دی جاتی تھیں۔ التمش کے خاندان کے افراد کو بلبن نے اپنا دشمن سمجھ کر اشارے، کنائے، بہانے اور صریحی حکم، غرض ہر طرح سے قتل کیا۔ میرے زمانے میں اکثر ایسا بھی ہوا کہ بلبن نے محض ایک شخص کی بغاوت اور سرکشی کی وجہ سے ساری فوج یا سارے شہر کو تباہ کرڈالا۔ یہی وجہ تھی کہ کوئی بلبن کی اطاعت کا منکر نہ ہوتا تھا۔ شمس الدین التمش کے وہ قوانین اور ضابطے جو اس کے جانشینوں کی غفلت اور نااہلی کی وجہ سے تقریباً منسوخ ہوگئے۔ تھے۔ بلبن نے ان سب کو بالکل اسی طرح مروج کیا جیسے کہ التمش کے عہدمیں مروج تھے۔ بلبن کو شکار کا بھی بہت شوق تھا یہی وجوہ تھی کہ اس کے عہد میں میر شکاری کا عہدہ بڑی عزت اور رفعت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ سردیوں کے زمانے میں وہ اس شوق کو پورا کرنے کے لئے دہلی کے چاروں طرف بیس بیس کوس کے راستے کی حفاظت کی جاتی تھی۔ بلبن کا معمول تھا کہ وہ شکار کے لئے اس وقت نکلتا جب کہ تھوڑی سی رات باقی ہوتی اور دوسری رات کا دو تہائی حصہ جب گزرجاتا تو وہ شکارگاہ سے اپنی قیام گاہ پر واپس آجاتا۔ اس کے ساتھ ہمیشہ ایک ہزار سوار اور ایک ہزار پیادہ تیر انداز رہتے تھے جن کے تمام اخراجات خزانے سے ادا کئے جاتے تھے۔

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 124 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ایک بار کسی امیر نے جو ماوراء النہر سے واپس آیا تھا بادشاہ بلبن سے کہا ’’عالی جاہ! میں نے بدخشاں میں ایک منگول سوداگر کو یہ کہتے سنا ہے کہ ہلاکو خان نے آپ کے شکار کے شوق کی تفصیل سن کر کہا تھا کہ بلبن ایک تجربہ کار اور عاقبت اندیش بادشاہ ہے بظاہر تو وہ شکار کا شوق کرتا ہے لیکن دراصل اس صورت سے وہ سواری کی ورزش اور اپنے لشکر کی حفاظت کرتا ہے۔‘‘

بلبن نے یہ سن کر خندہ کیا اور کہا’’فرماں روائی اور سیاست کے قواعد و ضوابط وہی شخص بہتر طو رپر جان سکتا ہے جس نے اپنی تلوار کے بل پر جہاں بانی کی ہو۔‘‘

جس زمانے میں مَیں بلبن کے دربار سے منسلک تھا اس زمانے میں حکومت کی بنیادیں اچھی طرح سے مضبوط ہوچکی تھیں ایک روز دربار لگا تھا۔ بلبن شاہی کروفر کے ساتھ تخت شاہی پر براجمان تھا کہ ایک قابل اعتبار امیر نے کہا ’’عالم پناہ! گجرات اور مالوہ کے علاوہ چند دیگر مقامات جو قطب الدین ایبک اور سلطان شمس الدین التمش کے زمانے میں اسلامی حکومت میں شامل ہوگئے تھے اب خود سر ہوگئے ہیں۔ اب یہی مناسب ہے کہ ملک کے اندرونی انتظامات کو پوری طرح انجام دینے کے بعد ان خود سر علاقوں کی طرف توجہ دی جائے تاکہ ان علاقوں کو دوبارہ شاہ دہلی کا مطیع و خراج گزار بنایا جاسکے۔‘‘

بلبن نے یہ سن کر امیر سے کہا’’ان دونوں مغلوں کی ہنگامہ خیزیاں بہت بڑھی ہوئی ہیں انہوں نے ہندوستان کے ایک حصے پر قبضہ بھی کرلیا ہے اور ان کی جماعت ہندوستان پر باقاعدہ چھاپے مارتی رہتی ہے اس صورتحال میں دہلی سے نکلنا اور دور دراز علاقوں کو فتح کرنے کے لئے دارالسطنت کو محافظوں سے خالی کرنا، دانشمندی نہیں ہے اس وقت یہی مناسب ہے کہ اپنے ملک میں رہ کر سلطنت کو دشمنوں سے محفوظ رکھا جائے نہ کہ نئے علاقے فتح کرنے کا ارادہ کیا جائے۔‘‘

میں نے بلبن کے اس جواب کو اس کی ملکی معاملات پر دور رسی اور سیاسی دانشمندی پر محمول کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ غیاث الدین بلبن کورموز ملکی پر مکمل عبور حاصل تھا۔

ان ہی دنوں شہر دہلی کے آس پاس میواتیوں نے بڑی شورش برپا کررکھی تھی۔ یہ لوگ جنگلوں میں چھپ چھپا کر قتل و غارت گری کرتے تھے۔ یہ لٹیرے راتوں کو زبردستی لوگوں کے گھروں میں گھس جاتے اور مال و اسباب اٹھا کر لے جاتے اور شہر کے آس پاس کی سراؤں کو تباہ و برباد کرتے رہتے تھے۔سوداگر اور تجارت پیشہ لوگ بھی ان لٹیروں کی دسترس سے محفوظ نہ تھے کئی بار ایسا بھی ہوا کہ ان میواتیوں نے دن دہاڑے سقوں اور گھروں میں پانی بھرنے والی لونڈیوں کو اغوا کرلیا۔ ان کے خوف کی وجہ سے شہر کے دروازے مغرب کے وقت بند کردئیے جاتے تھے، نماز عصر کے بعد کسی شخص کی ہمت نہ پڑتی تھی کہ وہ قبرستان تک جائے۔ بلبن کو جب میواتیوں کی اس لوٹ مار اور رعایا کی مصیبتوں کا حال معلوم ہوا تو اس نے مفسد گروہ کے قلع قمع کو حکومت کے بقیہ تمام کاموں پر مقدم رکھا اور ان سفاکوں کو تباہ و برباد کرنے کے لئے دہلی سے روانہ ہوا۔ بلبن نے ان میواتی ڈاکوؤں کو گھیر لیا اور تقریباً ایک لاکھ ظالموں کو موت کے گھاٹ اتارا۔ اس کے بعد جنگل کو جس میں لٹیرے رہتے تھے بالکل صاف کروادیا اور زمین کو زراعت پیشہ لوگوں میں تقسیم کردیا۔ اس نے اس مقام پر سپاہیوں کی چوکیاں بھی مقرر کردیں۔

غیاث الدین بلبن پٹیالی، کٹپل اور بھوج پور (موجودہ بدایوں اور فرخ آباد کے اضلاع) کی بغاوت فرو کرنے اور وہاں مسجدیں اور لقعے تعمیر کروانے کے بعد واپس دہلی پہنچا تو اسے امروہہ کے حاکم کی طرف سے کیستر کی سرکشی کی خبر ملی۔ اس خبر کو سنتے ہی بلبن نے فوج کو تیاری کا حکم دے دیا۔ امراء، وزراء اور خود میرا یہی خیال تھا کہ اس بار بادشاہ کو پایہ کا سفر کرے گا لیکن قبل اس کے کہ سرخ رنگ کا شاہی سراپردہ کوچ کے لئے بادشاہی محل سے باہر نکالا جاتا۔ بلبن پانچ ہزار سواروں کا ایک چنا ہوا لشکر ساتھ لے کر روانہ ہوگیا۔

(جاری ہے ، اگلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں)

مزید : کتابیں /اہرام مصرسے فرار