اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 89

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 89
اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 89

  

حضرت شیخ علی ہجویریؒ فرماتے ہیں کہ خراسان کے راستہ میں ایک گاؤں پڑتا ہے۔ جب مَیں اس گاؤں میں پہنچا تو مجھے متصوفین کی ایک جماعت نظر آئی۔ مَیں نے ایک کھردرا لباس پہنا ہوا تھا۔ ہاتھ میں ایک ڈنڈا اور پانی کابرتن تھا۔

اس جماعت نے مجھے حقارت آمیز نگاہوں سے دیکھا اور ان میں سے کسی نے مجھے نہیں پہچانا۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے میرے بارے ایک دوسرے سے کہا کہ یہ ہم سے نہیں ہے۔‘‘

بے شک مَیں ان میں سے نہیں تھا لیکن میرے لیے وہاں رات گزارنا بھی ضروری تھا۔ چنانچہ ان لوگوں نے مجھے خانقاہ کے نچلے حصے میں ٹھہرایا اور خود بالائی منزل پر چلے گئے۔ کھانے کے وقت مجھ کو ایک سوکھی روٹی دے دی، خود بڑے عمدہ کھانے کھارہے تھے، جس کی خوشبو مجھ تک آرہی تھی۔ وہ کھانا کھاچکے تو خربوزہ کھانے لگے۔ ازراہ تمسخر چھلکے مجھ پر پھینکتے اور میرا مذاق اُڑاتے رہے۔ مگر وہ جس قدرمجھ پر طنز کرتے اور میرے خلاف باتیں کہتے مجھے ان سے رنج پہنچنے کی بجائے خوشی ہوتی۔

اس طرح ملامت سہنے سے میری مشکل حل ہوگئی اور اس وقت مجھے معلوم ہوا کہ مشائخ اپنے ہاں ایسے لوگوں کو کیوں گوارا کرلیتے ہیں۔

***

حضرت میاں میرؒ کے ایک مرید شیخ نتھا کی روایت ہے کہ آپ موسم گرما میں حجرہ کی چھت پر مصروف عبادت رہتے تھے۔ ایک دن مجھ سے فرمایا کہ پانی کا ایک آبخورہ اور ایک پنکھا میرے پاس رکھ کر سورہو۔

خادم کہتا ہے کہ مَیں نے پنکھا تو رکھ دیا البتہ پانی کا کوزہ پاس رکھنا یاد رہا۔ آدھی رات کو مجھے یہ بات یاد آئی تو مَیں آبخورہ لے کر اوپر پہنچتا تو وہاں کیا دیکھتا ہوں کہ آپ موجود نہیں ہیں۔ کپڑے اور دوسرا سامان موجود تھا۔ تلاش کیا اور سوچا کہ ممکن ہے حجرہ میں تشریف فرما ہوں۔ مَیں چراغ جلا کر حجرہ میں پہنچا۔ وہاں بھی آپ موجود نہ تھے۔ حیران ہوکر مَیں بیٹھ گیا۔ فجر کی نماز کے وقت حضرت نے آواز دی کہ وضو کے لیے پانی لاؤ۔ میں فوراً پانی کا کوزہ لے کر اوپر پہنچا۔ مَیں نے دریافت کیا ’’حضور کہاں تشریف لے گئے تھے۔‘‘

پہلے تو آپ نے ارشاد فرمایا ’’تم نے خواب دیکھا ہے۔‘‘

میں نے عرض کیا ’’حضور! اگر آپ یہ راز منکشف نہیں فرمائیں گے تو تمام عمر یہ خطرہ رہے گا۔ آپ نے فرمایا، بتاتا ہوں لیکن ہماری زندگی میں کسی سے نہ کہنا۔ اگر کسی پر یہ راز کھولے گا، تو نقصان کا اندیشہ ہے۔ پھر فرمایا ’’مَیں اس وقت غار حرا میں تھا۔‘‘

میں نے دریافت کیا ’’غار حرا کہاں واقع ہے۔‘‘

آپ نے فرمایا ’’یہ وہ غار ہے جس میں آنحضرت ﷺ بعثت سے قبل خدا کی عبادت اور اس کی تسبیح و تہلیل میں مصروف رہتے تھے۔ مجھے حاجیوں پر افسوس ہوتا ہے کہ حج کے لیے جاتے ہیں اور تھوڑی دیر کے لیے بھی اس غار میں نہیں جاتے۔ اگر کسی کی بارہ سال کی عبادت سے بھی انشرح نہ ہو۔ اسے اس غار میں ایک ہی رات میں اندر جلوے نظر آتے ہیں اور اس کے سینے میں کشادگی آجاتی ہے‘‘

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 88 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

***

حضرت خواجہ بہاؤالدین نقش بند جب مکہ مکرمہ پہنچے تو حاجی رسم قربانی ادا کررہے تھے آپ نے فرمایا ’’ہمارا بھی ایک لڑکا ہے۔ ہم نے بھی اسے راہ مولا بھینٹ چڑھادیا۔ آپ کے ہمراہ جو مریدین تھے انہوں نے اس دن اور تاریخ کو حافظے میں محفوظ کرلیا جب بخارا کو واپس ہوئی تو تحقیق کے بعد پتہ چلا کہ حضرت کے لڑکے نے اسی قربانی کے دن وفات پائی تھی۔

***

شیخ امانؒ پانی پتی نے فرمایا ’’میرے نزدیک درویشی کا سرمایہ دو چیزیں ہیں۔ تہذیب اخلاق اور محبت خاندان رسول پاکؐ‘‘

اگر آپ کے درس کے وقت سادات کے بچے کھیلتے ہوئے اس کوچہ میں آجاتے تو یہ کتاب بغل میں لے کر کھڑے ہوجاتے اور جب تک وہ بچے کھڑے رہتے آپ کو بیٹھنے کی مجال نہ ہوتی تھی۔(جاری ہے )

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 90 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اللہ والوں کے قصے