پاسبان نہیں ،نگہبان اب نہیں

پاسبان نہیں ،نگہبان اب نہیں
پاسبان نہیں ،نگہبان اب نہیں

  

فضائیں بدلنے کی رتیں ہیں تو ہم سب کو بدلنا ہے ،مجھے بدلنا ہے آپ کو بھی بدلنا ہے۔کل سوشل میڈیا پہ وہاڑی میں ایک موٹر سائیکل سوار پہ دو محافظوں کا قومی ذمہ داری نبھاہتے ہوئے تشدد دیکھا تو مجھے احساس ہوا کہ ساہیوال کے سانحے نے ہمارا کچھ نہیں بگاڑا۔ کوئی سبق نہیں سیکھا ہم نے ،مجھے خواجہ آصف صاحب کے وہ زریں الفاظ کہ یہ قوم بہت جلد بھول جاتی ہے کبھی کبھار تو اس قوم کے رویوں کی بالکل درست عکاسی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ ان کے شہر سیالکوٹ کی مثال لے لیں۔ 2010ء کے دو بھائی مغیث اور منیب کیسے تختہء مشق بنے سارے ملک کو سوگوار کرکے دنیا سے گئے ۔پولیس کے سامنے اور ان کے ہاتھوں میں جب ایک ماں کی ممتا داغدار ہوئی تو دونوں بھائیوں کو دہشت گرد قرار دیا گیا اور ان پہ پستول بھی ڈال دیا گیا شاید خود کش جیکٹس اتنی عام نہ تھیں۔ حافظِ قرآن بچے جو لاٹھیوں ڈنڈوں سے پٹے جان سے گئے تو چیخ و پکار تھی اور ہر طرف غم و غصہ تھا لیکن وہ سب وقت کی دھول میں دبتا گیا اور پولیس ریفارمز کی بات جہاں تھی وہیں رہیں۔ 

خواجہ صاحب آپ ہی کے شہر کی تحصیل ڈسکہ5 کو مئی 2017 کا وہ دن بھول گیا جب وہاں کے ایس ایچ او شہزاد وڑائچ کے ہاتھوں ڈسکہ بار کے صدر کے ساتھ دو لوگ جان سے گئے۔ بات لاہور ہائیکورٹ تک پہنچی ،ملک کے گلی محلوں میں پولیس ریفارمز کی بات ہوئی لیکن ابلتی کڑی میں ایک ابال ثابت ہوئی اور بیٹھ گئی،سترہ جون 2014ء کی صبح جب دن دیہاڑے سب سے پاور فل پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے گھر سے زیادہ دور نہیں ایک دفعہ پھر پولیس کے ہاتھوں موت کا کھیل رچا ،چودہ جان سے گئے اور سو سے زیادہ لوگوں کو گولیاں لگیں۔ ذمہ داروں نے ترقیاں پائیں اور ملازمتوں کے سلسلے میں بیرونِ ملک کوچ کیا ۔اس واقعے کی جے آئی ٹی بنی اور پھر تو بنتی ہی گئی لیکن رپورٹ کسی کو نہ ملی ۔پولیس کے ریفارمز کی باتیں ہوئیں ،لیکن جس طرح اس واقعے کی ایف آئی آر کٹی کب کس سے پوشیدہ ہے۔ پھر گیارہ ستمبر 2017ء کو ڈسکہ ہی میں ایک حوا کی بیٹی بالوں سے پکڑی اور گھسیٹی گئی ،اسٹریٹ کرائم کو کیسے کنٹرول کیا جاتا ہے یہ اس کی ایک مثال تھی ۔13 جنوری 2018ء مشہورِ زمانہ راؤ انوار ایس ایس پی ملیر ڈسٹرکٹ نے پکڑے ہوئے نقیب اللہ محسود کو اس کی جوانی میں پشت پہ دو گولیاں مار کے اگلے جہاں کا ٹکٹ تھمایا ،میڈیا میں آگ لگ گئی ،ایک دھرنا ہوا ۔پولیس کے کردار پہ انگلیاں اٹھیں اور پولیس سے سیاسی اثر و رسوخ ختم کرکے فعال بنانے کی خوب باتیں ہوئیں۔ چار سو چالیس قتل راؤ انوار کے کھاتے میں ڈالے گئے ،راؤ انوار کا گھر ہی اس کی سب جیل بنا اور معاملہ کہاں ہے ہمیں کیا پتہ صاحب۔ 

کراچی کی سڑکوں نے ان پیٹی بھائیوں کے ہاتھوں مقصود کے خون کو بہتے دیکھا جسے پہلے دہشت گرد اور پھر بعد میں پولیس اور دہشت گرد شیخ محمد کے درمیان مقابلے میں بیگناہ قرار دیتے ہوئے گھن کے ساتھ گندم کے پس جانے کا نام دیا گیا ،کراچی کی تاریخ تو بھری پڑی ہے۔ عابد باکسر اور عمر خطاب کس نے بنائے اس کی بات کرکے بھی کیوں خود کو مسئلہ میں ڈالوں لیکن اگر ساہیوال کی بات کروں تو دہشت گردوں کی ہلاکت سے شروع ہونے والا یہ ڈرامہ تبدیلی حکومت کی نگرانی میں کامیابی سے کھیلا جا رہا ہے۔ چار سے ایک دہشت گرد تک پہنچنے والی یہ داستان دبائے بھی نہیں دب رہی اور با ت چھپائے بھی نہیں بن رہی۔ سونے پہ سہاگہ ہے وزراء کی عوام کے بارے میں گفتگو اور میڈیا بریفنگ۔ ان سب میں اپنی مثال آپ اور قابلیت میں یکتائی لئے ہوئے وزیرِ قانون قوم کے صبر کو خوب آزما رہے ہیں۔ کہتے ہیں یہ مقابلہ سو فیصد درست تھا تو صاحب جو جو دہشت گرد پکڑو اس کے ساتھ ساتھ تین بیگناہ بھی سڑک پہ عدالت لگا کے اڑاتے جاؤ ،ایک دن شاید حاکموں کا نمبر بھی لگ جائے۔ جناب ناصر درانی لائے گئے بڑے طمطراق سے بتایا گیا کہ اب پنجاب پولیس بھی سیاست سے پاک ہوگی اور نئے ریفارمز ہوں گے لیکن ناصر درانی صاحب پھر چھوڑ کیوں گئے کسی کو نہ بتایا گیا۔ واقعہ پاکپتن کا ہو یا کسی سینٹر کے فارم ہاؤس کا پولیس کو سیاست سے پاک کرتی حکومت بری طرح مفلوج نظر آتی ہے۔ پولیس کس کے زیرِ سایہ ہے ،کسی کو پتہ نہیں ہے۔ اس پولیس سے عدالتوں میں پیش کئے جانے والے ملزم ضمانت خارج ہونے پہ احاطہء عدالت سے دوڑانے کے معاملات ہوں یا ہتھکڑی لگے ملزمان کو دوسری پارٹی سے ماورائے عدالت انصاف کے حصول کی سودے بازی کے ہو ں کچھ بھی طے کیا جاسکتا ہے۔ میں تو ماہانہ نہ دینے پہ روز دفتر آتے بڑی گاڑیوں کے سڑک کنارے معاملات طے ہوتے دیکھتا ہوں ،میں تو ملکی قانون نوٹوں پہ لکھا دیکھتا ہوں۔ پاکستان کو ایک قلعہ کہنے والوں سے میں بالکل متفق ہوں کہ جہاں پاکستانی عوام قلعہ میں بند پولیس کے رحم و کرم پہ ہے۔ ملک میں بہت سے جرائم اس لئے ہوتے ہیں کہ کسی کو پولیس پہ اعتبار نہیں اور لوگ اپنا بدلہ لیتے خود جان لیتے یا جان سے جاتے ہیں، جس ملک میں ایک ایف آئی آر کٹوانے کے لئے پاپڑ بیلنے پڑیں اور پیسے لگانے پڑیں اس میں انصاف کون حاصل کر سکتا ہے۔ تھانہ کلچر بدلنے والوں سے بہت امید تھی لیکن تھانے میں چلے جاؤ تو ایک دنیا ہے جس میں ایک محرر چارپائی پہ بیٹھا سگریٹ کے مرغولے اڑاتا خود بیمار دکھتا ہے یا کسی کا پولیس کی بیلٹ کے نیچے تک لٹکتا پیٹ اس کی قانون لاگو کرنے کے لئے دی گئیں خدمات کی داستان سناتا ہے۔ صاحب ملک کو پولیس گردی سے نکالو۔ مہنگائی کے تیر ہم پہ چلاؤ یا بلواسطہ ٹیکس کے لیکن یوں ہمارے بچوں کے سامنے ہمیں دہشت گرد بنا کے مت بھونو ،رب کی لاٹھی بے آواز ہے اور ایک دن آپ پہ بھی برسے گی ،میں ملکی پاسبانوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ بس بہت ہو گیا ،خدا کے لئے اب بس کرو۔ 

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : بلاگ