حلال اور حرام مرغی کے گوشت کی پہچان کیا ہے؟آپ بھی جانئے اور احتیاط کریں

حلال اور حرام مرغی کے گوشت کی پہچان کیا ہے؟آپ بھی جانئے اور احتیاط کریں
حلال اور حرام مرغی کے گوشت کی پہچان کیا ہے؟آپ بھی جانئے اور احتیاط کریں

  

لاہور(ویب ڈیسک)کرونا وائرس کے پھیلنے کے بعد حلال اور حرام کی بحث ایک بار پھر موضوع بحث بن گئی ہے۔ کئی لوگ اسے گوشت تو کئی اسے حرام گوشت سے بھی منسوب کررہے ہیں، ایسے میں بہت سے لوگوں میں اس بات پر تشویش پائی جاتی ہے کہ وہ غیرمسلم علاقوں میں یا خود پاکستان میں بھی گوشت کی خریداری کے بعد کیسے تسلی کریں کہ وہ حلال ہے یا حرام۔حرام حلال میں تمیز کے حوالے سے پریشان احباب اب یہ پریشانی ختم سمجھیں اور احتیاط کریں۔

تفصیلات کچھ یوں ہیں کہ حرام مرغی کا گوشت قدرے نیلاہوتاہے جبکہ حلال کی گئی مرغی کا گوشت گلابی یا ہلکا پیلا ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلامی طریقے سے حلال کی گئی مرغی کا ساراخون باہر نکل جاتاہے اور صرف گوشت کا رنگ ہی رہ جاتاہے جبکہ حرام مرغی کا خون جسم سے باہر نہیں نکل پاتا اور اندر ہی جم جاتاہے جو جمنے کے بعد گوشت کا رنگ قدرے نیلاپڑجاتاہے۔

ڈیلی پاکستان کی تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہواہے کہ پنجاب میں حرام مرغیوں کیلئے بیوپاری حضرات ’ٹھنڈی مرغی یا اکھ میٹی‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ اس لئے اگرکسی دکان پر ایسا لفظ سنائی دے تو وہاں سے گوشت نہ ہی خریدیں تو بہتر ہے۔

کچھ عرصہ قبل تک پریشروالے گوشت کا بھی آپ سنتے ہی رہے ہوں گے ، پریشر والے گوشت کا رنگ بالکل ہلکاگلابی ہوگا ، اگر پریشر نہ لگاہواتوگوشت کا رنگ شوخ گلابی ہوگا۔ پریشر لگانے کیلئے قصاب حضرات پانی کا ایک پائپ جانور کو ذبح کرنے کے بعد پانی کا پائپ شہہ رگ میں ڈال کر پریشر سے پانی چھوڑتے ہیں جس کی وجہ سے پانی پورے دباو کیساتھ ہرچھوٹی بڑی رگ میں پہنچ جاتاہے ۔ یہ حربہ صرف ناجائز منافع خوری یعنی پانی استعمال کرکے گوشت کا وزن بڑھانے کیلئے کیا جاتاہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -خصوصی رپورٹ -