توشہ خانہ کا تو صرف نام آرہا ہے،عمران خان کئی چیزوں میں ڈیفالٹر چلے آرہے ہیں، نوید قمر

توشہ خانہ کا تو صرف نام آرہا ہے،عمران خان کئی چیزوں میں ڈیفالٹر چلے آرہے ہیں، ...
توشہ خانہ کا تو صرف نام آرہا ہے،عمران خان کئی چیزوں میں ڈیفالٹر چلے آرہے ہیں، نوید قمر

  

لاہور ( نیوز ڈیسک ) وفاقی وزیر تجارت نوید قمرنے کہا ہے کہ جو بھی شخص جمہوری سوچ رکھتا ہے وہ آئین سے تجاوز کرنے کی بات سوچ بھی نہیں سکتا۔یہ حکومت یا ہماری پارٹی اس قسم کی خواہش کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔ آئین میں اسمبلی کی مدت 5 سال سے زیادہ نہیں ، سوائے اس کے کہ کوئی ایمرجنسی کی صورتحال ہو، اورانتہائی ناگزیر حالات ہوں تو پھر پارلیمنٹ الیکشن کی مدت میں توسیع دے سکتی ہے۔موجودہ قومی اسمبلی کی مدت 13 اگست کو ختم ہونی ہے اور اس کے 60 دن کے اندر الیکشن ہونے ہیں۔ 11،12 اور 13 اکتوبر جو بھی تاریخ ہو اس کے اندر الیکشن ہونے چاہئیں۔ حالات انتہائی کٹھن،دشوار،نازک ہوں تو پارلیمنٹ نیشنل اسمبلی کی مدت میں طول دے سکتی ہے۔لیکن میرا خیال نہیں کہ یہ کوئی اتنا اچھا آرٹیکل ہے جو سیاسی وجوہات کی وجہ سے استعمال ہونا چاہیے۔ الیکشن کو مقررہ وقت پر ہونا چاہیے۔ آئین میں ہر چیز متعین ہے۔ الیکشن کمیشن کیا کرتی ہے قانون کے دائرے  میں رہتے ہوئے اس کی صوابدید بھی ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے"نوائے وقت( ایشا سجاد پیرزادہ) " کو خصوصی انٹرویو میں کیا ۔

ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر تجارت نوید قمر کا کہنا تھا کہ " یہ پاکستان میں غیر معمولی صورتحال ہے کہ صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات الگ وقت میں ہونے ہیں اور قومی اسمبلی کے انتخابات کی مدت ابھی باقی ہے ۔ ظاہر ہے اس کے اپنے نقصانات ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں مثالی استحکام کے لیے ضرورت ہے کہ وقت پر الیکشن ہوں۔ نہ اس سے ایک دن پہلے ہوں اور نہ اس کے ایک دن بعد۔اس وقت خرچہ بہت زیادہ بڑھ جائے گا۔ جبکہ ہمارے ملک کے معاشی حالات بہت خراب ہیں۔  ہم اس قسم کی شاہ خرچیوں  کے متحمل نہیں ہو سکتے الیکشن کمیشن نے صرف پنجاب میں ہی انتخابات کے لیے 15 ارب کی ڈیمانڈ کی ہے۔ظاہر ہے یہ چیزیں ہمیں سوچنی چاہئیں۔ جیسے ہم چیزوں کو انجینئر کرتے ہیں جس طرح سے ابھی پی ٹی آئی نے کیا کہ وہ چاہ رہے ہیں سسٹم کولیپس ہو تاکہ عمران خان دوبارہ سے وزیراعظم بن جائیں، ان چیزوں کے لیے پوری قوم کو داؤپر لگانا میرا خیال نہیں کہ یہ مناسب چیز ہے۔ آخر یہی ملک ہے جس کا اس نے وزیراعظم بننا ہے، اگر اس نے وزیراعظم بننا ہے تو اسی ملک کا بنے گا اگر ملک کو تباہ کردیا تو ان کے پلے کیا رہے گا؟۔ مائنڈ لیس ایکسرسائز نہیں ہونی چاہیے۔ ساری چیزوں کو ذہن میں رکھ کر اقدامات کرنے چاہئیں"۔

پی ٹی آئی کے لوگوں کی  مزید گرفتاریوں کی منصوبہ بندی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں نوید قمر کا کہنا تھا کہ " نہ میرے ہاتھ میں ہے اور نہ میں نے گرفتار کرنا ہے، میں حکومت کا حصہ ہوں مجھ سے اس قسم کا کوئی پلان ڈسکس نہیں ہوا۔ ظاہر ہے یہ سلسلہ ہے جو نیب کا شروع کیا ہوا ہے بلکہ اس سے بھی بہت وقت پہلے احتساب بیورو سیاسی لوگوں کے لیے ایک آزمائش تھا۔ یہ سلسلہ عمران خان کے دور میں عروج پر پہنچا تھا۔ یہ چیزیں میرٹ پر ہونی چاہئیں سیاسی نظر سے نہیں ہونی چاہئیں۔ کئی چیزیں ہیں جس میں عمران خان ڈیفالٹر ہیں، توشہ خانہ کا تو صرف نام آگیا، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کوئی غلط کام ہوا ہے، اگر ہوا ہے، جیسے ان کو کوئی گفٹ ملے، اگر یہ کیس کسی قانون کی نظر میں وقعت رکھتا ہے تو پھر یہ سٹینڈ کرے گا، اور پھر یہ بتانا بھی چاہیے، اور ہر کسی کو جوابدہ ہونا چاہیے۔ لیکن یہ کہ پہلے جیل میں ڈال دو اور پھر یہ سوچو کہ کیا کرنا ہے یہ بات ٹھیک نہیں ہے۔اداروں کو صحیح معنوں میں آزاد ہونا چاہیے، جو کہ آج تک نہیں ہیں، صحیح معنوں میں انڈیپنڈنٹ نہیں ،۔ اگریہ ادارے غیرسیاسی ہوگئے تو جس پر بھی ہاتھ ڈالیں گے وہ عمران خان ہو یا کوئی اور لوگ اس کو میرٹ پر دیکھیں گے۔

مزید :

خصوصی رپورٹ -علاقائی -پنجاب -لاہور -