مصنوعی اکثریت کی بنیاد پر اس صوبے پر قابض ہے ،خالد مقبول صدیقی 

مصنوعی اکثریت کی بنیاد پر اس صوبے پر قابض ہے ،خالد مقبول صدیقی 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

کراچی (اسٹاف رپورٹر) متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کنوینئر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ پچھلے پندرہ سال سے ایک فاشسٹ جماعت مصنوعی اکثریت کی بنیاد پر اس صوبے پر قابض ہے تمام صوبائی حکومتی ادارے اب لسانی اداروں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔گلستانِ جوہر، کراچی میں کارنر میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی سالوں سے تعلیم، روزگار اور جعلی ڈومیسائل کے ذریعے کوٹے پر قبضہ کرنے والی جماعت نے کرپشن کو صنعت کا درجہ دے دیا ہے ، پیپلز پارٹی کے پاس بدعنوانیوں سے جمع کیا اتنا پیسہ موجود ہے کہ پورے ملک کا قرضہ اتارنے کا بعد بھی پچاس سالوں تک اس ملک کو چلایا جا سکتا ہے ، اب پیپلز پارٹی مضافات سے نکل کر شہروں پر قبضہ کرنے نکل پڑی ہے۔انہوںنے کہا کہ تعصب پسند سہراب گوٹھ اور لیاری میں ایم کیو ایم کے پرچم دیکھ کر بوکھلاہٹ کا شکار ہوکر جبر کے راستے پر گامزن ہیں مگر ہمارا صبر ان کی راہ میں آہنی دیوار کی مانند کھڑا ہے، ادھر ہم ادھر تم کے نفرت انگیز نعرے کی بنیاد رکھنے والی پیپلز پارٹی آج اس شہر پر قبضے کا خواب دیکھ رہی ہے ملک کو دو لخت کرنے والی جماعت نے قومیائے جانے کے نام پر ملک کو جاگیر داروں کے قبضے میں دے دیا، لسانی بل کی نفرت کی وجہ سے صوبہ سندھ دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ تحریک انصاف کو ایم کیو ایم کی نشستیں چھین کر دی گئیں ، 2018 میں جیتنے والے حیران اور پالیسی بنانے والے پریشان تھے، پی ٹی آئی کے چودہ ایم این ایز ایوان میں کہتے تھے کے کراچی کے لئے ایم کیو ایم کچھ نہیں کر رہی۔انہوں نے مزید کہا کہ کراچی کے لئے پی ٹی آئی کبھی آپشن نہیں ہے آج وہ منہ کے بل گر پڑی ہے، بانی پی ٹی آئی کی سزا کا فیصلہ مکافات عمل کا شاخسانہ ہے ، اس بار الیکشن میں ایم کیو ایم کا واحد ایجنڈا تین ترامیم ہیں۔بعد ازاں پیپلز پارٹی کے علاقائی عہدیدار اور سندھ وردگ قومی اتحاد کے سینئر نائب صدر حاجی نواب نے ایم کیو ایم پاکستان میں شمولیت اور حمایت کا اعلان کیا۔