حقیقی اور طفیلی جمہوریت

       حقیقی اور طفیلی جمہوریت
       حقیقی اور طفیلی جمہوریت

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

  بجلی کی قیمت میں 5.62 روپے کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔  پٹرول کی قیمت بھی13روپے 55 پیسے بڑھا دی گئی ہے، اِس سے پہلے گیس کی قیمتیں بھی عوام کی چیخیں نکلوا رہی ہیں، گیس چونکہ اب زیادہ آتی نہیں اِس لئے لوگ ایل پی جی کا استعمال کرتے ہیں،اُس کے سلنڈر کی قیمت بھی اوگرا نے بڑھا دی ہے۔ گویا سب کچھ بڑھتا ہی جا رہا ہے کم ہو رہی ہے تو عوام کی آمدنی، بلکہ اُن کی قدر و قیمت۔ وقتی طور پر انتخابات کے دِنوں میں اُن کی کچھ قدر بڑھی ہوئی ہے،لیکن یہ سب عارضی بندوبست سات فروری کی شام کو ختم ہو جائے گا پھر وہی ناقدری، وہی بے سرو سامانی۔ اب سوال یہ بھی ہے کہ نگران حکومت عوام کو ایک آنے کا بھی ریلیف نہیں دے سکی تو اُن پر بوجھ بھی کیوں ڈال رہی ہے، معاملات کو نئی حکومت آنے تک جوں کا توں کیوں نہیں چلنے دیا جا رہا۔ اِس سے پہلے جب پی ڈی ایم کی حکومت آئی تھی تو اُس نے ستم ڈھائے تھے۔اُس کا بھی چونکہ عارضی قیام تھا اِس لئے سب کچھ بے خوفی کے ساتھ کرتی رہی۔اب جاتے جاتے نگران حکومت عوام پر بوجھ بڑھانے کا فریضہ سرانجام دے رہی ہے ایسے حالات میں جب سیاسی جماعتوں کے وعدے یاد آتے ہیں تو ہنسی بھی آتی ہے اور عوام کی بے چارگی پر رونا بھی۔ یہ سوچ کر ہنسی آتی ہے کہ آئے روز مہنگی ہونے والی بجلی اچانک ایک دن مفت ملے گی۔پیپلزپارٹی جیتے یا مسلم لیگ(ن) 300یونٹس تو مفت ملنے ہی ملنے ہیں گویا عوام کے وارے نیارے ہونے والے ہیں یہ ہے تو خوشی کی بات، قہقہے تو لگانے چاہئیں،لیکن صاحب شیدے ریڑھی والے جیسا عام پاکستانی بھی جانتا ہے یہ سب جھوٹ ہے، فراڈ ہے، کھربوں روپے کے مقروض ملک میں جہاں حکومت کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ بجلی کے بلوں پر لگنے والے ٹیکس در ٹیکس ہیں، وہاں بجلی فری دینے کے وعدے کسی  بہت بڑی جعلسازی سے کم نہیں،مگر اس کا کیا کِیا جائے کہ یہ ساری جعل سازی سرعام اور جلسوں میں ہو رہی ہے۔کوئی پکڑنے والا ہے اور نہ کوئی پوچھنے والا۔ بلاول بھٹو زرداری کو اِس بات کی توفیق ہوتی ہے اور نہ نواز شریف کو کہ وہ نگران حکومت کی طرف سے عوام پر ڈالے جانے والے مزید بوجھ پر احتجاج کریں یا کم از کم اتنا ہی کہہ دیں کہ اقتدار میں آ کر یہ تمام اضافے واپس لے لیں گے۔

سیاست بڑی ظالم شے ہے، جب یہ جملہ کہا جاتا ہے تو اِس کا مطلب اربابِ سیاست ہر گز یہ نہیں کہ اس میں عوام کو دھوکے دیئے جاتے ہیں،جھوٹے وعدے کئے جاتے ہیں،بلکہ اِس کا مطلب وہ یہ نکالتے ہیں کہ سیاست دانوں کو بُرے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ اُٹھا کے نواز شریف، بے نظیر بھٹو، عمران خان اور دیگر سیاست دانوں کی مثالیں لے آتے ہیں،حالانکہ اس سیاست نے انہیں دیا بھی تو بہت کچھ ہوتا ہے۔منصب، نام و نصب، جاہ و جلال، اربوں روپے، بے بہا جائیدادیں اور نجانے کیا کیا کچھ،بدلے میں اگر تھوڑا سا کڑا وقت آ جائے تو شکوہ کیسا،سیاست کے ظلم کا سامنا تو عوام کو کرنا پڑتا ہے۔سیاسی جماعتوں نے76برسوں میں عوام سے کیے گئے وعدے پورے کئے ہوتے تو آج اُن کی یہ حالت نہ ہوتی۔غربت و افلاس اس طرح معاشرے میں سایہ فگن نہ ہوتیں،جس طرح اِس وقت عوام کا مقدر بنی ہوئی ہیں۔بھلا کون سی جماعت، کون سا لیڈر ایسا ہے، جس نے عوام کے حالات بدلنے کا خواب نہیں دکھایا۔یہ قوم پون صدی بعد بھی روٹی  دال کے نعرے سے آگے نہیں بڑھ سکی۔نواز شریف آج بھی گھوم پھر کے یہی کہتے ہیں، چار روپے کی روٹی 20روپے کی ہو گئی،حالانکہ روٹی کے 20روپے ہونے سے کوئی فرق نہ پڑتا۔اگر عوام کی آمدنی بھی اسی حساب سے بڑھ گئی ہوتی۔ کل یوسف رضا گیلانی ملتان میں پیپلزپارٹی کے ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہہ رہے تھے پیپلزپارٹی جب بھی آتی ہے عوام کے لئے روزگار لاتی ہے۔

یہ بھی ایک ڈھکوسلا ہے۔سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بڑھا دینے یا سرکاری اداروں میں بے تحاشہ بھرتیاں کر دینے سے روز گار سب کو نہیں مل جاتا۔ آج اسی پالیسی کی وجہ سے پی آئی اے، ریلوے، سٹیل ملز اور دیگر ادارے بدترین مالی خسارے کا شکار ہیں،روزگا ملتا ہے جب ملک میں صنعتیں لگتی ہیں۔ نجی شعبہ ترقی کرتا ہے، اندرونی و بیرونی سرمایہ کاری ہوتی ہے۔کوئی سیاسی جماعت یہ کام نہیں کر سکی جس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ بیروز گاری اور مہنگائی عروج پر ہیں اور انہی کو سیاست کا محور بنایا ہوا ہے۔اب تو یہ بات سب کو پتہ چل گئی ہے۔پیپلزپارٹی اقتدار میں آئے تو سرکاری بھرتیاں شروع کر دیتی ہے اور مسلم لیگ(ن) کو اقتدار ملے تو موٹرویز، انڈر پاسز، میٹرو ٹرینوں جیسے منصوبوں پر توجہ دیتی ہے۔کبھی بنگلہ دیش جیسا ماڈل کسی نے اپنانے کی کوشش نہیں کی،چھوٹی صنعتوں کو فروغ دینے،لوگوں کو ہنر مند بنا کے باروزگار کرنے اور جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کر کے ملکی معیشت کو بہتر بنانے کی پالیسی کبھی نہیں بنائی گئی۔اِس وقت خطے میں بھارت معاشی لحاظ سے لیڈر کر رہا ہے۔بنگلہ دیش اُس کے تعاقب میں ہے،ان ممالک کی مثالیں اس لئے دی ہیں کہ بھارت ہمارے ساتھ بنگلہ دیش ہم سے23سال بعد آزاد ہوا۔وہی بنگلہ دیش جو پہلے مشرقی پاکستان تھا تو ہم مغربی پاکستان والے اُسے اپنی معیشت پر بوجھ سمجھتے تھے آج وہ فی کس آمدنی کے حوالے سے کہیں آگے نکل چکا ہے۔

ہم ایک بار پھر انتخابات کی طرف بڑھ رہے ہیں،کوئی انہونی نہ ہوئی تو آج سے چھ دن بعد پولنگ کا عمل جاری ہو گا۔باقی شعبوں میں تو جو کچھ ہے سو ہے،اس شعبے میں بھی آج تک شفاف نظام نہیں لا سکے۔تنازعات کے شور شرابے میں انتخابات ہوتے ہیں اور پھر اگلے پانچ سال میں بے یقینی و بے چینی جاری رہتی ہے۔کیا ہم ایک گم کردہ راہ قوم ہیں، کیا ہمیں معلوم نہیں دنیا کے ممالک اِن باتوں پر قابو پا کر اپنے نظام اور جمہوریت کو مستحکم کر چکے ہیں،ہم ایک شفاف نظام اپنانا نہیں چاہتے یا پھر اُس صلاحیت سے محروم ہیں جو اس کے لئے درکار ہوتی ہے؟ ہر بار یہ کیوں ہوتا ہے کہ کسی جماعت کو آگے لانے اور کسی کو پیچھے دھکیلنے  کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔کل کے مجرم دودھ کے دھلے ثابت ہوتے ہیں اور کل کے شفاف آج کے مجرم ٹھہرتے ہیں۔یہ کھیل تو اب بہت بوسیدہ ہو گیا ہے یہ سکرپٹ تو اب عام آدمی کو بھی سمجھ آ گیا ہے۔اب اس سے آگے بڑھا جائے۔ملک کے بارے میں سوچا جائے،اس طرح تو ہم کولہو کے بیل کی طرح ایک ہی دائرے میں گھومتے رہیں گے اور اگلی پون صدی بھی گذر جائے گی۔یہاں عام امیدوار سے لے کر سیاسی جماعتوں تک یہ تاثر موجود ہے، اقتدار عوام کے ووٹوں سے نہیں ”غیبی امداد“ سے ملتا ہے۔ یہ ایسا منفی تاثر ہے کہ جس نے ہماری جمہوریت کو حقیقی کی بجائے طفیلی جمہوریت بنا دیا ہے۔عوام کی قدر و قیمت بھی اِسی لئے اس نظام میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ڈیل اور دھیل کی باتیں بھی اِسی جمہوریت میں کی جاتی ہیں،جب تک یہ سب کچھ نہیں بدلتا،کچھ بھی نہیں بدلے گا۔

مزید :

رائے -کالم -