بچے کھچے پاکستان میں زندگی رینگنے اور پھر معمول کے مطابق چلنے لگی، صاحب دل لوگ آزردہ تھے اور بے یقینی سے کسی معجزے کا انتظار کرتے رہے

بچے کھچے پاکستان میں زندگی رینگنے اور پھر معمول کے مطابق چلنے لگی، صاحب دل ...
بچے کھچے پاکستان میں زندگی رینگنے اور پھر معمول کے مطابق چلنے لگی، صاحب دل لوگ آزردہ تھے اور بے یقینی سے کسی معجزے کا انتظار کرتے رہے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد سعید جاوید
قسط:174
میں کیا بتاؤں، کسے سناؤں 
عجب انوکھا سا حادثہ ہے
کھڑے کھڑے میرے وطن میں 
میرا وطن مجھ سے کھو گیا ہے
چند روز میں بچے کھچے پاکستان میں زندگی رینگنے اور پھر معمول کے مطابق چلنے لگی تھی۔ صاحب دل لوگ ابھی تک آزردہ تھے اور بے یقینی سے کسی معجزے کا انتظار کرتے رہے کہ شاید یہ ایک بھیانک خواب تھا اور کچھ دنوں میں سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا اور آ ملیں گے سینہ چاکان وطن سے سینہ چاک۔ مگر ایسا نہ ہوا،جب پاکستان معرض وجود میں آیا تھا توہندوستان کے ہندو بھی بڑی دیر تک یہی آس لگائے بیٹھے رہے، لیکن ایسا تب بھی نہیں ہوا تھا۔ ہم نے پاکستان بنانے کا بڑا جواز مسلمانوں کے ساتھ بے انصافی کو بنایا تھا لیکن کیا بنگلہ دیش بن جانے کا سبب بھی ایسی ہی ہماری کوئی کوتاہی تو نہیں تھی؟ اتنا غور کرنے کا وقت کس کے پاس تھا۔ نام نہاد صاحب شمشیر و سناں جا چکے تھے اور ان کی جگہ جاگیرداروں کے ایک ٹولے نے لے لی تھی جن کو شکار گاہوں سے بلا کر وطن کی چابیاں ان کے حوالے کر دی گئی تھیں۔ تب ہی ذوالفقار علی بھٹو نے آگے بڑھ کر ا س دو لخت اور مایوسیوں میں ڈوبے ہوئے ملک کا نظام سنبھالا اور انتہائی جوشیلے اور جذباتی انداز میں بچ رہنے والے وطن کے ٹکڑے جوڑ کر ایک نیا پاکستان بنانے کی نوید دی۔  
 ابھی ہفتہ بھی نہیں گزرا تھا کہ واہ کینٹ کے عسکریہ سینما کی چھت پر لگی ہوئی اینٹی ائیر کرافٹ گن اتار لی گئی، گویا اس کا کام ختم ہو گیاتھا۔ ایک بار پھر اسی سینما میں ناچ گانوں سے بھرپور شوچلنے شروع ہو گئے تھے اور وہ قوم جو اتنے دنوں بغیر تفریح کے نجانے کیسے زندہ رہی تھی، نئی فلموں پر ٹوٹ پڑی اور عام فہم زبان میں زندگی معمول پر آ گئی تھی۔لوگ ایک بار پھر طاؤس و رباب کی طرف مائل ہونا شروع ہو گئے تھے۔
لیکن حقیقتاً ایسا نہیں تھا، فوج کے عام سپاہی اور جوان آفیسر اندر سے بری طرح گھائل تھے ان کے اُترے ہوئے زرد چہرے بظاہر پرسکون تھے،لیکن ان کے اندر انتقام کا لاوہ پک رہا تھا۔ جذباتی لوگ انھیں دیکھ کر ان پر آوازے کستے، اور وہ ندامت سے سر جھکائے چپ چاپ گزر جاتے۔ صاف ظاہر تھا کہ وہ اپنے حکمرانوں کے گناہوں اور نالائقیوں کا کفارہ ادا کر رہے تھے۔کل تک جب وہ سر اور سینہ اٹھا کر چلتے تھے تو لوگ فخریہ انداز سے انھیں دیکھا کرتے تھے، آج ڈیوٹی کے بعد وہ لوگ پہچانے جانے کے خوف سے فوجی ٹوپی اور بیلٹ بھی اتار دیتے تھے۔بنگلہ دیش میں قید ہو جانے والے ہزاروں ساتھیوں کا دکھ اپنی جگہ تھا لیکن اپنی تذلیل، بے بسی اور خفت کا احساس بھی ان کو جینے نہیں دے رہا تھا۔حکومت وقت نے بھی پاکستانی فوج کو بے وقعت کرنے کا ایک سلسلہ جاری رکھا ہوا تھا۔ٹیلیویژن پر پاکستانی جرنیل نیازی کو انتہائی شرمناک حالات میں دشمن کے سامنے ہتھیار ڈالتے دکھایا گیا۔
ابا جان ایک بار پھر گاؤں واپس چلے گئے تھے۔ میں واہ کینٹ میں ہی تھا اور شفیق بھی میرے ساتھ ہی تھا وہ اس وقت تک گریجویشن کر چکا تھا اور ابھی کچھ ہی مہینے پہلے میں اپنے اس روتے بلکتے ہوئے بھائی کو زبردستی سکوٹر کے پیچھے بٹھا کر ایچ ایم سی ٹیکسلا میں لے گیا تھا،جہاں اسے فوراً ہی ملازمت پر کھڑا کر دیا گیا۔ اگر میں ایسا نہ کرتا تو وہ اپنی رنگین مزاجی کی وجہ سے شاید زندگی میں اتنا سنجیدہ اور کامیاب انسان نہ بن پاتا۔ کیونکہ وہ پوری طرح فلمی دنیا میں داخلے کا تہیہ کر چکا تھا اور اس کے لیے اس نے ضروری تیاریاں اور رابطے بھی کر لیے تھے۔ ہر چند کہ ٹائیفائڈ بخار کے ہاتھوں وہ اپنے خوبصورت بالوں سے محروم ہو گیا تھا، لیکن اس نے ہار نہ مانی تھی، اور کسی نہ کسی طرح پیسے جوڑ کر ایک خوبصورت سی وگ بھی خرید لی تھی۔ اس نے لاہور جا کر فلمی سٹوڈیو کے ایک دو چکر بھی لگائے اور دیواروں کے اوپر سے جھانک جھانک کر اندر والوں کو ایک اور ابھرتے ہوئے وحید مرادکی موجودگی کا احساس دلایا لیکن بات کچھ بنی نہیں۔ پھر بھی وہ اب تک اپنے فلمی منصوبے پر قائم تھا۔ وہ اپنے فلمی مستقبل کے حوالے سے اتنا زیادہ پرامید تھا کہ مذاق میں کہا کرتا تھا کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ تم لوگ میرا کارڈ دکھا کر ہی مجھ سے ملنے سٹوڈیو آ سکو گے۔ اس کو ایسی ہی غیر حقیقی سوچوں سے پرے رکھنے اور عملی زندگی میں داخل کرنے کے لیے یہ نوکری اس کے لیے بہت ضروری تھی۔(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -