بلوچستان میں فتنہ بے نقاب، ریاست کا فیصلہ کن وار
بلوچستان ایک طویل عرصے سے تشدد، بداعتمادی اور بیرونی و اندرونی سازشوں کی زد میں رہا ہے، مگر حالیہ دنوں میں جس نوعیت کی منظم دہشت گردی اور اس کے جواب میں ریاستی اداروں کی ہمہ گیر کارروائیاں سامنے آئی ہیں، وہ اس تنازعے کے ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے کی نشان دہی کرتی ہیں۔ 12 مختلف مقامات پر بیک وقت حملوں کی کوشش، شہری آبادی کو نشانہ بنانا، مزدور خاندانوں کا قتل اور ساتھ ہی سکیورٹی فورسز کی جانب سے بروقت اور مربوط ردِعمل، یہ سب مل کر اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ بلوچستان میں بدامنی محض مقامی ناراضی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت آگے بڑھائی جا رہی ہے۔
ریاستی بیانیے میں جن عناصر کو ''فتنہ الہندوستان'' کہا جا رہا ہے، ان کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ ان گروہوں کا ہدف صرف سکیورٹی فورسز نہیں بلکہ وہ عام شہری، مزدور طبقہ اور ترقیاتی عمل بھی ہے جو بلوچستان کو باقی ملک سے جوڑتا ہے۔
گوادر جیسے حساس اور اہم شہر میں مزدور خاندان کے افراد کو نشانہ بنانا محض ایک دہشت گردانہ کارروائی نہیں بلکہ ایک علامتی پیغام ہے کہ جو بھی روزگار، ترقی یا استحکام کی علامت بنے گا وہ ان کے نشانے پر ہوگا۔ اس میں پانچ مردوں، خواتین اور بچوں کی شہادت اس بات کا ثبوت ہے کہ ان گروہوں کے نزدیک نہ اخلاقیات کی کوئی حد ہے اور نہ ہی انسانی جان کی کوئی وقعت۔
کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی اور اس سے منسلک مسلح دھڑے برسوں سے خود کو ایک ''مزاحمتی تحریک'' کے طور پر پیش کرتے آئے ہیں، مگر ان کی عملی کارروائیاں اس دعوے کی نفی کرتی ہیں۔ مسلح کارروائیوں کا رخ اگر سکیورٹی فورسز سے ہٹ کر عام شہریوں کی طرف ہو جائے، تو وہ تحریک نہیں بلکہ دہشت گردی بن جاتی ہے۔
حالیہ واقعات میں یہ حقیقت پوری شدت سے سامنے آئی ہے۔ پنجگور، شعبان اور دیگر علاقوں میں درجنوں دہشت گردوں کا مارا جانا اس بات کی علامت ہے کہ ریاست اب دفاعی پوزیشن سے نکل کر فیصلہ کن کارروائی کی طرف بڑھ رہی ہے، مگر اس کے ساتھ یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ یہ عناصر اتنے منظم، مسلح اور ہم آہنگ کیسے ہو گئے؟یہاں وہ پہلو سامنے آتا ہے جسے سکیورٹی ادارے بیرونی ایما اور سرپرستی سے تعبیر کرتے ہیں۔
بلوچستان کی جغرافیائی اہمیت، چین پاکستان اقتصادی راہداری، گوادر کی بندرگاہ اور معدنی وسائل وہ عوامل ہیں جنہوں نے اس خطے کو عالمی اور علاقائی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ ایسے میں مقامی ناراضی کو ہوا دینا، مسلح گروہوں کو وسائل فراہم کرنا اور انہیں پراکسی کے طور پر استعمال کرنا کوئی نئی حکمتِ عملی نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ کمزور خطوں میں عدم استحکام پیدا کر کے بڑے منصوبوں کو سبوتاژ کرنا ہمیشہ طاقتور ریاستوں کا ہتھیار رہا ہے۔کالعدم بی ایل اے کی مسلح کارروائیوں میں ایک تشویشناک پہلو خواتین کا استعمال ہے، خصوصاً خودکش حملوں کے تناظر میں۔
اگرچہ عملی طور پر خواتین کے ذریعے خودکش حملوں کی تعداد بہت محدود رہی ہے، مگر اس ایک واقعے نے پورے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا۔ کراچی یونیورسٹی میں ہونے والا حملہ، جس میں ایک تعلیم یافتہ خاتون کو خودکش بمبار کے طور پر استعمال کیا گیا، محض ایک حملہ نہیں تھا بلکہ ایک نفسیاتی وار تھا۔ اس کا مقصد یہ باور کرانا تھا کہ اب شدت پسندی نے وہ حد بھی عبور کر لی ہے جہاں عورت، ماں اور استاد جیسے کردار بھی بارود سے باندھ دیے جاتے ہیں۔خواتین کو خودکش حملہ آور بنانے کی حکمتِ عملی محض عسکری نہیں بلکہ نفسیاتی اور نظریاتی بھی ہے۔
دنیا بھر میں شدت پسند تنظیمیں اس طریقے کو اس لیے اختیار کرتی ہیں کہ اس سے معاشرے میں خوف، صدمہ اور غیر یقینی کی فضا زیادہ گہری ہو جاتی ہے۔ عورت کو عمومی طور پر نرم، محفوظ اور غیر مشتبہ سمجھا جاتا ہے، اور جب وہی عورت خودکش حملہ آور کے طور پر سامنے آئے تو ریاست اور سماج دونوں کے لیے یہ ایک غیر متوقع دھچکا ہوتا ہے۔ بلوچستان کے تناظر میں یہ رجحان اس لیے بھی خطرناک ہے کہ یہاں پہلے ہی سماجی ڈھانچہ کمزور، تعلیم محدود اور معاشی مواقع ناپید ہیں۔
یہ سوال بھی اہم ہے کہ آخر ایسی خواتین کو کس طرح ذہنی طور پر آمادہ کیا جاتا ہے؟ تحقیق بتاتی ہے کہ شدت پسند تنظیمیں خواتین کی ذاتی محرومیوں، شناختی بحران، سیاسی بیانیے اور بعض اوقات ذاتی صدمات کو استعمال کرتی ہیں۔ انہیں یہ باور کرایا جاتا ہے کہ ان کی قربانی ایک بڑے مقصد کے لیے ہے، کہ وہ تاریخ کا حصہ بن جائیں گی، اور کہ ان کا عمل کسی اجتماعی نجات کا راستہ ہموار کرے گا مگر حقیقت میں یہ سب ایک بے رحم استحصال ہے، جس میں فرد کی زندگی محض ایک ہتھیار بن کر رہ جاتی ہے۔سکیورٹی فورسز کی حالیہ کارروائیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ریاست اب اس خطرے کو محض عسکری چیلنج نہیں بلکہ ایک ہمہ جہتی مسئلہ سمجھ کر نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بارہ مقامات پر بیک وقت حملوں کو ناکام بنانا، فضائی نگرانی، تعاقبی آپریشنز اور انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اداروں کے درمیان رابطہ بہتر ہوا ہے۔ اس کے باوجود 10 جوانوں کی شہادت یہ یاد دہانی بھی ہے کہ یہ جنگ یک طرفہ نہیں اور اس کی قیمت مسلسل ادا کرنی پڑ رہی ہے تاہم محض عسکری کامیابی اس مسئلے کا مکمل حل نہیں۔ جب تک بلوچستان کے عوام کو یہ احساس نہیں ہوگا کہ ریاست ان کی ہے، ان کے وسائل ان کے فائدے کے لیے ہیں اور ان کی آواز سنی جا رہی ہے، تب تک شدت پسند بیانیہ کسی نہ کسی شکل میں جگہ بناتا رہے گا۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف بندوق سے نہیں جیتی جا سکتی، اس کے لیے تعلیم، روزگار، سیاسی شمولیت اور سماجی انصاف بھی اتنے ہی ضروری ہیں۔ خاص طور پر خواتین کے حوالے سے یہ پہلو اور بھی اہم ہو جاتا ہے، کیونکہ اگر انہیں تعلیم، تحفظ اور باعزت مواقع میسر ہوں تو کوئی تنظیم انہیں آسانی سے استعمال نہیں کر سکتی۔بلوچستان میں حالیہ خونریز واقعات نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ دہشت گردی کا کوئی جواز نہیں، خواہ اسے قوم پرستی کے نام پر پیش کیا جائے یا کسی بیرونی سازش کے پردے میں۔ عام شہریوں، مزدوروں، خواتین اور بچوں کا قتل کسی بھی بیانیے کو باطل ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔ ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ نہ صرف ان عناصر کو کیفرِ کردار تک پہنچائیں بلکہ اس ماحول کو بھی ختم کریں جس میں ایسے عناصر پنپتے ہیں۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بلوچستان کا مستقبل تشدد میں نہیں بلکہ امن، ترقی اور شمولیت میں ہے۔ جو قوتیں اسے خون میں نہلانا چاہتی ہیں، وہ دراصل اس خطے کے عوام کی دشمن ہیں۔ سکیورٹی فورسز کی حالیہ کارروائیاں وقتی طور پر خطرے کو کم کر سکتی ہیں، مگر اصل کامیابی اس دن ہوگی، جب کوئی ماں اپنے بچے کو بارود کے بجائے قلم تھمانے پر فخر کرے ، جب بلوچستان کی بیٹیاں خودکش جیکٹ نہیں بلکہ اپنی تعلیم اور ہنر کے ذریعے پہچانی جائیں۔
۔
نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔
