بلوچ پہاڑوں سے اتر آئیں، کیوں ؟ (3)

بلوچ پہاڑوں سے اتر آئیں، کیوں ؟ (3)
بلوچ پہاڑوں سے اتر آئیں، کیوں ؟ (3)

  

پاکستان کے حکمران طبقات کے رویوں سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرنے کو تیار نہےں۔ اس کی کم آبادی بھی اس مسئلے کے حل میں رکاوٹ ہے ۔ قومی اسمبلی میں اس کی آواز نقار خانے میں طوطی کی سی ہے۔ سینٹ، جہاں تمام صوبوں کو یکساں نمائندگی حاصل ہے، وہ مالیاتی اختیارات سے محروم ہے اور جو حضرات قومی اسمبلی میں منتخب ہوئے ہیں، وہ کوئی جاندار کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ موجودہ اسمبلی جس طرح منتخب ہوئی ہے، اس سے سب واقف ہیں۔ جعلی ڈگریوں اور ایجنسیوں کی آشیر باد سے اس اعلیٰ ادارے میں پہنچے ہیں ۔ 27 لاکھ جعلی ووٹ اس اسمبلی کے لئے استعمال ہوتے ہیں، یہ کو ئی خوش کن تصویر نہیں بنتی۔صوبہ بلوچستان میں دو بڑی قومیں آباد ہیں.... پشتون اور بلوچ.... دونوں اب صوبے کا حصہ ہیں، اگر بلوچستان اپنی موجودہ جغرافیائی حدود میں مکمل بلوچ آبادی کا حصہ ہوتا تو سیاسی نقشہ بہت مختلف ہوتا، لیکن ایسا نہیں ہے۔ جو بلوچ علاقے کبھی بلوچ ریاستوں کے تحت تھے، وہ برطانوی استعمار نے اس طرح تقسیم کئے کہ بلوچ کئی حصوں میں تقسیم ہو گئے اور ان کی برتری ختم ہو کر رہ گئی۔ یہ حصے متحد ہوتے تو پھر کوئی وزن ہوتا، لیکن اب ایسا ہونا مشکل نظر آ رہا ہے ۔

نیپ کے منشور کا حصہ تھا کہ پاکستان کی لسانی اور قومیتی بنیاد پر از سر نو حد بندی کی جائے، مگر اب یہ آواز بہت ہی کمزور ہو کر رہ گئی ہے ۔ جیسا کہ پچھلے کالم میں اس پہلو سے تجزیہ کیا گیا کہ انتخابات میں بلوچ پہلی بار صوبے میں اپنی حکومت تشکیل دے سکے، لیکن وہ مخلوط حکومت تھی، حکومت کا تجربہ نہیں تھا اور بیوروکریسی بلوچستان کی نہیں تھی، ان میں اکثریت کا تعلق پنجاب سے تھا۔ دوسری طرف وفاق میں پیپلز پارٹی نیپ کو گرانے کے لئے مختلف منصوبے بنا رہی تھی، اس لئے مشکلات بڑھ رہی تھیں، اس ماحول میں نیپ کی لیڈر شپ ہیجان کا شکار ہو کر رہ گئی تھی اور بھٹو سے محاذ آرائی میں تیزی آ رہی تھی ....یہ وہ وقت تھا جب ایران میں شاہ کی حکومت تھی اور یہ امریکہ کا سب سے با اعتماد مہرہ تھا ۔ مشرق وسطیٰ میں اس کا کردار ایک تھانیدار کا سا تھا اور وہ امریکی تابعداری میں مکمل جھکا ہوا تھا۔ بلوچستان کی سرحد ایک طرف ایران سے ملی ہوئی تھی تو دوسری طرف افغانستان سے۔ آج جب ان دونوں ریاستوں کا تجزیہ کرتے ہیں تو کچھ عجیب سا لگتا ہے۔ ایک ریاست امریکہ کی پٹھو تھی تو دوسری ریاست سوویت یونین کی پٹھو بنی ہوئی تھی۔ ایران میں بھی نام نہاد انتخابات ہوتے تھے اور افغانستان میں بھی انتخابات ہوتے تھے ۔ دونوں ریاستوں میں کنٹرولڈ انتخابات تھے ۔ دونوں ممالک دستور رکھتے تھے ۔ بظاہر جمہوریت تھی، اسی قسم کا ڈھونگ ریاست قلات نے بھی اپنایا ہوا تھا ۔

یہ کچھ عجیب سا اتفاق نظر آتا ہے کہ ایران اور افغانستان پاکستان کی سیاست کو متاثر کر رہے تھے ۔ ایران میں جو نقشہ بادشاہت کے ذریعے نظر آ رہا تھا، اس کے پس پشت امریکہ تھا اور پاکستان جو بظاہر ایک جمہوری ملک دکھائی دیتا تھا، وہ بھی مکمل امریکی پالیسی کا تابعدار ملک تھا....اب کچھ زیادہ ہی ہو گیا ہے.... امریکی نقطہ نگاہ سے پاکستان امریکی اثرات کے دائرے کا ملک تھا، اس لئے اس کی پوری کوشش تھی کہ پاکستان پرسوویت یونین کے زیادہ اثرات مرتب نہ ہوں، اس لئے بھٹوصاحب نے جب سوشلزم کا نعرہ بلند کیا تھا تو اس میں اسلامی سوشلزم کی دم لگا دی اور ماﺅزے تنگ کیپ پہن کر امریکہ کو باور کرا دیا کہ ان کا سوشلزم سوویت یونین کا سوشلزم نہیں ہے اور نہ وہ سوویت یونین کی جھولی میں جائیں گے ۔ اس پس منظر میں صوبہ سرحد (موجودہ خیبرپختونخوا) اور بلوچستان میں روس نواز حکومتیں بن گئی تھیں ۔ امریکہ کے لئے یہ پریشانی کا باعث تھیں۔ اس تشویش میں سب سے زیادہ شاہ ایران مبتلا تھا۔ اسے علم تھا کہ بلوچستان کی سرحد کے ساتھ بلوچ آبادی کا صوبہ ہے، اس لئے وہ مضطرب تھا کہ اس حصے مےں شورش ہو سکتی ہے، اس لئے امریکہ شاہ کی خوشنودی کی خاطر سب کچھ کرنے کو تیار تھا۔ اسے بلوچستان و سرحد سے نیپ کی حکومت کا خاتمہ مطلوب تھا ۔ بلوچستان اور صوبہ خیبرپختونخوا میں روس نواز نیپ کے ساتھ جمعیت علمائے اسلام دل و جان سے شریک تھی۔ یہ پارٹی سوویت یونین کی مخالف تھی، مگر روس نواز نیپ کی حکومت تشکیل دینے میں سب سے زیادہ معاون ثابت ہوئی۔ بلوچستان میں سردار عطاءاللہ مینگل کو وزیراعلیٰ کا ووٹ دیا اور صوبہ سرحد میںمفتی محمود وزیراعلیٰ بنے....اقتدار کا یہ کھیل بڑا دلچسپ تھا۔

”تو من شدی من تو شدم“.... کی خوبصورت عکاسی نظر آ رہی تھی۔ وہ نسل جو 1970 ءکے انتخابات کی چشم دید گواہ ہے، حالات و واقعات اس کی نگاہوں میں ہیں کہ ولی خان اور مفتی محمود جلسہ عام میں ایک دوسرے کے خلاف انتہائی تند و تیز جملے استعمال کر رہے تھے۔ ولی خان مرحوم نے کئی بار کھل کر کہا کہ ہم جب برطانوی سامراج کے خلاف جدوجہد کررہے تھے تو یہ مولوی حضرات مسجدوں مےں خاموش بیٹھے تھے اور روٹیاں جمع کر رہے تھے، جبکہ جمعیت علمائے اسلام کے مولانا مفتی محمود صاحب سوشلسٹوں اور قوم پرستوں پر برس رہے تھے۔ بلوچستان میں جمعیت علمائے اسلام کے رہنماﺅں نے بھی جلسے میں کہا کہ قوم پرستوں اور سوشلسٹوں کو ووٹ دینا حرام ہے، کسی نے ایسا کیا تو ان کی عورتیں طلاق کی گرفت میں آجائےں گی ، مگر اقتدار کی غلام گردش میں دونوں شیر و شکر ہو گئے اور علماءنے سردار عطاءاللہ مینگل کو ووٹ دے کر بلوچستان کا وزیراعلیٰ بنا دیا ۔ یہ تاریخ کا ایک دلچسپ سین تھا جو سیاست کی اسکرین پر چل رہا تھا ۔

قارئین محترم ! یہ نقشہ مشرقی پاکستان کے علیحدہ ہونے کے بعد کا ہے۔ اس نئے نقشے میں صوبہ بلوچستان اور صوبہ سرحد بہت کمزور ہو گئے تھے۔ جیسا کہ پچھلے کالم میں عرض کیا تھا کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد بلوچ اور پشتون پنجاب کے اکثریتی صوبے کے رحم و کرم پر آ گئے اور ان کی آواز میں اتنی قوت باقی نہ رہی جو مشرقی پاکستان کی موجودگی میں قومی اسمبلی میں ہوتی تھی۔ اس خوف نے پاکستان مےں قوم پرستوںکو کافی حد تک مضمحل کر دیا تھا اور قوم پرستوں کا خواب ایک خواب پریشان میں تبدیل ہو کر رہ گیا تھا۔ انہی حالات میں نیپ کی حکومت کو ختم کرنے کا فیصلہ ہو گیا تو فروری 1973 ءمیں صوبہ سرحد اور صوبہ بلوچستان میں اقتداران کے ہاتھ سے چھین لیا گیا، یوں بلوچستان میں ایک نئی کشمکش نے جنم لے لیا۔ ہمیں اس مرحلے پر ایک بات ذہن میں ہمیشہ تازہ رکھنا ہو گی کہ ایوب خان کے انتخابات سے لے کر جنرل یحییٰ خان کے انتخابات تک بلوچ سیاست کے دائرے میں داخل ہو گئے تھے اور پہاڑوں پر وہ مسلح جدوجہد، جو ایوب خان کے مارشل لاءکے دور میں شروع ہوئی تھی ، ختم ہو گئی۔

پاکستان میں قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے انتخابات نے پورے رخ کو تبدیل کر کے رکھ دیا تھا۔ بلوچستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ سرداروں اور نوابوں کے درمیان ایک عام تعلیم یافتہ بلوچ نوجوان مغربی پاکستان کی اسمبلی میں انتخاب جیت کر پہنچ گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان کی سیاست پر چھا گیا ، جس سے بلوچستان کو ایک توانا آواز مل گئی۔ وہ اسمبلی میں جانے سے پہلے 8سے 10 گھنٹے مطالعہ میں گزارتا، پھر اسمبلی میں بولتا تو سب اس کو غور سے سنتے تھے۔ وہ بلوچستان کے مسائل پاکستان کے اندر رہتے ہوئے حل کرنا چاہتا تھا۔ وہ ایوب خان اور نواب کالا باغ کے خلاف شعلہ بیانی کرتا تھا، لہٰذا اقتدار کے متوالوں نے اسے موت کی نیند سلانے کی کوشش کی اور اس کے جسم میں 6 گولیاں اتار دیں، لیکن وہ بچ گیا اور اس کے ساتھ ایک صحافی کو ایک گولی نے زندگی سے محروم کر دیا ۔ باقی بلوچ کو ہسپتال میں خون دینے کے لئے پنجاب کی یونیورسٹوں کے سینکڑوں طالب علم قطار میں کھڑے تھے، یہ بھی ہماری تاریخ کا حصہ اوردرخشاں باب ہے، جس کو آج کی نسل فراموش کر چکی ہے یا اسے اس کا علم نہیں ہے ۔

قارئین محترم! اس پہلو سے سوچتا ہوں تو کچھ عجیب سا لگتا ہے کہ جس بلوچ کو پاکستان سے محبت ہوتی ہے، وہ بھی زد میں آتا ہے اور جو پاکستان کے خلاف ہے، وہ بھی قتل ہوتا ہے ۔ نواب بگٹی پاکستان کے اندر حقوق چاہتے تھے، وہ بھی تہہ تیغ ہوئے اور بالاچ مری بلوچستان کو آزاد دیکھنا چاہتے تھے، وہ بھی قتل ہوئے.... والیءقلات میر احمد یار خان نے پاکستان کی حمایت کی تو ان کی ریاست پر فوج کشی کی گئی اورانہیں جیل جانا پڑا۔ یہ سب کچھ عجیب سا لگتا ہے ۔

ہم اس پہلو سے تجزیہ کر رہے تھے کہ ایوب خان سے لے کر یحییٰ خان تک بلوچ ایک محب وطن پاکستانی کی حیثیت سے سیاست کے دھارے میں سرگرم عمل تھے، مگر بلوچوں کے حقوق کے لئے مسلسل لب کشا تھے۔ ون یونٹ بننے کے بعد قوم پرستوں کی سیاست کا محور ون یونٹ کا خاتمہ تھا۔ اس جدوجہد میں پشتون، بلوچ اور بنگالیوں کو کوئی 25 سال لگے۔ صرف ایک ہی نعرہ تھا کہ ون یونٹ کو ختم کیا جائے۔ اس میں جتنی دیر ہوتی گئی ، اس کے ساتھ خود مختاری کا نعرہ بھی گونجنا شروع ہو گیا ۔

 1970 ءتک یہ نعرہ لگا اور قوم پرست پارٹیوں نے اسے اپنے اپنے منشور کا حصہ بنا لیا۔ یہ مطالبہ بنگالیوں کا بھی تھا۔ اس نعرے کو سب سے زیادہ منظم شیخ مجیب الرحمان نے کیا اور باقاعدہ اس کو 6 نکات کی شکل میں پیش کیا ۔ مشرقی پاکستان اپنی جغرافیائی حیثیت سے ایک مکمل خودمختار یونٹ کی شکل میں موجود تھا، اس کی حیثیت باقی چاروں صوبوں سے بہت مختلف تھی۔ شیخ مجیب الرحمن نے اپنے 6 نکات کوا یک پمفلٹ کی صورت مےں شائع کیا، یہ پمفلٹ 23 مارچ 1966 ءکو ڈھاکہ سے شائع ہوا، اس کو عوامی لیگ کے جنرل سیکرٹری تاج الدین نے شائع کیا، اس کی قیمت 25 پیسے تھی اور یہ 20 صفحوں پر مشتمل تھا۔ 1966 ءسے ان نکات کو لے کر سیاست میں سرگرم ہوا اور 1971 ءمیں مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا .... فی الحال اس سے صرف نظر کرتے ہوئے ہم اپنے تجزیے کی طرف لوٹتے ہیں.... 1973 ءمیں نیپ کی حکومت ختم کر دی گئی، اس کے لئے عراقی سفارت خانے میں اسلحے کا ڈرامہ رچایا گیا۔ نیپ کے قائدین جیل بھیج دئیے گئے ۔ حیدر آباد جیل مےں بغاوت کا مقدمہ شروع ہوا اور اس کے ساتھ ہی بلوچ ایک بار پھر پہاڑوں پر چلے گئے اور مسلح تصادم شروع ہو گیا۔ یہ تصادم ایوب خان کے دور حکومت سے زیادہ منظم تھا۔ بھٹو مرحوم نے بلوچستان میں اس آپریشن کے لئے فوجی قوت کا بھرپور استعمال کیا، یوں بلوچوں کو امریکی استعمار کی خواہشات کی بھینٹ چڑھایا گیا اور انہیں غدار ٹھہرایا گیا۔ اس کشمکش میں بلوچوں نے ایک طرف پہاڑوں کا رخ کیا تو دوسری طرف افغانستان جانا شروع ہو گئے ۔

 1973 ءمےں افغانستان تبدیلیوں کی زد میں آ گیا تھا ۔ سردار داﺅد نے ظاہر شاہ کا تختہ الٹ دیا ۔ ظاہر شاہ اس وقت غیر ملکی دورے پر تھا ۔ سردار داﺅد ظاہر شاہ کا سالہ تھا ۔ سالے نے بہنوئی کا تختہ الٹ دیا، دونوں کزن بھی تھے۔ اس کھیل کے پس پشت سوویت یونین موجودتھا ....اس تجزیے کا مقصد ان پہلوﺅں کا جائزہ لینا ہے کہ کس طرح وقفے وقفے سے بلوچوں کو جمہوری سیاست سے مسلح جدوجہد کی طرف دھکیلا گیا اور انہیں پاکستان سے بدظن کیا گیا ۔ بات یہاں تک پہنچتے پہنچتے ون یونٹ سے صوبائی خودمختاری تک آ گئی تھی۔ اب جب خود مختاری کی بات شروع ہوئی تو انہیں مسلح تصادم کی طرف لے جایا گیا اور بالکل نئی کشمکش شروع ہو گئی ۔ 1973 ءسے 1977 ءتک یہ سلسلہ چلتا رہا ، پھر جنرل ضیاءالحق نے بھٹو کا تختہ الٹ دیا اور اقتدار پر قبضہ کر لیا، اس کے بعد سیاست کا نقشہ ہی تبدیل ہو گیا ۔ جنرل ضیاءالحق نے حیدر آباد ٹریبونل توڑ دیا اور نیپ کے تمام لیڈروں کو باعزت رہا کر دیا۔ یہ تاریخ کا دوسرا اہم موقع تھا کہ بلوچوں اور جنرل ضیاءالحق میں قربت پیدا ہو گئی۔ ایک بار پھر مسلح جدوجہد ختم ہو گئی۔ نواب خیر بخش مری، سردار مینگل ، میر غوث بخش بزنجو، ولی خان کی ملاقاتیں جنرل ضیاءالحق سے شروع ہو گئیں ۔ یہ جنرل ضیاءالحق کا دور تھا، جب افغانستان سے ایک اور بھونچال اٹھا اور سردار داﺅد کو خاندان سمیت مارکسسٹوں نے تہہ تیغ کر دیا اور ایک نیا خونی کھیل شروع ہو گیا۔ نور محمد ترہ کئی کو جیل سے نکالا گیا اور افغانستان کا صدر بنا دیا گیا۔ اب افغانستان مکمل طور پر سوویت یونین کی گرفت میں آگیا۔ یہ ایک طرح سے کمیونسٹوں کا دور تھا ۔(جاری ہے) ٭

مزید :

کالم -