آتش فشاں سلگ رہا ہے

آتش فشاں سلگ رہا ہے
 آتش فشاں سلگ رہا ہے

  

 صدمے ، تکلیف، غم وغصہ اور کرب ناک احساسات وقت کی دھول ہوتے ہیں۔ واقعات کے جھکڑ اُ ن کو کتناہی ابھاردیں، وہ آخر کار بیٹھ جاتے ہیں ، تاہم گزشتہ ہفتے کی صبح23 سالہ لڑکی ، جس کو چودہ دسمبر کی رات مجرموںکے ایک گروہ نے چلتی بس میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا اور جو سنگا پور کے ایک ہسپتال میں موت و حیات کی کشمکش سے گزررہی تھی، کی زندگی اس جہان ِ فانی میں تمام ہوئی۔ اس کی موت سے دہلی، بلکہ تمام انڈیا پر سکتہ طار ی ہو گیا اب کہنے کو رہ بھی کیا گیا تھا؟سننے کو بھی کچھ نہیں تھا ،کیونکہ گزشتہ دو ہفتوں سے بھارت میں عوامی سطح پر بہت کچھ کہا گیا تھا۔

حکومت سراسیمگی کاشکار تھی، کیونکہ اس موقع پر مذمت کرتی تو کس کی اور تعزیت کرتی تو کس سے؟ آخر کا ر اس نے بہتر سمجھا کہ علامتی جملے ہی ”بہترین حکمت ِ عملی “ ہیں۔اعداد و شمار بہت سے معاملات پر سوچ بچار کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ دہلی میں آبروریزی کا یہ کو ئی پہلا واقعہ نہیں تھا اس سے پہلے صرف 2012ءمیں ہی چھ سو کے قریب ایسے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔ انڈیا روزانہ عصمت دری کے ہزاروں واقعات سے اغماض برت سکتا ہے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس واقعے پر اتنا چراغ پا کیو ں ہے؟کیا اس مرتبہ عوامی غیظ وغضب کی وجہ صرف یہ تھی کہ ایک چلتی ہوئی بس میں اجتماعی زیادتی بدعنوان پولیس کے نظام کی غمازی کرتی ہے کہ اُس نے ایک ایسے ڈرائیور کو بھی لائسنس دے دیا جو ذہنی مریض تھا؟....نہیں، یہ معاملہ اتنا سادہ بھی نہیں رہا کہ پولیس کی بدعنوانی پر تنقید سے عوامی احتجاج تھم جائے گا۔

جب یہ واقعہ پیش آیا تو عام طور پر سمجھا گیا کہ اسمبلی میںکی جانے والی ایک دو تقاریر کافی رہیں گی،تاہم وزیر ِ اعظم من موہن سنگھ اور محترمہ سونیا گاندھی نے اتنا بھی مناسب نہ سمجھا کہ اپنے ”تقریر نویس “ سے کچھ سطریں لکھوا کر پارلیمنٹ میں رسما ً پڑھ ہی لیں۔ مستقبل کی وزارت ِ اعظمیٰ کی امید لگائے ہوئے مسٹر راہول گاندھی بھی کہیں نظر نہ آئے۔ وہ ہفتے کوبھی، جس روز لڑکی کا انتقال ہوا، منظر ِ عام سے غائب رہے، تاہم پارلیمنٹ کے باہر کی دنیا غم وغصے کی آگ میں جل رہی تھی۔ خواتین کے شعلہ فگن نعروںنے وطن کے باسیوں کو سراپا احتجاج بنا دیا۔ اس احتجاج کے ارتعاش کو ارباب ِ اختیار بھی محسوس کئے بغیر نہ رہ سکے۔

بھارت میں آبروریزی کے واقعات میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ نفسیات دان اس رجحان کے پیچھے نفرت پر مبنی جذباتی محرکات تلاش کرتے ہیں ۔ نفرت کا عفریت بہت سی وجوہات تلاش کرتے ہوئے آدمیوں کو اس حیوانیت پر اکساتا ہے۔ شاید اس نفرت کی سب سے ناقابل ِ یقین مثال بنگال کے سابقہ مارکسی وزیر انیس الرحمان کا رویہ تھا،جنہوں نے ریاست کی وزیر ِ اعلیٰ ممتا بنرجی کے لئے نہایت بازاری ، چنانچہ ناقابل ِ اشاعت ، زبان استعمال کی۔ ویسے تو بھارت میں بائیں بازو کی جماعتیں سماجی مساوات کا پرچار کرتی ہیںاور انہوں نے دہلی گینگ ریپ میں ملوث افراد کے لئے سخت تر ین سزا کا مطالبہ کیا ہے، تاہم ہم اس بات کا بھی انتظار کررہے ہیںکہ وہ اپنے سابقہ وزیر کے لئے کیا سزا تجویز کرتے ہیں؟

اس دلخراش سانحہ پر سب سے قابل نفرین بیان آندھرا پردیش سے آیا۔ وہاں کانگرس کے چیف بوٹسا ستیانا ریانا (Botsa Satyanarayana) نامی ایک صاحب ہیں۔ اُن کا اُس بدقسمت لڑکی کے لئے مفت مشورہ ہے کہ اُسے گھرسے نکلتے وقت ”احتیاط برتنی چاہیے تھی“۔ اب جب وہ لڑکی اس دنیا میں نہیں ہے، غالباً ان کا مشورہ بھارت کی تمام لڑکیوںکے لئے ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ ایک معمولی واقعہ تھا، جس کو میڈیانے بڑھا چڑھا کر بیان کیا۔ کیا اس انتہائی غیر ذمہ دارانہ بیان پر اس سنگدل سیاست دان کے خلاف کوئی کارروائی ہو گی؟.... امید تو نہیں ، تاہم تسلی کے لئے اخبارات کا مطالعہ کرتے رہیں۔ اس کے علاوہ ہم نے یہ بھی دیکھنا ہے کہ کیا اس واقعہ سے واقعتا سماجی تحفظ کے لئے درکار اصلاحات کا آغاز ہو جاتا ہے یا ایک مرتبہ پھر سماجی حلقے شور مچا کر چپکے سے بیٹھ رہیں گے؟

سیاسی جماعتوںکے لئے اس ضمن میں ایک تجویز ہے : اصلاحات کا آغاز اپنے گھر سے کریں۔ سیاسی رہنماﺅںنے ، جب ہفتے کو عوامی غیظ و غضب اپنے عروج پر تھا ، بھی اس کے لئے آواز بلند کی ہے، چنانچہ اب اُن کے لئے ضروری ہے کہ وقت کو ٹالنے کی بجائے جلد ہی درست سمت میں اقدامات اٹھاتے نظر آئیں۔ یہ معاملہ جس نہج پر پہنچ گیا ہے، محض اشک شوئی سے حل نہیںہوگا۔ ہر سیاسی جماعت میں، چاہے وہ کانگرس ہویا بی جے پی، چاہے وہ دائیں بازو کی ہوں یا بائیں بازو کی ، ایسے عناصر ضرور موجود ہیں،جو مجرمانہ پس ِ منظر رکھتے ہیں اور ان میں بعض پر آبروریزی کے الزامات بھی ہیں۔ ان میں سے چند ایک انتخابات بھی لڑتے ہیں۔ کیا جماعتوںسے توقع کی جانی چاہیے کہ وہ ان کے خلاف احتسابی کارروائی کریںگی“؟

عام طور پر سیاسی رہنما تبدیلی کے نام پر مبہم اقدامات کو ترجیح دیتے ہیں ،کیونکہ دوٹوک تبدیلی اُن کو راس نہیں آتی ۔ ایک عوامی احتجاج اپنے زوروں پر تھا، ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے رہنے کے بعدمحترمہ سونیا گاندھی نے چھ نوجوانوں کو بلایا اور اُنہیں کہا کہ وہ احتجاج کرنے والے مظاہرین کے جذبات ٹھنڈا کرنے کی کوشش کریں، تاہم یہ کوشش رائیگاں گئی ،کیونکہ میڈیا کے سامنے ان چھ افراد نے اپنے نام بتانے سے انکار کردیا۔ اخبارات نے ان کی تصاویر تو شائع کیں ،مگران کے نام ظاہر نہ کئے گئے۔ کیوں؟ کیا ان افراد کا کانگرس سے تعلق تھا یا یہ دارالحکومت میں احتجاج کرنے والوںکے نمائندے تھے ؟تاہم ایسے نیم دلانہ اقدامات سے احتجاج کی آگ سرد نہیں پڑ سکتی، کیونکہ اس واقعہ نے بہت سے معروضات تبدیل کر دیئے ہیں۔

سب سے بڑی بات یہ ہے کہ دسمبر 2012ءکے اختتامی ایام نے اسے ایک عام سال نہیں رہنے دیا اب پہلی مرتبہ ہندوستان میں خواتین اپنی شناخت، اپنے حقوق ، اپنی سماجی عزت اور وقار کے لئے آواز اٹھا رہی ہیں اور یہ آوازیں قومی سطح پر سیاسی لہجے کو متاثر کر رہی ہیں، چنانچہ بس میں ہونے والا اجتماعی زیادتی کا کیس صرف ایک عام واقعہ ہی نہیں ہے، اس نے ہندوستانی نوجوان کو متحد کر دیا ہے۔ یہ حیوانیت ، درندگی اور بدعنوانی کے خلاف دکھ اور بے بسی کی چیخ ہے، جس نے بے مہار ہوس کو للکارا ہے۔

اس سے پہلے حکومت کا رویہ یہ رہا ہے کہ ہونے والے ہر احتجاج کو بڑی سرد مہری اور حقارت سے رد کر دیا جاتا تھا ۔ انا ہزارے کو ”فراڈ “کہا گیا، اروند کجروال کو ” بے وقعت جھوٹا“قرار دیا گیا ،جبکہ وزراءنے عوامی احتجاج کے ساتھ آواز ملانے والے رہنماﺅں کو آڑے ہاتھوں لیا اور اس ”کارکردگی “ پر اُن کو سونیا گاندھی اور من موہن سنگھ کی طرف سے انعامات (بہتر وزارتیں ) بھی ملے۔ شاید جب لوگ اقتدار میں ہوتے ہیں تو اُن کو آتش فشاں ، اگرچہ سلگ رہا ہوتا ہے، انہیں کھولتے ہوئے لاوے کا اندازہ نہیںہوتا۔

نوٹ ! اس کالم کے جملہ حقوق بحق رائٹ ویژن میڈیا سنڈیکیٹ پاکستان محفوظ ہیں۔ اس کی کسی بھی صورت میں ری پروڈکشن کی اجازت نہیں ہے۔  ٭

مزید :

کالم -