ڈاکٹر طاہر القادری کا ایڈونچر

ڈاکٹر طاہر القادری کا ایڈونچر
ڈاکٹر طاہر القادری کا ایڈونچر

  

علامہ طاہرالقادری کی دھواں دار وطن واپسی کے ساتھ ہی علامہ صاحب کے سپورٹرز اور مخالفین کم و بیش اس نکتے پر متفق تھے کہ ان کے تازہ ایڈونچر کے پیچھے کوئی ہے اور جب اس کوئی کی کھوج شروع ہوتی تو ذہن ٹامک ٹوئیاں مارتا ہوا پاک فوج کی طرف چلاجاتا ....لیکن یہ بہت خوب ہوا کہ آرمی چیف جنرل کیانی نے گزشتہ ہفتے نادرا اسلام آبادکے آفس میں چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات کرکے واضح کردیا کہ فوج ہر حال میں ملک میں انتخابات کے حق میں ہے اور اس سلسلے میں الیکشن کمیشن کی بھرپور معاونت کرے گی!

یہ المیہ ہے کہ اس ملک کے ہر سیاسی جدوجہد کی تان آرمی چیف پر ہی ٹوٹتی ہے جو قائد اعظم اور علامہ اقبال کے بعد ملک میں واحد شخصیت ہوتا ہے جس پر کسی بھی سیاسی بحران میں حکومت وقت کو چھوڑ کر پوری قوم کا اتفاق ہوتا ہے !

 بات سیاستدانوں تک محدود نہیں ، ہمارے ہاں مذہبی رہنما ﺅں نے بھی طاقت کا سرچشمہ آرمی چیف کو سمجھا ہوا ہے ، ان کے خیال میں ہر کڑے وقت میں آرمی چیف کو کسی سپرمین کی طرح آسمان میں تیرتے ہوئے آنا چاہئے اور ملک کی ڈوبتی ہوئی نیا کے نام پر ان کی ناکام ہوتی ہوئی سیاسی جدوجہد کو پار لگانا چاہئے ، ہمارے خیال میں ہر آرمی چیف کو ایسا باامر مجبوری کرنا پڑتا ہے کیونکہ حکومت اور اپوزیشن میں اس قدر نااتفاقی پیدا ہوچکی ہوتی ہے کہ سوائے اس پر اتفاق کے بحران سے نکلنے کا اور کوئی راستہ نہیں بچتا، یہ الگ بات کہ سیاستدان اس نااتفاقی کا سبب اس سیاسی سیل کو قرار دیتے ہیں جس کے بارے میں سپریم کورٹ کو حال ہی میں بتایا گیا ہے کہ بند کردیا گیا ہے !

علامہ طاہر القادری نے اپنے حکومت ہٹاﺅ ، فوج اور جج لاﺅ کے نعرے پر استوار جدوجہدکی عمارت اس سیاسی فلسفے پر رکھی ہے پاکستانی سیاست سے جاگیرداروں کا تسلط ختم کرنا چاہتے ہیں ، لیکن سوال یہ ہے کہ آیا سارے جاگیردار سیاست میں ہی گھسے بیٹھے ہیں یا ان کے کئی عزیز رشتے داربیوروکریسی ،فوج ، مذہب اور میڈیا میں بھی گھس کر اسی جاگیردارانہ سوچ کا مظاہرہ کررہے ہوں جس کے خلاف علامہ صاحب کو شکایت ہوگئی ہے اور جناب الطاف حسین ایک مرتبہ پھر’ اوئے جاگیردارا‘ کا نعرہ مستانہ لگاتے ہوئے ان کے ساتھ آ کھڑے ہوئے ہیں !

 یہ حقیقت ہے کہ جاگیردارانہ ذہنیت دراصل قبضہ گیری کی ذہنیت کے سوا کچھ نہیں، ہر جاگیردارانہ سوچ کے حامل شخص کو بس ایک خیال ہوتا ہے کہ اس کا ہم پلہ کوئی نہیں، اس سے مقابلے کا اہل کوئی نہیں، اس جیسا کوئی نہیں اور اس کے سوا باقی سب نیچ ،کمی کمین اور ناقابل اعتبارہیں، یہ ذہنیت ہمارے ہاں ہر ادارے میں اور ہر شعبہ ہائے زندگی میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہے، جس کا سبب ہماری زمیندارانہ ذہنیت ہے جس سے چھٹکارے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ملک میں جس قدر جلد ممکن ہو صنعت سازی کو فروغ دیا جائے کیونکہ جب تک ہماری معیشت اور معاشرت کا دارومدار زمین سے وابستہ رہے گا تب تک ہر طرح کی کوشش کے باوجود پاکستان میں کالا باغ ڈیم پر اتفاق رائے نہیں ہو سکے گا اور سندھ کی جاگیردار انہ سوچ اسے اپنے پانی پر پنجاب کے قبضے سے تعبیر کرتی رہے گی !

اس پس منظر میں اگر پاک فوج اور بیوروکریسی میں پائی جانے والی جاگیردارانہ سوچ یہ سمجھتی ہے کہ وہی اس ملک کا نظام چلا سکتے ہیں اور سیاستدان اس کے اہل نہیں تو یہ کوئی ایسی انوکھی سوچ بھی نہیںاور اگر اس سوچ کی تائید علامہ طاہرالقادری یا کسی اور سیاسی جماعت کی طرف سے آتی ہے تو ان کی اپنی مجبوری ہے، تاہم مزیدار بات یہ ہے کہ علامہ طاہرالقادری نے پاک فوج کے علاوہ اس بار عدلیہ کو بھی ملک کے سیاسی امور میں شرکت کے لئے اکسایا ہے، شاید اس کا سبب یہ ہے کہ اگر عدلیہ کو باہر رکھا گیا تو جج صاحبان ایک دو تاریخوں میں ہی ایسی مہم جوئی کا تیا پانچہ کردیں گے!

 چنانچہ اگر عوام یہ سمجھتے ہیں کہ علامہ طاہرالقادری کے نئے ایڈونچر کے پیچھے کوئی ہے تو عوام کچھ ایسا غلط بھی نہیں سمجھ رہے، آرمی چیف نے تو اپنی پوزیشن واضح کردی ہے ، سوال یہ ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان ابھی تک کیوں خاموش ہیں؟انہیں بھی فوری ازخود نوٹس لینا چاہئے کہ آئینی طور پر نگران حکومت کے قیام میں عدلیہ کا کوئی کردار نہیں ہے اور ایسے کسی بھی مطالبے کی کوئی آئینی و قانونی حیثیت نہیں ہے۔

مزید :

کالم -