نگران سیٹ اپ کی تیاریاں شروع، خفیہ ایجنسیوں سے بھی مجوزہ نام طلب ، بعض ”اداکاروں “کے نام بھی زیرغور

نگران سیٹ اپ کی تیاریاں شروع، خفیہ ایجنسیوں سے بھی مجوزہ نام طلب ، بعض ...
نگران سیٹ اپ کی تیاریاں شروع، خفیہ ایجنسیوں سے بھی مجوزہ نام طلب ، بعض ”اداکاروں “کے نام بھی زیرغور

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) نگران سیٹ اپ کے لیے تیاریاں شروع کردی گئی ہیں جس کے لیے متوقع امیدواروں کی انٹیلی جنس ذرائع سے تصدیق ہوگی جبکہ بعض اداکاروں کے نام پر بھی غور کیا جارہا ہے۔مقامی میڈیا کے مطابق پیپلز پارٹی نگران سیٹ اپ کے لیے وزرا کے نام فائنل کرنے سے قبل ان کے بیک گراونڈ اور سیاسی خواہشات اور پسند ،ناپسند کے بارے میں انٹیلی جنس ذرائع سے تصدیق کرائے گی تاکہ کوئی ان میں سے بعد میں بنگلہ دیش ماڈل کا حامی بن کر ملک میں نئے انتخابات کی راہ میں رکاوٹ نہ ڈال سکے۔ایک خفیہ ایجنسی سے تو باقاعدہ کہا بھی گیا ہے کہ وہ قابل بھروسہ نام تجویز کریں۔ میڈیاذرائع کا کہنا ہے کہ نواز لیگ اور پیپلز پارٹی طاہر القادری کے نعرے کے بعد چونک گئے ہیں اور وہ نگران سیٹ اپ کے لیے ایسے نام دینے کو تیار نہیں جوکل کلان کو نگرانوں کا اقتدار بڑھانے کے چکر میں پڑ جائیں اور دونوں پارٹیوں کے سربراہ اس وقت کوئی خطرہ مول لینے کو تیار نہیں ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں حکومت پاکستان نے نئے نگران سیٹ اپ کے لیے انٹیلی جنس ایجنسیوں سے ایسے ناموں کی فہرست مانگ لی ہے جو ان کے خیال میں اچھی ساکھ کے مالک ہوں اور ان کے نام پیپلز پارٹی کی حکومت نواز شریف کی ٹیم کے ساتھ جاری مذاکرات میں پیش کرسکے اور مرکز اور صوبوں میں نگران حکومتوں کو فائنل شکل دی جائے۔روزنامہ دنیاکے ذرائع کاکہناہے کہ مجوزہ فہرست جو تیاری کے مراحل سے گزرہی ہے میں بعض نام بہت دلچسب ہیں کیونکہ بعض ٹی وی اینکرز اور چند اداکاروں کے نام بھی اس میں تجویز کئے گئے ہیں۔ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ پیپلز پارٹی اور نواز لیگ نے طاہر القادری کے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کے اعلان کے بعد اپنی رابطوں کو تیز کردیا ہے تاکہ وہ وقت سے پہلے کوئی سیٹ قائم کرنے میں کامیاب ہوجائیں جس کے ذریعے لوگوں کا یقین دلایا جاسکے کہ ملک کی دوبڑی سیاسی پارٹیاں آئین اور قانون کے مطابق الیکشن چاہتی ہیں۔

مزید :

اسلام آباد -