مےاں شہباز شریف اور ڈاک ٹکٹ

مےاں شہباز شریف اور ڈاک ٹکٹ
مےاں شہباز شریف اور ڈاک ٹکٹ
کیپشن: rr

  

اس دنےا میں نہ کوئی امیر ہے اور نہ ہی کوئی غریب ۔ ےہ سب اپنے اپنے خےال کی بات ہے ۔ خےال غریب ہوجائے تو انسان غریب ہوجاتا ہے اور اگر خےال امیر ہوجائے تو امارت قدموں میں آگر تی ہے۔ ایک بڑا مشہور مقولہ ہے کہ ”ےتیم وہ نہیں ہوتا جس کا باپ فوت ہوجائے، بلکہ ےتیم وہ ہوتا ہے جو سوچنے سمجھنے کی صلاحےت سے محروم ہوجائے“.... اسی طرح جس آدمی کی جیب میں مال نہ ہو، وہ غریب نہیں ہوتا، بلکہ جس کے پاس کوئی خےا ل نہ ہو وہ مفلس قرار پاتا ہے ۔ تعلقات عامہ کا ایک سرکاری آفیسر ہونے کے ناتے مجھے ہمہ وقت سرکاری خےال ہی آتے رہتے ہیں اور اب تو عالم ےہ ہے کہ مجھے کبھی کوئی غیر سرکاری خواب بھی نہیں آتا ،کےونکہ مےاں شہباز شریف جیسے انتھک وزیر اعلیٰ کی موجودگی میں غیر سرکاری خواب کی خواہش تو ہو سکتی ہے تعبیر نہیں مل سکتی۔

فطرت نے ےوں تو ہر ایک کو ےکساں انداز سے پیدا کےاہے۔ ہر بچہ ایک بچہ ہی ہوتا ہے اور ہر مرنے والا ایک ہی مےت ، لیکن کچھ لوگوں کو قدرت الگ الگ صفات عطا کرکے دوسروں سے ممتاز کردیتی ہے۔ 1947ءسے لے کر آج کی تاریخ تک کروڑوںبچے پیدا ہوئے ہوں گے، مگر ان میں سے کتنے بچے ایسے ہوئے ہیں جو وزیر اعلیٰ پنجاب بننے کے حق دار ٹھہرے ہیں ،پھر ان تمام وزرائے اعلیٰ میں کتنے ایسے ہیں، جن کو خادم پنجاب کے لقب سے ملقب کےا جا سکتا ہو۔ مَیں بحیثےت ایک کالم نویس اگر مبالغہ اور مغالطہ آرائی سے کام نہیں لے رہا تو ےقینامَیں اس بات کو طشت ازبام کرنے میں حق بجانب ہوں گا کہ ماضی کے کسی بھی روشن دان سے وزارت اعلیٰ کے ایوان میں جھانکا جائے تو مےاں محمد شہباز شریف نے 2008ئسے لے کر اب تک جس طرح غیر معمولی محنت اور لگن سے بڑے بڑے چیلنجوں کو قبول کےا ہے ،وہ اس شہباز شریف پر سبقت لے گئے ہیں،جو شہباز شریف 1999ءمیں پنجاب کا وزیراعلیٰ تھا۔ اپنے ہی اہداف سے آگے بڑھتا ہوا وزیر اعلیٰ پنجاب اس سے قبل میری آنکھ نے نہیں دیکھا ۔

ےہ حقیقت بھی اظہر من الشمس ہے کہ عظیم لوگ ملک و قوم کی خدمت کرتے کرتے تاریخ کے چہرے پر اپنے نام کی مہریں ثبت کرجاتے ہیں۔ ےہ لوگ درد کے صحراﺅں میں بیٹھ کر بھی پُربہار گلستانوں کا سنگ ِ بنےاد رکھنے کی کوشش میں اشکوں کی بارش سے نیک تمناﺅں کے بیج بوکر اُن کی آبےاری کرتے رہتے ہیں ۔ ےہ لوگ بے بسی میں رہ کر بھی دنےا کے لئے نوید حےات کے نسخے لکھتے رہتے ہیں۔ ان کی تشنگی دوسروں کے لئے آب حےات سے کم نہیں ہوتی، مگر دنےا نہیں جانتی کہ دنےا کو سیراب کرنے والے ےہ لوگ خود اپنی پےاس لے کر خاموشی سے رخصت ہوجاتے ہیں ۔ اور جو قومیں اپنے عظیم لوگوں کو فراموش کردیتی ہیں ، تاریخ ان کے ساتھ وہی سلوک کرتی ہے جو سلوک ےہ قومیں اپنے محسنوں سے کر چکی ہوتی ہیں....عظمت کا سفر کرب کا سفر ہوتا ہے۔ جب قوم سورہی ہوتی ہے تو عظیم لوگ اس وقت بھی خواب کو بالائے طاق رکھ کر نیند سے آنکھ کی پتلی کا رشتہ توڑ دیتے ہیں ۔ عظیم لوگوں پر تحقیق کرنے والے محققین کا کہنا ہے کہ عظیم لوگ تین طرح کے ہوتے ہیں ایک وہ جو پیدا ہوتے ہی عظیم ہوتے ہیں ۔ ان کی پیدائش پر فطرت کی طرف سے نشانےاں نازل ہوتی ہیں۔ دوسرے وہ جو محنت کو کرامت بنادیتے ہیں ۔ وہ اپنے عمل میں تو اتر قائم کرتے ہیں ، اپنی لگن میں استقامت ........اپنے سفر میں یکسوئی کے ساتھ چھوٹے چھوٹے قدموں کے ساتھ چل کر آخر ایک دن وقت کی بلند چوٹےاں سر کرلیتے ہیں ۔ اور تیسری قسم کے عظیم لوگ وہ لوگ ہوتے ہیں ۔ جنہیں کوئی خوش نصیب لمحہ، کوئی واقعہ یا کوئی خوشگوار واقعہ اچانک ان کے پاس سے گزر تا ہوا اُنہیں عظیم تر بنا جا تا ہے۔

 برصغیر میں ڈاک کا نظام 16ویں صدی عیسو ی میں شیر شاہ سوری کے دورِ اقتدار میں شروع ہوا ۔ شہنشاہ اکبر کے دور میں اسے باقاعدہ نظام کے طور پر متعارف کروایا گیا ۔جدید انڈین پوسٹ آفس کا قیام 1854ءمیں ہوا ۔ خط پر مہر اور ٹکٹ 1867ءمیں لگائے جانے لگے ۔ممبئی اور برطانیہ کے درمیان ہفتہ وار ڈاک سروس کا آغاز بھی اسی دور میں ہوا،لیکن اسے ملک گیر حیثیت 1877ءمیں حاصل ہوئی ۔1880ءمیں منی آرڈر کا نظام متعارف کروایا گیا۔ہوائی ڈاک سروس 1932ءمیں قائم ہوئی۔پاکستان کے معرض ِ وجود میں آنے کے بعد مغربی اور مشرقی پاکستانی صوبوں کے درمیان ہوائی ڈاک کا نظام 1952ءمیں جاری کیا گیا ۔ 1962ءمیں پارسل کی سہولت متعارف کروائی گئی ۔ 1971ءکے بعد ڈاک کا یہ نظام پاکستان کے گلی کوچوں اور دور دراز دیہاتوں تک پھیلا دیا گیا ۔

 محکمہ ڈاک مختلف قومی و بین الاقوامی سائنسدانوں ، سیاستدانوں ، ماہرین تعلیم ، شاعروں ، ادیبوں ، دانشوروں ، طبیبوں ،صوفیا ءو مشائخ ،عساکر ِ پاکستان کے غازیوں ،شہیدوں اورتحریک پاکستان کے کارکنوں کی تصاویر پر مبنی گاہے بگاہے ڈاک ٹکٹ شائع کرتا رہا ۔ قائداعظم محمد علی جناح ،علامہ محمد اقبال ، ڈاکٹر عبدالسلام ، حفیظ جالندھری ، امیر تیمور ، مولانا شوکت علی ، مولانا ظفر علی خان ، مولوی عبدالحق ، میر جعفر خان جمالی ، مرزا اسد اللہ غالب ، مصطفی کمال اتاترک ، رحمن بابا ، محمد ایوب خان ، سعادت حسن منٹو، سر آدم جی ،الیگزینڈر گراہم بیل،سردار عبدالرب نشتر ،علامہ شبیر عثمانی ،حاجی داﺅد ،کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر عبدالحلیم ، آغا خان ، سرعبداللہ ہارون ، الطاف حسین حالی ، سلطان باہو ، چودھری رحمت علی ،بابا فرید ،مولانا جلال الدین رومی ، احمد ندیم قاسمی ، خوشحال خان خٹک ، حکیم محمد حسن قرشی ، حمید نظامی ، عزیز بھٹی شہید ، راشد منہاس ، شیر شاہ سوری ، بیگم سلمیٰ تصدق حسین ، سر سید احمد خان ، پطرس بخاری ، بیگم رعنا لیاقت علی خان ، بیگم جہاں آرا شاہنواز ، فیض احمد فیض ، محترمہ فاطمہ جناح ، لیاقت علی خان ، عمران خان ، مولانا عبید اللہ سندھی ، سر شاہنواز بھٹو ، سندھ کے پہلے گورنر سر جی ایچ ہدایت اللہ ، محترمہ بینظیر بھٹو شہید اور آصفہ بھٹو زرداری جیسی شخصیات کی تصاویر ڈاک ٹکٹ پر شائع کی جاتی رہی ہیں ۔

 مَیں سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ لاہور کا ملازم اور ایک محب وطن شہری ہوں ، مگر پنجاب اور اہل پنجاب سے مَیں اُتنی ہی محبت کرتا ہوں، جتنی کہ پاکستان اور اہل پاکستان سے ۔ مَیں حکومت پاکستان کے مجاز افسروں کو ےہ تجویز پیش کرناچاہتا ہوں کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مےاں محمد شہباز شریف نے 2008ءسے لے کر اب تک جو معرکتہ الآرا ءکارنامے سرانجام دئےے ہیں، اس کے ریوارڈ کے طور پر وہ اس بات کے مستحق ہیں کہ تاریخ کے چہرے پر ان کے نام کی مہر ثبت ہونی چاہئے ۔ میاں شہباز شریف کا میٹرو بس منصوبہ ، اجالا سکیم ، آشیانہ ہاﺅسنگ سکیم، انسداد ڈےنگی مہم ، لیپ ٹاپ سکیم اور اسی طرح کے دیگر کارہائے نمایاں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمارا یہ فرض بنتا ہے کہ وفاقی حکومت کے محکمہ ڈاک کو یہ سرکاری تجویز دی جائے کہ وہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے کارہائے نمایاں کی بنا پر ڈاک ٹکٹ پر میاں شہباز شریف کی تصویر شائع کرے ۔ یہ تصویر ایک خیال آفرین تصویر بھی ہو سکتی ہے ،جس کی بیک گراﺅنڈ میں میٹرو بس ، اجالا سکیم ، لیپ ٹاپ سکیم انسداد ڈینگی مہم یا آشیانہ ہاﺅسنگ سکیم کا عکس بھی دکھا یا جاسکتا ہے ۔ میرے خیال کے مطابق پنجاب کے باسیوں کا وزیر اعلیٰ واقعی اس بات کا حق دار قرار پاتا ہے کہ ان کی تصویر ڈاک ٹکٹ پر شائع کی جائے ۔

امر واقعہ یہ ہے کہ جوقومیں اپنے عظیم محسنوں کو یاد نہیں رکھنا چاہتیں یا جو قومیں اپنی سرزمین کے عظیم لوگوں کی خدمات پر خراج ِ تحسین پیش کرنے کاسلیقہ نہیں رکھتیں، وہ ایک نہ ایک دن قعرِ مذلت میں گر جاتی ہیں ۔ پنجاب کے عوام سے اگر اس ضمن میں رائے لی جائے تو مَیںدعوے سے کہتا ہوں کہ پنجاب کے قریباً 70فیصد باسی میاں شہباز شریف کے کارہائے نمایاں پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے میری اس تجویز کے حق میں رائے دیں گے ۔ سوائے ان لوگوں کے جو بلدیاتی انتخابات میں کسی دوسری سےاسی جماعت سے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ایسے30 سے 40فیصدلوگ ہر معاشرے کا حصہ ہوتے ہیں اور ان کی موجودگی بھی بے از حد ضروری ہوتی ہے ۔ اگر یہ لوگ موجود نہ ہوں تو پھر ، کھرے اور کھوٹے ، سچے اور جھوٹے ، محنتی اور نکھٹو ،امین اور خائن میں تمیز نہیں ہو سکتی ....میری وفاقی حکومت اور محکمہ ڈاک کے اربابِ اختیار سے گزارش ہے کہ انہوں نے جس طرح ماضی میں قومی و بین الاقوامی ہیروز کی خدمات کو سراہتے ہوئے اُن کی تصاویر پر مبنی اُن کے ڈاک ٹکٹ جاری کئے، اسی طرح انسانی اور ملکی ، سیاسی وسماجی خدمات کے اعتراف کے طور پر وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف کی تصویر کے ساتھ بھی ایک ڈاک ٹکٹ ضرور جاری ہونا چاہئے ۔  ٭

مزید :

کالم -