یادوں کے دیپ.... اختر حیات

یادوں کے دیپ.... اختر حیات

  

اختر حیات سے میری پہلی ملاقات کب اور کہاں ہوئی تھی؟مجھے اچھی طرح یاد ہے.... جولائی2006ءکو جناب احمد ندیم قاسمی پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی آئی سی یو میں سانسوں کے عارضے کے باعث داخل تھے اور یہ ایک ٹی وی چینل کے لئے ان کا بستر علالت سے انٹرویو کرنے آئے تھے۔ ڈاکٹروں نے قاسمی صاحب کو زیادہ گفتگو کرنے سے منع کر رکھا تھا، لیکن یہ اصرار کرتے رہے۔ اُن کی محبت اور خلوص کے آگے قاسمی صاحب کو ہاں کرنا پڑی۔ پھر انہوں نے انٹرویو بھی ریکارڈ کیا اور بستر علالت سے کلام بھی سنا، جس کا وہ اکثر محفلوں میں ذکر کیا کرتے تھے۔

اس کے بعد ہماری کبھی کبھی کسی نہ کسی تقریب میں ملاقات ہو جاتی، لیکن قریب سے جاننے کا موقع ہمیں رانا عبدالرحمن کے بک ہوم سے ملا۔ جب یہ اور سیف اللہ خالد پہلے سے موجود تھے۔ ان دونوں شخصیات کا یہی ایک ڈیرہ تھا۔ وہاں دوستوں کو وقت دیتے، گپ شپ چلتی۔ بک ہوم اور اس کے زیر اہتمام شائع ہونے والی کتابوں پر بہت سے مقامی چینلوں پر پروگرام کروائے۔ عبدالرحمن اور ایم سرور نے میرا تعارف کروانا چاہا تو کہا کہ ہاں مَیں ان کو کم اور ان کے تحقیقی کام کو زیادہ جانتا ہوں اور مختلف کالم اور تبصرے دیکھتا رہتا ہوں۔ مَیں تو آپ کی تلاش میں تھا کہ اپنے چینل کے لئے لاہور کے بڑے قبرستانوں میں بڑی شخصیات پر آپ کی ڈاکو منٹری بناﺅں۔ مَیں نے عرض کیا کہ اختر حیات صاحب اس سے قبل کئی چینل میرے تحقیقی کام پر ڈاکو منٹری بنا چکے ہیں۔ کہنے لگے ٹھیک ہے، لیکن ہم اپنے انداز سے آپ کے تحقیقی ہنر کو لاہور کے باسیوں کو دکھائیں گے۔ مَیں نے کہا کہ جب آپ حکم کریں گے، حاضر ہو جاﺅں گا۔ کہنے لگے، ہاں ریکارڈنگ سے ایک دو روز پہلے ہم ایک میٹنگ کریں گے۔ کِس قبرستان پر کِس انداز سے کام کرنا ہے:

مَیں چپ ہو جاﺅں گا بجھتی ہوئی شمعوں کی طرح

اور کچھ لمحے ٹھہر! اے زندگی! اے زندگی!

پھر فون پر طے پایا کہ آفس آ جائیں، وہاں بیٹھ کر چائے پئیں گے اور شیڈول طے کریں گے۔ آفس گیا تو میرا انتظار کر رہے تھے۔ ہاتھ پکڑا اور کہا چندا کیا حال ہے۔ یہ فقرا مجھے اُن کے مُنہ سے بڑا بھلا لگتا تھا۔ اس مختصر سے فقرے میں کتنی محبت پنہاں تھی، مَیں ہی جانتا ہوں۔ آج میرے کان اس فقرے کو سننے کو ترستے ہیں۔ اُن کے آفس کے قریب چائے کا ریسٹورنٹ ہے، وہاں انہوں نے چائے پلائی۔ مَیں نے میانی صاحب قبرستان پر تیار کاغذی رپورٹ دکھائی کہ ہم نے اس پروگرام میں ان ان مشاہیر کی قبروں کو شوٹ کرنا ہے۔ اس دوران گپ شپ ہوتی رہی۔ریکارڈنگ کے لئے دوسرا دن طے پایا۔ مَیں ان کے آفس میں گیا، وہاں سے ہم تینوں میں اختر حیات اور سید معراج کیمرہ مین وہ جس کے کام سے حیات صاحب کافی مطمئن ہوتے تھے اور بعد میں، مَیں بھی اُن کے کام کا قائل ہوا۔ یہ انتہائی محنت اور اپنے کام سے محبت کرنے والا شخص ہے۔ کیمرے کی باریک بینیوں کو خوب جانتا ہے۔

ہم نے اپنے کام کا آغاز سعادت حسن منٹو سے کیا، پھر آغا حشر کاشمیری، مولانا احمد علی لاہوری، نشان حیدر میجر شبیر شریف شہید، غازی علم الدین شہید، محمد مالک شہید، ظہیر کاشمیری وغیرہ.... تین چار گھنٹوں میں تیس چالیس قبروں پر رپورٹ تیار کی۔ اونچی نیچی قبروں اور پگڈنڈیوں سے گزرزتے ہوئے کہنے لگے یار تمہاری بڑی ہمت ہے۔ دس سال لاہور کے 105قبرستانوں کی تحقیق پر جو جلدیں لکھ ڈالیں۔ یہاں سے فارغ ہو کر ایک ہوٹل میں چلے گئے۔ وہاں جا کر چائے پلائی اور واپسی پر مجھے گھر اتارا۔ وہ رپورٹ ”یہ ہے لاہور“ پروگرام میں ایک مقامی چینل نے دکھائی، جس سے وہ منسلک تھے۔ بے شمار لوگوں نے اسے پسند کیا۔ اس میں میری مختصر گفتگو، قبرستان کی تاریخ اور مشاہیر کے حوالے سے تھی۔ مجھے کیا خبر تھی کہ ایک روز وہ بھی اِسی قبرستان کا حصہ بن جائیں گے اور جاتے جاتے یہ کہہ جائیں گے:

دیکھتے ہی دیکھتے دنیا سے مَیں اُٹھ جاﺅں گا

دیکھتی کی دیکھتی رہ جائے گی دُنیا مجھے

کسی نے کیا خوب کہا ہے، عاشق کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے۔ یہی کیفیت ان کے جنازے میں نظر آئی۔ راقم، رانا عبدالرحمن، ایم سرور، خالد یزدانی، ہم چاروں جنازے میں شریک تھے۔ سیاست دانوں سے لے کر شاعروں، ادیبوں، صحافیوں اور ورکرز کی ایک بڑی تعداد وہاں موجود تھی۔ دوستوں نے ایک ایک مٹھی مٹی اُن کی قبر پر ڈال کر اپنی دوستی کا حق ادا کیا۔ اُن کی میت کو ٹرک میں رکھ کر ہربنس پورہ سے میانی صاحب قبرستان لایا جا رہا تھا۔ آگے آگے ٹرک تھا اور پیچھے پیچھے ہماری گاڑی تھی۔

چوک گنگارام ہسپتال میں ہمارا ساتھ چُھٹ گیا۔ وہ مزنگ چونگی کی طرف چلے گئے اور ہم صفانوالہ چوک پر بک ہوم آ کر اُن کی یادوں کے دیپ روشن کرتے رہے۔ اُن کی شریک حیات کا دو سال پہلے ہی انتقال ہو گیا تھا۔ اُن کی اولاد میں دو بیٹے یاسر اختر حیات اور دوسرے کا نام عمیر اختر حیات ہے۔ شعبہ صحافت میں ان کا بڑا نام اور بہت کام تھا۔ مرحوم کے سینکڑوں شاگرد شعبہ صحافت میں نام پیدا کر رہے تھے۔ اندرون لاہور پر ”فصیل شہر کا نوحہ“ لکھنے والے اختر حیات اب خاموشی کی چادر اوڑھ کر سو گئے ہیں۔ وہ لاہور کا چلتا پھرتا انسائیکلو پیڈیا تھے۔ اس شہر کی تاریخ پر انہیں بڑا عبور حاصل تھا۔ وہ جہاں بھی جاتے، محفل کو مسکرانے پر مجبور کر دیتے۔ ایک اچھے فقرے باز تھے۔ لاہور کی تاریخ پر رپورٹیں بناتے ہوئے چھوٹے موٹے آرکیالوجسٹ مورخ، بلکہ محقق کا روپ دھار لیتے۔ مرحوم اطہر ناسک نے شاید ایسے ہی خوبصورت لوگوں کے لئے کہا تھا:

یقین برسوں کا امکان کچھ دنوں کا ہوں

مَیںتیرے شہر میں مہمان کچھ دنوں کا ہوں

پھر اس کے بعد مجھے حرف ہونا ہے

تمہارے ہاتھ میں دیوان کچھ دنوں کا ہوں

کسی بھی دن اسے سر سے اُتار پھینکوں گا

مَیں خود پہ بوجھ میری جان کچھ دنوں کا ہوں

زمین زادے میری عمر کا حساب نہ کر

اُٹھا کر دیکھ لے میزان کچھ دنوں کا ہوں

اختر حیات دوسروں کو پروموٹ کرنے میں ہمیشہ پیش پیش رہتے۔ مجھے یاد ہے جب بھی اُن سے ملاقات ہوئی، عطاءالحق قاسمی کی طرح دوستوں سے کھلے دل سے تعارف کروانے میں کبھی عار محسوس نہ کرتے۔ جب سیف اللہ خالد سے تعارف کروایا تو انہوں نے میرے تحقیقی کام کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے فوری اپنے سنڈے میگزین کے لئے انٹرویو کیا۔ اختر حیات نے میانی صاحب قبرستان کی طرح گورا قبرستان ظفر علی روڈ اور مومن پورہ قبرستان کی دو اور ڈاکو منٹریاں تیار کیں، جن کو ناظرین نے بہت پسند کیا۔ اس میں مرحوم کی کاوشوں کا بڑا عمل دخل تھا۔ گو آج وہ ہم میں نہیں، لیکن ان کی یادیں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ مجھے یاد ہے کہ ان کی وفات سے چند روز پہلے فون پر بات ہوئی تھی کہ آپ کو دو نئی کتابیں پیش کرنا چاہتا ہوں۔ ایک ”سفر نامہ حج (سجدوں کی سرزمین)“ اور دوسری ”عبداللہ ملک کی جیل یاترا“۔ دونوں کتابوں کی اشاعت پر مجھے مبارکباد دی اور ایک دو روز میں ملنے کا وعدہ کیا۔ اس دوران کبھی وہ مصروف ہو گئے اور کبھی مَیں اپنے تحقیقی کاموں میں الجھا رہا، جس کی وجہ سے ملاقات نہ ہو سکی۔ مرحوم ایک عظیم دانشور، صحافی اور لاہور کی تاریخ زندہ کرنے والے زندہ دل انسان تھے۔ یوں لگتا ہے جیسے صفیہ صدیقی نے اختر حیات کے بارے میں ہی لکھا تھا:

تمہاری یاد میں ہر آنکھ اشکبار ملی

تمہارے کمرے کی ہر چیز سوگوار ملی

کتابیں پوچھ رہی ہیں انہیں پڑھے گا کون

ہے غم تمہارے فسانوں کو اب لکھے گا کون

تمہاری میز پہ رکھے ہوئے رسالے چپ

تمہاری ذات سے وابستہ سب حوالے چپ

عجب اک عالم تنہائی دل پر طاری ہے

گئے ہو آج جو تو کل ہماری باری ہے

اختر حیات جو میرے محسن تھے، ان کے احسان کا بدلہ اتارنا بھی چاہوں تو نہیں اتار سکتا۔ وہ خود تو اپنی نیکیاں سمیٹ کر قبر میں اُتر گئے اور ہمیں دوستی، بھائی چارے اور قربانی کا درس دے گئے۔ ٭

مزید :

کالم -