تعلیم سے تعمیر وطن کا عزم اور حکومت پنجاب

تعلیم سے تعمیر وطن کا عزم اور حکومت پنجاب
 تعلیم سے تعمیر وطن کا عزم اور حکومت پنجاب

  

معیاری تعلیم کی فراہمی معاشرے کے ہر فرد کا بنیادی حق ہے۔اہل دانش تعلیم کے شعبے میں استعمال ہونے والے وسائل کو قوموں کے مستقبل کے لئے بہترین سرمایہ کاری قرار دیتے ہیں۔تعلیم ہی کی بدولت معاشرے کو مہذ ب اورکارآمد شہری میسر آتے ہیں اور اقوام عالم ترقی کی منازل طے کرتی ہیں۔اسی حقیقت کے پیش نظر رواں مالی سال کے دوران پنجاب حکومت نے کل بجٹ کا تقریبا27فیصد تعلیم کے شعبے پر خرچ کرنے کا فیصلہ کیا ۔موجودہ حکومت کا سکول ایجوکیشن بجٹ سابقہ ادوار سے 400گنا زیادہ ہے،چنانچہ صوبائی اور ضلعی سطح پر مجموعی طور پررواں سال سکول ایجوکیشن کے لئے بجٹ میں310ارب 20کروڑ روپے رکھے گئے، جبکہ وزیر اعلیٰ ٰپنجاب محمد شہباز شریف تعلیمی شعبے میں ہونے و الی پیش رفت کی نگرانی بذات خود کرتے رہے ہیں۔ مستقبل کے معماروں کو معیاری تعلیم کی فراہمی کے لئے حکومت پنجاب کی تعلیم دوست پالیسیوں کے تحت پچھلے سال صوبے کے6316سکولوں میں پانچ ارب روپے کی لاگت سے بنیادی سہولتیں فراہم کی گئیں اور آٹھ ارب پچاس کروڑ روپے کی لاگت سے2808 سکولوں کی مخدوش عمارتوں کی بحالی کا کام مکمل کیا گیا۔اس مسئلے کی اہمیت کے پیش نظر حکومت پنجاب نے پچاس ارب روپے کی لاگت سے Strenghthening of School کے ایک جامع اور مربوط پروگرام کا آغاز کیا۔

جس کے تحت حکومت پنجاب کے اس پروگرام میں برطانیہ کے اداراے ڈی ایف آئی ڈی کے تعاون سے دو برسوں میں چھتیس ہزار اضافی کلاس رومز تعمیر کئے جارہے ہیں جن پر 50ارب روپے خرچ ہوں گے۔منصوبے کے پہلے مرحلے میں تعلیمی اداروں میں 10227اضافی کمرے تعمیر کئے جا رہے ہیں۔قوم کے نونہالوں کو بہترین تعلیمی ماحول کی فراہمی کے پیش نظر سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ ورلڈ بینک کے تعاون سے سات ہزار سرکاری سکولوں میں دس ہزار ای سی ای۔۔۔Early Childhood Education۔۔۔ کلاس روم مہیا کرئے گا۔پی سی ون کے تحت اگلے سال تک ایک ہزار سکولوں میں ارلی چائلڈ ہڈ کلاس روم بنائے جائیں گے ، پنجاب بھر کے ایک ہزار دو سوپچیس پرائمری سکولوں میں ای سی ای کمرۂ جماعت تیار کئے جاچکے ہیں۔ منصوبے کے تحت پرائمری سکولوں میں چالیس ہزار سے زائد اساتذہ بھرتی کئے جائیں گے جن میں سے ای سی ای کے اساتذہ مخصوص ہو ں گے ۔

حکومت پنجاب شہری اور دیہی علاقوں سمیت صوبے کے تمام حصوں کی یکساں اور متوازن تعمیر و ترقی پر یقین رکھتی ہے، لہٰذا وزیر اعلیٰ پنجاب کی خصوصی ہدایت پر جنوبی پنجاب کے گیارہ اضلاع میں سیکنڈری سکولوں کی سطح تک بچیوں کی حوصلہ افزائی اور ان کی تعلیمی نظام میںretention کو یقینی بنانے کے لئے چھٹی سے دسویں جماعت کی بچیوں کے لئے ماہانہ وظیفے کی رقم دو سو روپے سے بڑھا کر 1000ر وپے کر دی گئی ہے ۔اس پروگرام سے ان پسماندہ اضلاع کی تقریباً چار لاکھ بچیاں مستفید ہورہی ہیں۔ حکومت پنجاب سکولوں میں اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے کے لئے ایک جامع منصوبے پر عمل پیرا ہیے اس مالی سال کے دوران تما م پرائمری سکولوں کے لئے متعین کردہ سہولتوں کی Yard Stick کے مطابق 75ہزار اضافی ٹیچرمہیاکئے جائیں گے۔ اس طرح ہر پرائمری سکول میں تدریسی خدمات سر انجام دینے کے لئے کم از کم تین اساتذہ کرام کی موجودگی یقینی ہو جائے گی۔ ان بھرتیوں میں میرٹ کی پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کے علاوہ اس امر کو یقینی بنایا جائے گا کہ ان اساتذہ کرام کا تعلق انہی مقامی علاقوں سے ہو، جہاں انہوں نے اپنی تدریسی خدمات سر انجام دینی ہیں۔ اس وقت پنجاب حکومت کے تحت صرف سرکاری سکولوں میں ہی مفت تعلیم نہیں دی جا رہی ،بلکہ باعث افتخار امر یہ ہے کہ اس وقت صوبے بھر کے ہزاروں پرایؤیٹ سکولوں میں 25 لاکھ سے زائد طلباء و طالبات حکومت پنجاب کی مالی معاونت سے مفت تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔یہ مالی معاونت ان سکولوں کو پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے ذریعے فراہم کی جارہی ہے۔ حکومت نے اس سال پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے لئے 12ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی ہے ۔

حکومت پنجاب کا عزم ہے کہ صوبے کا کوئی ہونہار طالب علم محض وسائل کی کمی کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم سے محروم نہ رہے۔اس عزم کی تکمیل کے پیش نظر وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے مستحق اور غریب ہونہار طلباء و طالبات کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے لئے2ارب روپے سے انڈوومنٹ فنڈ قائم کیا جو رواں مالی سال کے دوران 17ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔پنجاب حکومت کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس وقت تک صوبے کے تقریباً ڈیڑھ لاکھ طلباء و طالبات پنجاب ایجو کیشن انڈو ومنٹ فنڈ کے ذریعے وظائف حاصل کر کے اعلیٰ اور پیشہ ورانہ تعلیم سے آراستہ ہو چکے ہیں۔ایجوکیشنل انڈوومنٹ فنڈ سے سکالر شپ حاصل کرنے والے طالب علم اعلیٰ ملکی اوربیرون ممالک تعلیمی اداروں میں بھی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔خادمِ پنجاب کی تعلیم دوست پالیسیوں کی بدولت پنجاب ایجوکیشنل انڈوومنٹ فنڈ کے ذریعے دوسرے صوبوں سے تعلق رکھنے والے تقریباََ 5ہزار طلباء و طالبات کوبھی 10کروڑ روپے سے زائد فنڈز پر مبنی تعلیمی معاونت فراہم کی گئی ہے۔

وزیر اعلیٰ محمد شہباز شریف کی قیادت میں حکومت پنجاب نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار امتحانات میں نمایاں پوزیشنیں حاصل کرنے والے طلباء و طالبات کی حوصلہ افزائی کے لئے انعامات دینے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ میٹرک، ایف اے، ایف ایس سی، بی اے ، بی ایس سی میں پہلی، دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء و طالبات کو بالترتیب 4لاکھ،3لاکھ اور 2 لاکھ روپے کے انعامات ہر سال دیئے جا رہے ہیں،جبکہ طلباء کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ ان کے اساتذہ کرام کو بھی نقد انعامات سے نوازا جاتا ہے۔حکومت پنجاب دیگر صوبوں کے علاوہ فیڈرل بورڈ، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر سمیت امتحانات میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء و طالبات کو 4،4لاکھ روپے کے انعامات بھی دے رہی ہے۔پاک چین دوستی اورسی پی ای سی کی اہمیت کے پیش نظر رواں مالی سال میں چیف منسٹرز چائینیز لینگویج سکالرشپ پروگرام کے تحت طلباء و طالبات کو چین کی بہترین یونیورسٹیوں میں چینی زبان کا دوسالہ کورس کروانے کے منصوبے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس وقت پنجاب بھر سے میرٹ کی بنیاد پر چنے گئے چھیاسٹھ طلباء و طالبات کا پہلابیج۔۔۔Beijing University of Language, Art & Culture ۔۔۔میں اس کورس کا آغاز کر چکا ہے۔ اسی طرح ایک اور انقلاب آفرین منصوبہ ’’شہباز شریف میرٹ سکالر شپ‘‘ کے نام سے متعارف کروایا گیا ہے جس کے تحت حکومت پنجاب میرٹ کی بنیاد پرغریب اور نادار خاندانوں سے تعلق رکھنے والے ہونہار طلباء و طالبات کو دنیا بھر کی اعلیٰ یونیورسٹیوں میں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے لئے مکمل تعلیمی اخراجات برداشت کررہی ہے۔اس ضمن میں ہونہار طلباء و طالبات کو یو کے، جرمنی، سویڈن، ایران، ترکی کی یونیورسٹیوں کے مطالعاتی دورے کرائے گئے ہیں۔ شہبازشریف میرٹ سکالرشپ پروگرام کے تحت امسال پی ایچ ڈی کے لئے جن خوش نصیب طلباء و طالبات کو بیرون ملک بھیجا گیا، ان میں جہلم کے مڈل کلاس گھرانے سے تعلق رکھنے والے ڈی سی او آفس کے جونیئر کلر ک کا بیٹا فرحان جاوید بھی شامل ہے جو سکالر شپ پر کیمبرج یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر رہا ہے۔ اقبال کے یہی شاہین پاکستان کا روشن مستقبل ہیں:

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی ذرخیز ہے ساقی!

صوبے کے طول و عرض میں قائم چودہ دانش سکول بھی فروغ تعلیم کے جذبے سے اس محروم طبقے کے طلباء و طالبات کو جدید معیاری تعلیمی سہولتیں فراہم کر رہے ہیں، جن کے لئے معیاری تعلیم کا حصول ایک خواب سے کم نہ تھا۔ نئے مالی سال کے میزانیہ میں منکیرہ ضلع بھکر اور تونسہ ضلع ڈی جی خان جیسے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں چار مزیددانش سکول قائم کرنے کے لئے تین ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔اس کے ساتھ ٹبہ سلطان ضلع وہاڑی میں طلباء و طالبات کے لئے زیر تعمیر دانش سکولوں پر بھی کام تیزی سے جاری ہے۔خادمِ پنجاب کے وژن کے مطابق غریب اور پسماندہ خاندانوں کے نونہالوں کی تعلیم و تربیت اوران کے بنیا دی حقوق کی فراہمی کے پیش نظر حکومت پنجاب نے بھٹوں پر چائلڈ لیبر کا خاتمہ کر دیا ہے۔پنجاب بھر میں بھٹہ مزدورں کے ہزاروں بچوں، بچیوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کیا جا رہا ہے۔ بھٹہ مزدوروں کے بچوں کو ایک ہزار روپے فی کس ماہانہ، جبکہ داخلے کے وقت 2 ہزار روپے وظیفہ دیا جا رہا ہے۔وزیر اعلیٰ کے ’’پڑھو پنجاب بڑھو پنجاب ‘‘پروگرام کے تحت صوبے میں فروغ تعلیم کے لئے اساتذہ کی خالی اسامیاں بھی پر کی جا رہی ہیں اور رواں سال صوبے کے سرکاری سکولوں میں 75ہزار ٹیچر بھرتی کئے جا رہے ہیں۔ تمام بھرتی ہونے والے نئے اساتذہ کو تدریس شروع کرنے سے پہلے لازمی ٹریننگ فراہم کی جا رہی ہے۔تعلیم سے تعمیر کا عزم کئے ہوئے پنجاب حکومت قوم کے نونہالوں کو معیاری اور جدید تعلیم کی فراہمی کے لئے دوست ممالک اور بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے مختلف پراجیکٹس پر کام کر رہی ہے۔ سرکاری سکولوں کے لئے برٹش کونسل اور ڈی آئی ایف ڈی کی مشترکہ فنڈنگ سے گلوبل ایجوکیشن پروگرام برائے سکولز کے تحت ’’کنیکٹنگ کلاس رومز‘‘ پروگرام کا آغازتعلیم کے شعبے میں پنجاب حکومت کے انقلابی اقدامات کے تسلسل ہی کی ایک کڑی ہے۔ کنیکٹنگ کلاس رومزپروگرام کے تحت 500 سکولوں کو ٹریننگ دی جارہی ہے، جبکہ دوسرے مرحلے میں سکولوں کی تعداد بڑھا کر 2000 کر دی جائے گی۔ کنیکٹنگ کلاس رومز پروگرام سے تعلیم کے شعبے میں ایک عظیم انقلاب آئے گا اور یہ پروگرام شعبہ تعلیم میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔اس پروگرام سے طلباء و طالبات کی صلاحیتیں بھی اجاگر ہوں گی اور وہ دنیا بھر میں اپنے ہم عصروں سے نہ صرف رابطے میں رہیں گے، بلکہ ان کے لئے مطلوبہ معلومات کا حصول اور ریسرچ ورک تک آسان رسائی ممکن ہو سکے گی۔ اسی طرح حال ہی میں برٹش کونسل کے تعاون سے یونیورسٹی کالج لندن کے وفد نے پنجاب کے مختلف سرکاری سکولوں کا دورہ کیا۔یونیورسٹی کالج لندن کے وفدکے دورے کا مقصد سکولوں میں اساتذہ کے کام کے طریقہ کار کا مشاہدہ اور طلباء سے تبادلہ خیال کرنے کے بعدسکول ایجوکیشن میں معیار تعلیم مزید بہتر کرنے کے لئے تجاویزاورسفارشات پیش کرنا تھا۔

یونیورسٹی کالج لندن کے وفد نے لاہو ر کے مختلف سرکاری سکولوں کے کلاس رومز کا مشاہدہ کیا اور وہاں کے اساتذہ اورطلباء سے بات چیت کے بعدای ڈی او،ڈی ای اوز ، ہیڈ ٹیچر ز اور ٹیچر ایجوکیٹرز سے اہم موضوعات پر فوکسڈگروپ ڈسکشن کی اور مختلف تجاویز تیار کرنے کے بعد پیش کیں ۔یونیورسٹی کالج لندن کے وفد نے سکول ریفارمزتجاویز میں بہتر تعلیم نصاب، تعلیمی اصلاحات اوراساتذہ کی استعدادِ کارمیں اضافے سمیت پروفیشنل ڈویلپمنٹ سے متعلق تجاویز تیار کیں۔پاک کینیڈا ڈیٹ سویپ پراجیکٹ کے تحت خواتین ٹرینی ٹیچرز کے لئے ڈیپارٹمنٹ آف سٹاف ڈویلپمنٹ میں 9کروڑ روپے کی لاگت سے 52کمروں پر مشتمل جدید سہولتوں سے آراستہ4سٹوری ٹیچرز ٹریننگ ہاسٹل کی تعمیرپنجاب حکومت کی تعلیم کے شعبے میں انقلابی اقدامات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔پنجاب حکومت نے نظام تعلیم کی بہتری کے لئے دوست ممالک کی مہارت سے فائدہ اٹھانے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔تعلیمی نظام میں بہتری، مہارت، بہترین شرح خواندگی کے حصول، خصوصاََکامیاب ٹیچرز ٹریننگ پروگرام کے لئے دوست ملک سری لنکا کے تعلیمی نظام اور مہارت سے استفادے کے لئے مختلف تجاویز پر کام جاری ہے۔ پنجاب حکومت کی تعلیم دوست پالیسیوں کے تحت صوبے بھر کے سرکاری سکولوں کے طلباء و طالبات کو فری سکول بیگز کی فراہمی کا اصولی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔اس فیصلے کے مطابق پنجاب کے جنوبی اضلاع سے سرکاری سکولوں کے طلباء و طالبات کو فری سکول بیگز کی فراہمی کے منصوبے کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ طلباء و طالبات کو معیاری تعلیم کی فراہمی، جدید علوم سے آگاہی اور بہتر کارکردگی کے حصول کے لئے سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے موجودہ دور کے تعلیمی تقاضوں کے پیش نظر جدیدانٹر ایکٹیوڈیجیٹل بورڈ اور ڈسٹ فری گرین بورڈز کے استعمال کا فیصلہ کیا ہے۔ مختلف سرکاری سکولوں میں ڈیجیٹل بورڈز کی تنصیب سے منصوبے کا باقائدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے تعلیم کے شعبے میں اصلاحات متعارف کروائی جا رہی ہیں،جن کے تحت سکول میگزین کے اجراء کا بھی اصولی فیصلہ کیاگیا ہے، جس پر پیش رفت جاری ہے۔پنجاب بڑا بھائی بن کر دکھا رہا ہے اور اسی سوچ کے تحت بلوچستان کے پسماندہ علاقے گوادر کے بچوں اور بچیوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لئے خادم اعلیٰ پنجاب کی خصوصی ہدایات پر’’خادم پنجاب ماڈل سکول گوادر‘‘ کی بنیاد رکھی گئی۔ دانش سکولوں اور انڈوومنٹ فنڈ میں بلوچستان کے ہونہار طلباء و طالبات کے لئے خصوصی کوٹہ رکھا گیا ہے۔ سی پیک منصوبے کی بدولت گوادر میں ترقی و خوشحالی آئے گی اور برادر صوبہ تیزی سے ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہے۔’’خادم پنجاب ماڈل سکول گوادر‘‘منصوبہ بلوچستان کے علاقے گوادر کے بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرے گا۔ پنجاب حکومت نے اپنے تعلیمی پروگراموں میں تمام صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے بچوں کوبھی شامل کیا ہے۔اس احسن اقدام سے قومی یکجہتی، بھائی چارے اور اخوت کا پیغام عام ہوا ہے۔

مزید : کالم