پیپلز پارٹی کی پنجاب میں مشکل واپسی

پیپلز پارٹی کی پنجاب میں مشکل واپسی
 پیپلز پارٹی کی پنجاب میں مشکل واپسی

  

بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کاوالی صورت حال تھی۔ کہا بھی یہی گیا تھا کہ سرپرائز دوں گا، مگر سوائے ٹھس کے کچھ نہیں ہوا۔ جیالے بھی کچھ ایسے خوش نہیں ہوئے۔ چند بھنگڑے اور کچھ رقص کام آئے اور نہ پارٹی ترانوں نے تسلی کا کام کیا۔ ثابت ہوا کہ پیپلز پارٹی شکست قبول کر چکی ہے اور اب اپنے آپ کو سمیٹنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بچا کھچا اندرون سندھ بھی کہیں ہاتھ سے نہ نکل جائے۔ آصف علی زرداری نے جس مفاہمتی سیاست کا آغاز کیا تھا اسے میثاق جمہوریت کا شاخسانہ تو کہا جاتا ہے لیکن کیا کریں کہ جیالے تو ہنگامہ آرائی کو پسند کرتے تھے اور پھر جس کے ساتھ ساری عمر دشمنی میں گزاری ہو۔ اس کے ساتھ صلح اور مفاہمت کا عرصہ زیادہ دیر چل بھی نہیں سکتا تھا۔ ویسے بھی جب دونوں طرف شدت پسند ہوں اور شدت پسندی میں ہی سیاسی تحفظ محسوس کرتے ہوں تو پھر پلٹنے میں ہی عافیت ہوتی ہے، مگر سیاست میں فیصلے بروقت نہ ہوں تو پھر ہاتھ ملنے کے لئے بھی وقت نہیں ہوتا۔ اب تو مسئلہ پنجاب کا نہیں، جس کی آبادی بھی دیگر تینوں صوبوں سے زیادہ ہے اور اس کی قومی اسمبلی میں نشستیں بھی زیادہ ہیں، جس کی پنجاب میں اکثریت ہوتی ہے جو پنجاب میں فاتح ہوتا ہے، وہ وفاق پر قبضہ جمانے میں بھی کامیاب ٹھہرتا ہے۔ گزشتہ انتخابات میں بھی یہی ہوا آئندہ بھی اسی کا امکان ہے۔ پیپلز پارٹی کا پنجاب سے صفایا ہو گیا تھا۔ اس کے لئے جتنے بھی جواز تلاش کئے جائیں۔ دہشت گردی کو حقائق بنا کر پیش کیا جائے۔ بہت کچھ واضح ہے لیکن اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ پنجاب کے عوام نے مفاہمتی سیاست کو پسند نہیں کیا تھا۔

جمہوریت کا تسلسل بھی ایک صداقت ہے کہ تمام تر رکاوٹوں کے باوجود آصف علی زرداری نے عرصۂ اقتدار پورا کیا۔ انتخابات بھی ہوئے، نئی حکومت کو اقتدار بھی منتقل کیا، مگر۔۔۔ پنجاب پیپلز پارٹی کے ہاتھ سے نکل گیا۔ پیپلز پارٹی اندرون سندھ تک محدود ہو گئی اور اب پنجاب میں پیپلز پارٹی کا دوبارہ متحرک اور فعال ہونا بہت بڑا سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔ بلال بھٹو کا ذوالفقار علی بھٹو کا نواسہ اور بینظیر شہید کا بیٹا ہونا ہی محض کافی نہیں کچھ اور کی بھی اشد ضرورت ہے۔ اس میں گلیمر تو ہے، مگر سیاسی تجربہ، فہم و شعور بھی تو سیاست کے لئے لازم ہوتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ باقی موجودہ جمہوری عرصے کے لئے انہیں اسے قومی اسمبلی میں بٹھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ خود آصف زرداری بھی ان کی سرپرستی کے لئے ساتھ ہوں گے۔ خورشید شاہ کا ساتھ بھی ملے گا، وہ اپوزیشن کا کردار ادا کر کے حکومتی داؤ پیچ سے آشنا ہوں گے۔ اس صورت حال کا گہرائی میں تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انتخابات کی تیاری شروع ہو گئی ہے۔ پہلا مرحلہ پارلیمنٹ میں مقابلہ آرائی سے شروع ہوگا اور پھر عوام کے ساتھ رابطہ مہم کا آغاز ہوگا لیکن کیا کریں کہ پاکستان میں پچھلے کچھ عرصے سے پارلیمانی سیاست معدوم ہو گئی ہے۔ سیاست محض سڑکوں، جلسے، جلوسوں کی ہی سیاست رہ گئی ہے۔ عمران خان نے جس جارحانہ انداز میں سیاست کو ایوانوں سے باہر نکالا ہے اب وہی ایک راستہ باقی لوگوں کی راہ گزر بن رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی نے ہر دو محاذوں پر لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پارلیمنٹ میں بھی شوروغوغا ہوگا اور سیاسی لانگ مارچ کے ساتھ شہر شہر جلسے جلوس ہوں گے۔ اس کا ہدف پنجاب ہوگا، جہاں گزشتہ انتخابات میں عمران خان نوجوان نسل کو متاثر کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی متبادل قوت کے طور پر ابھرے تھے۔ یہ الگ بات کہ وہ اپنی غلط پالیسیوں کی بنا پر آہستہ آہستہ مقبولیت کھوتے چلے گئے۔

آج صورت حال بظاہر مسلم لیگ (ن) کی ہی گرفت میں ہے اور اس کو چیلنج کرنا فی الوقت ناممکن دکھائی دیتا ہے ،کیونکہ اس وقت مسلم لیگ (ن) پنجاب کی تمام میونسپل کارپوریشنوں پر قابض ہو گئی ہے، جبکہ ستر فیصد سے بھی زائد میونسپل کمیٹیوں اور یونین کونسلوں میں بھی اسی کے نمائندے کامیاب ہوئے ہیں۔ اگرچہ کہا تو یہی جاتا ہے کہ جس کی صوبے میں حکومت ہوتی ہے، وہی جماعت ان اداروں میں کامیاب ہوتی ہے، جبکہ دوسرا نقطہ نظر بھی ہے کہ چونکہ عوام کے بنیادی اور مقامی مسائل ان اداروں سے وابستہ ہوتے ہیں، اس لئے ان انتخابات کو لوگوں کی سیاسی پسند وناپسند کو معیار نہیں بنایا جا سکتا۔ عام انتخابات اس سے بالکل مختلف ہوتے ہیں۔ بہرحال۔۔۔حرف آخر میں یہی بات واضح ہے کہ سیاسی جماعتوں نے انتخابات کی تیاری شروع کردی ہے۔ پیپلز پارٹی نے بھی منصوبہ بندی کے ساتھ اپنی بقاء اور سیاسی سلامتی کے لئے پنجاب میں صف آرائی شروع کردی ہے۔ پنجاب میں ہی سیاسی لانگ مارچ ہوگا اور شہر شہر جلسے جلوس کر کے عوام سے ٹوٹا ہوا رابطہ بحال کرے گی ،لیکن یہ کام اب بہت مشکل ہو گیا ہے۔ بہت ساراپانی پلوں کے نیچے سے گزر چکا ہے۔ پرانے سیاسی ورکروں اور جیالوں کی جگہ وہ نئی نسل آ گئی ہے جو محض باتوں اور نعروں کے فریب میں آنے کو تیار نہیں، وہ سیاست اور کارکردگی کو ہم آہنگ دیکھنا چاہتی ہے۔

مزید : کالم