1917 ء کا 100واں سال مبارک ہو

1917 ء کا 100واں سال مبارک ہو
 1917 ء کا 100واں سال مبارک ہو

  

جب اس دنیا میں ٹھیک ایک سو برس پہلے یکم جنوری 1917ء کا سورج طلوع ہوا تو یہ کرہِ ارض پہلی عالمی جنگ کی تباہ کاریوں سے جوجھ رہا تھا۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ اور کتنی تباہی ابھی دیکھنا باقی ہے۔مشرقِ وسطیٰ صرف ڈھائی برس کے دوران عثمانی سلطنت کے ہاتھوں سے نکل کے مغربی طاقتوں کو منتقل ہو چکا تھا۔ 1917ء کے مشرقِ وسطیٰ میں نئی بندر بانٹ کے نتیجے میں اگلے 100 برس کی تباہی کا فارمولا بالفور ڈکلریشن کی شکل میں لکھا گیا۔ برطانیہ نے کسی کی زمین ( فلسطین ) کسی کو الاٹ کردی۔آج یکم جنوری سنہ 2017 ء کا مشرقِ وسطی اسی بندربانٹ کا خونی خمیازہ بھگت رہا ہے۔ سن 1917ء میں یہاں سامراجی سٹیٹ ایکٹرز اور ان کے کٹھ پتلی بچے جمورے ایک دوسرے کو تباہ کر رہے تھے۔

2017ء میں انھی سٹیٹ ایکٹرز کے نان سٹیٹ پوتے پڑ پوتے اور بغل بچے یہی کام خوش اسلوبی سے آگے بڑھا رہے ہیں۔ 1917ء میں وڈرو ولسن کا امریکہ پہلی بار اپنے براعظم سے باہر کسی بین الاقوامی جنگ میں کودا اور پہلی بار اسے احساس ہوا کہ وہ کتنی آسانی سے اس ٹوٹی پھوٹی لالچی دنیا میں ایک سپرپاور کا کردار ادا کرسکتا ہے۔ اس کے بعد امریکہ نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔آج سو برس بعد 2017 ء میں بھی امریکہ قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے۔ مگر جیسے سو برس پہلے جرمنی، فرانس، آسٹرو ہنگیرین ایمپائر اور زار ایک دوسرے سے شکار کے گوشت پر لڑ رہے تھے۔ اسی طرح آج سو برس بعد نیا چین اور نیا روس امریکہ سے اپنا حصہ چھیننا چاہ رہے ہیں۔

امریکہ سو برس پہلے کے اس جرمنی کی طرح لگ رہا ہے جس نے عالمی ڈھلوان پر اپنی پھسلاہٹ روکنے کے لیے تنگ نظر قوم پرستی کا کھونٹا پکڑ لیا اور یہ تنگ نظر قوم پرستی بڑھتے بڑھتے نازیت کے گھر میں پناہ گیر ہو گئی۔جبکہ چین سو برس پہلے کے اس امریکہ کی طرح لگ رہا ہے جو نیا نیا گھر سے دنیا فتح کرنے نکلا تھا۔ اس کش مکش کے نتیجے میں 2017 ء کے بوڑھے امریکہ کی ٹرمپ قیادت اس ملک کو کہاں تک سنبھالا دے پائے گی۔ اس کے لیے انتظار فرمائیے۔ 1917ء میں اس کرہِ ارض پر پہلی بار پسے ہوئے طبقات کے نام پر روسی بالشویکوں نے خونخوار اشرافیہ کا بوریا بستر گول کر کے سوویت یونین کی بنیاد رکھی اور 70 برس بعد خود سوویت یونین کا بوریا بستر گول ہوگیا۔ مگر اس کی راکھ سے ولادی میر پوتن ابھر آیا۔ آج 2017ء کا روس اگرچہ سوویت یونین تو نہیں لیکن اس کا اثر و رسوخ پھر اسی رفتار سے بڑھ رہا ہے جو ایک زمانے میں سوویت یونین کا خاصہ تھی۔

سو برس پہلے بھی یہ دنیا کیمپوں میں بٹی ہوئی تھی۔ آج بھی یہی منظر ہے۔ کردار بدل گئے مگر بھوک وہی ہے۔ الفاظ بدل گئے مگر نیت تو وہی ہے۔ اشکال بدل گئیں مگر انسان تو وہی ہے۔ابھی 2017ء کے 364 دن باقی ہیں۔ مگر سیاست میں تو ایک ہفتہ بھی بہت لمبا عرصہ ہوتا ہے۔ پوتن، شی چن پنگ، ڈونلڈ ٹرمپ، رجب طیب اردوان، نریندر مودی، نیتن یاہو، بشار الاسد، جنرل عبدالفتح سیسی اور داعش کی رولر کوسٹر دنیا میں نئے سال کے دروازے سے داخلہ مبارک ہو۔ارے یاد آیا! 1917ء میں اس کرہِ ارض پر جتنے جانور، چرند، پرند تھے آج ان کے صرف 40 فیصد باقی ہیں۔کیا انھیں بھی ہیپی نیو ایئر کہنا بنتا ہے کہ نہیں اور وہ بھی 'مہذب انسان' کی جانب سے۔

مزید : کالم