حادثہ نہیں ہو گا

حادثہ نہیں ہو گا
 حادثہ نہیں ہو گا

  

افلاطون جہاں بہت کچھ کہتا ہے یہ بھی خیال کرتا ہے کہ خواب ہماری بصیرت ہیں جنہیں ہم خارجی دنیا میں بیداری کی حالت میں یاد کرتے ہیں۔ ایسے ہی خواب کی تعبیر کچھ یوں رہی کہ ٹھٹھرتی شام ایک نہ دوشد ’رانے‘ (رانا محبوب اختر اور سادات رانا) ظہور اور حامد کی آمد اور اس پر یہ قیامت ڈنمارک کے شہر کوپن ہیگن کی صدف مرزا کچھ سہمی سہمی اور لجائی ہوئی تھی خود، مگر بے خوف شاعری، مقام تھا ورجینیا کا ہوٹل ’’مہران‘‘ اور دل ایک دوسرے کامیزبان بس نہ پوچھیئے کس قدر ایک شام نے صدیوں کے طویل فاصلوں کو یوں طے کیا جیسے ’راکٹ‘ دل میں اُترا اور Space station کے گرد خلا میں چکر کاٹتا رہا۔ یہ ’مہران ہوٹل‘ اس قافلہ الفت کا اہم جز یوں ٹھہرا کہ پاکستان کے ممتاز کالم نگار، معتبر سماجی کارکن اور منفرد قسم کے ’سول سرونٹ‘ جناب ’’رانا محبوب اختر‘‘ کا گزشتہ ماہ نومبر میں امریکہ میں پہلا اجتماعی پڑاؤ اس مہران کے نصیب میں آیا۔ پھر تو بعد میں وہاں یوں محفلیں جمیں کہ کیا پوچھیئے۔

خود نامہ بن کے جایئے، اس آشنا کے پاس

ہم بھی دو گھنٹوں کی مسافت طے کر کے ہر دوسرے روز ’مہران‘ کو میزبانی کا اعزاز بخشتے، جہاں پر واشنگٹن، میری لینڈ اور ورجینیا کے کون کون سے تھنک ٹینک سے لے کر آئل ٹینک کے مالکان بھی ان کی جادوئی شخصیت کے حصار سے باہر نہ نکل سکے۔ پہلی نشست میں سینٹر خواجہ اکبر، نعیم ملک، ذوالفقار کاظمی، حامد محمود، ظہور ندیم اور نور نغمی مہمان تھے رانا محبوب کی کتاب ’’لوک بیانیہ اور سیاست‘‘ کی تعارفی تقریبات ہوئیں الیکشن سے قبل سب سے پہلیمیزبانی پڑاؤ میں رانا محبوب صاحب نے بھی ہلری کلنٹن کو نہ صرف امریکہ کیخاتون صدر منتخب ہو جانے کی قبل از الیکشن خوشخبری سنائی بلکہ اس سیاسی خواہش کا اظہار وہ اپنے کالموں میں بہت مرتبہ کر چکے تھے۔ آٹھ نومبر کے الیکشن کے نتائج کے بعد جہاں پر امریکیوں کو ایک دھچکا محسوس ہوا وہاں پر تمام دنیا والوں کے لئے بھی حیران کن نتائج ثابت ہوئے جیسا کہ 2016ء کے امریکی الیکشن مذہبی تعصب کی بھینٹ چڑھے آج کی گلوبل مارکیٹ میں مذہب کا ہتھیار بے پناہ طاقت رکھتا ہے ایٹم بم شائد معاشروں اور انسانیت کو اتنا نقصان نہیں پہنچا سکتا جتنا یہ مذہبی تعصب پر قائم کردہ ہتھیار نسل انسانی کے لئے تباہ کاریوں کا موجب ٹھہرا ہے۔ امید ہے رانا محبوب بھی چشم دید گواہ کی حیثیت سے امریکہ کے سیاسی نظام پر مزید گہری نظر ڈالنے کی کوشش جاری رکھیں گے۔ کیونکہ میرے مشاہدے کے مطابق وہ تجربیت پسند ہیں دوسرے انسانوں کی طرح وہ بھی ذاتی تجربے کے ذریعے اپنی سوچ کو مزید طاقت بخشتے ہیں او رپھر ذاتی مشاہدے سے، تجربے اور علم کا اظہار انہوں نے زبان کے ذریعے یوں کیا کہ ایک ایسی خوبصورت تحریر لکھ ڈالی جس کا عنوان تھا ’’حادثہ نہیں ہوگا‘‘ اس نظم میں دلی وارداتوں، خشک پتوں کے ہوا سے سرسرانے کو پازیبوں کی چھنک تو نہ کہا گیا بلکہ اس کے برعکس ’’سانولی حسینہ‘‘ کے استعارے کو ’’فرانٹس عمر فینون ‘‘(Fantz omer fanon) سے بے حد قریبی تعلق میں نظر آتا ہے۔ فینون کی بیشتر تحریریں استعماریت (colonization) کے خلاف ہیں جن میں بلیک سکن وائٹ ماسک بھی ایک ہے اس کے خالق کو دوسری جنگ عظیم کے بعد ان انقلابی فکر رکھنے والے ادیبوں میں صفحہ اول کی حیثیت اس لئے ملی کہ فینون کی فکر لسانی، تہذیبی اور معاشرتی اصولوں کے نام نہاد سامراجی نظام پر کالونیوں کی تشکیل کرنے کے ساتھ نئے ممالک کو جنم دینے کے خلاف ایک بلند آواز تھی۔ اس لئے فرانسیسی کالونی مارٹینیک (Martinique) میں جنگ عظیم اول کے بعد آنکھ کھولنے والے اس بچے نے مغربی سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف اپنی تحریروں کے ساتھ ساتھ عوامی سطح پر معاشرے میں نمایاں حیثیت حاصل کرلی۔ الجیریا میں پروان چڑھنے والا یہ انسانی رویوں سے بے پناہ محبت رکھنے والا مفکر جو انسانوں پر سامراجیت کے بھوتوں کے خلاف اپنی بظاہر مختصر لیکن کام کے حوالے سے طویل عمر میں کھلم کھلا یہ پیغام دے کر گیا کہ انسانوں اور بالخصوص رنگ و نسل کے نمایاں فرق کو اگر اپنی دھرتی ماں پر بیرونی طاقتیں قبضہ کرنا چاہیں تو حلیئے بدل لو لیکن کسی صورت بھی سامراجیت کو جیتنے نہ دو، وہ سیاہ فام نسل سے تعلق رکھتا تھا اس لئے وہ برملا کہہ گیا سفید چمڑی والے معاشروں میں سیاہ فام لوگوں کو زندہ رہنے کے لئے سفید چھڑی کے ماسک پہن کر زندگی گزارنی پڑے گی وقت نے آج یہ بات ثابت کر دی ہے کہ وہ سیاہ فام جو کبھی غلام کی حیثیت رکھتے تھے آج اگر سفید چاندی جیسی چمڑی والے باشندوں کے ملکوں میں صدیوں سے آباد بھی ہو جائیں تمام مساوی حقوق بھی حاصل کر لیں اورمخصوص وقت تک بے شک کرسی صدارت تک بھی پہنچ جائیں لیکن پھر بھی یہ سفید رنگ والی چمڑی سیاہ کو اندر سے دلی طور پر قبول کرنے میں ایک ہچکچاہٹ محسوس کرتی ہے۔

پہلی جنگِ عظیم نے چار سال تکجاری رہنے کے بعد دنیا کے نقشے کو مکمل تبدیل کر کے رکھ دیا۔ جغرافیائی طور پر خطوں کی نئی تشکیل کے علاوہ نسلوں میں ادل بدل ، نئے معاشروں کا جنم اور کئی سلطنتوں کے ڈھیر ہونے کی وجہ سے نئے ممالک وجود میں آئے۔ آسٹریا کے ولی عہد مرائز فرنینڈس اور ان کی اہلیہ سوفیکے سرب قوم پرست کے ہاتھوں قتل کے بعد یہ واقعات روز رونما ہونے لگے اور چند ہی دنوں میں جرمنی، روس اور پھر فرانس کے بعد برطانیہ اور تمام یورپی ممالک اس جنگ میں کود پڑے جہاں پر برطانیہ نے دنیا کے بے شمار حصوں پر قبضہ کر کے کالونیاں قائم کرلیں وہاں پر امتِ مسلمہ کو شدید دھچکا یوں لگا کہ سلطنت عثمانیہ کا شیرازہ ایسا بکھرا کہ باقی ماندہ موجودہ ترکیہ کے علاوہ ترکی کے مشرقی وسطی علاقوں پر فرانس اور برطانیہ نے قبضہ کر لیا۔ وقت نے یہ ثابت کیا کہ دونوں جنگوں کے اختتام پر یورپی طاقتیں مضبوط ہوئیں۔ حتی کہ انقلاب فرانس کی وجوہات میں مورخ اقتصادی بد حالی پر متفق نہیں۔ یاد رہے کہ یہ وہ زمانہ تھا جب فرانس نے اپنے مالی خزانوں میں سے اعلان ’’جنگ آزادی امریکہ پر بے پناہ اعانت کی لیکن ’’جنگ آزادی امریکہ‘‘ سے وپس آنے والے فرانسیسی سپاہیوں میں ایک انقلابی جذبہ پیدا ہوا جس کی بنیاد جمہوریت، مساوات اور بادشاہت کے خلاف تھی۔ اب سوال یہ ہے کہ صنعتی انقلاب کا باب جو انگلستان سے شروع ہوا کیا وہ یورپی معاشروں سے مذہب، علمیت اور انسانی بنیادی حقوق کو دنیا میں کس حد تک انصاف دلوانے میں کامیاب ہوا؟ یعنی آج بھی اگر کوئی سیکولر شخص انقلابی عمل کا آغاز کرتا ہے یا جانچتا ہے تو اس کی تنقید مادی بنیادوں پر ہوتی ہے۔ ترقی کی بنیاد سائنس کو اگر مان لیں تو کیا یہ مادیت کے بغیر ممکن ہوگا کہ ہم سائنسی ترقی کی منزل تک پہنچ سکیں۔ غریب ممالک یا تیسری دنیا کے ممالک میں ذہین و فطین کو جنم تو دیا جا سکتا ہے لیکن ریسرچ کی لیبارٹریاں اور ان کے تجربات کے اخراجات کے لئے آپ کو اقتصادی مضبوطی اور اقتصادی استحکام کے نظام کی مضبوطی درکار ہے۔ سو اب ایسے حالات میں انسان کیا کرے۔ ذہن کے ان ’’ذہین خلیوں‘‘ (Intelegent Cell) کو بند کر دے یا بستر لپیٹ کر اپنی اپنی کالونیاں آباد کرنے ترقی یافتہ ممالک میں جا نکلے اور وہاں کی ترقی کو مزید ترقی یافتہ کرنے میں مدد گار ثابت ہو۔ اب رانا محبوب صاحب نے نظم بعنوان ’’حادثہ نہیں ہوگا‘‘ تحریر کی ہے۔ میرے خیال میں وہ اس نظم میں ’’داستانِ سفر امریکہ‘‘ بیان کر گئے ہیں۔ اور جب وہ کہتے ہیں ’’شہر زاد سائنس ہے‘‘ ان کی فکر کا یہ اظہار ٹالسٹائی کے فنی موضوعات سے قریب ترین ہے

حادثہ نہیں ہوگا

پرانی اک کہانی ہے

شاعری کا امریکہ

ضرور پڑھیں: بے ادب بے مراد

نغمگی کا امریکہ

ہم سے دور رہتا تھا

تاریخ سرخ ہندی کی

قصہ گو سناتے تھے

دستور دل پہ لکھے تھے

وارث شاہ نہیں تھے یاں

ہیر کی کہانی تھی

وہ بھی سب زبانی تھی

کہانی اب کتابوں میں

اس نئی کہانی میں

سانولی حسینہ کے، سب رواج گزرے ہیں

خواب بھی تو گزرے ہیں

سانولی حسینہ اب

سانول سے چھپ چھپ کر

رنگ گورا کرتی ہے

یہ ایک طویل نظم ہے جس میں سے چند اشعار پیش کئے گئے ہیں، اس کے ذریعے انہوں نے مستقبل کے اندیشوں کے علاوہ تاریخ کے اوراق سے بھی پردہ اٹھایا ہے۔ ہم نے تو آج تک ملتان کی مٹی کے بارے میں یہ سنا تھا کہ وہ رنگ نکھارنے میں بے حد مدد گار ثابت ہوتی ہے لیکن ملتانی مٹی کی ذہانت و فطانت اور ذہنی حسن کے بھی ہم قائل ہو گئے ہیں۔

ہوٹل مہران جو رہا ہر دوسرے دن ان کا میزبان، آج اداس بیٹھا کچھ یوں کہہ رہا تھا!

’’اداسیوں کو اداس کر گئے ہو تم

مگر پیار

بے حساب کر گئے ہو تم‘‘

مزید : کالم