حنیف رامے۔۔۔ مصور، ادیب، مدیر اور سیاستدان!

حنیف رامے۔۔۔ مصور، ادیب، مدیر اور سیاستدان!
 حنیف رامے۔۔۔ مصور، ادیب، مدیر اور سیاستدان!

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ایک شخص میں کئی شخصیتیں، ایک بڑا نام، نیک نام، کئی کام، محمد حنیف رامے۔ بیک وقت مصور، ادیب، مدیر، دانشور سیاستدان۔

اصل نام تو محمد حنیف تھا، 1930ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ چودھری تھے، آرائیں تھے مگر اپنے دوسرے بھائیوں نذیر چودھری، رشید چودھری اور بشیر چودھری کی طرح اپنے نام کے ساتھ چودھری لگانا مناسب نہ سمجھا۔ رامے کا لاحقہ اختیار کیا، یہی ان کا تخلص ٹھہرا اور یہی منفرد، باکمال مصور اور خطاط کا نشانِ امتیاز بھی کہ محمد حنیف رامے نے مصوری اور خطاطی کو یکجا کرنے میں پہل کی۔ پھر تو صادقین اور باکمال مصور اسلم کمال نے اور دیگر کئی مصوروں نے یہ چلن اپنایا، مگر حنیف رامے کی اپنی انفرادیت تھی جو ہنوز برقرار ہے۔

حنیف رامے نے گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے کیا۔ کالج میگزین ’’راوی‘‘ کے ایڈیٹر رہے، مظفر علی سید اور شہزاد احمد ان کے ساتھی تھے جو ادب کی دنیا میں نامور ہوئے۔ رامے صاحب نے پنجاب یونیورسٹی سے 1952ء میں ایم اے (اکنامکس) کیا۔ کچھ عرصہ لارنس کالج گھوڑا گلی (مری) میں پڑھایا بھی، پھر اپنے بھائی کے ادارے مکتبہ جدید سے بطور ایڈیٹر منسلک ہوگئے اور ’’سویرا‘‘ جیسے عہد ساز جریدے کے چند سال ایڈیٹر رہے۔ اس دوران ادارے کی مطبوعات کو خوبصورتی بخشی، عمدہ سرورق بنائے، کتابوں کے اندر ’’السٹر یشن‘‘ بھی کی، حسن طباعت کا نیا معیار دیا۔ قرۃ العین حیدر کا مشہور زمانہ ناول ’’آگ کا دریا‘‘ معاہدے کے مطابق بروقت نہ چھاپنے پر مقدمہ بھی بھگتا۔ نک چڑھی، نازک طبع، تنک مزاج عظیم ناول نگار، افسانہ نویس ’’قرۃ العین حیدر‘‘ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا ’’جب تک میری ایک تحریر چھپ نہ جائے، میں دوسری لکھنے پر خود کو آمادہ نہیں کر پاتی۔ یوں ’’آگ کا دریا‘‘ کی اشاعت میں لامحدود تاخیر نے میرے ذہن کے سوتے خشک کردیئے ہیں‘‘۔ اس دلیل پر وہ مقدمہ جیتیں اور’’آگ کا دریا‘‘ مکتبہ جدید سے چھپ کر مشہور و مقبول ہوا۔ حنیف رامے کے چچا برکت علی چودھری ’’پنجاب بک ڈپو‘‘ کے بانی مُبانی تھے۔ انہوں نے 1929ء میں یہ بک ڈپو اس خیال سے قائم کیا کہ اشاعتی اداروں پر ہندوؤں کی جو جارہ داری تھی وہ کچھ کم ہوسکے۔ پنجاب بک ڈپو نے مسلمانان برصغیر کیلئے درسی کتب کی اشاعت میں لازوال معیار قائم کیا اور بڑا نام کمایا۔ پھر مارچ 1935ء میں ایک بہت بڑا نظریاتی رسالہ’’ادب لطیف‘‘ کی شکل میں جاری کیا۔ اس کے پہلے مدیر طالب انصاری (بدایونی) تھے، جو چند ماہ رہے مگر ’’ٹرینڈ سیٹر‘‘ کی حیثیت سے نام اور آنے والوں کیلئے کام چھوڑ گئے۔ یہ رسالہ 50 سال سے جاری ہے اور آج کل پھر سے اس کے ایڈیٹر ناصر زیدی (راقم الحروف) ہیں۔

محمد حنیف رامے نے گورنمنٹ کالج لاہور سے تعلیم کی تکمیل کے ساتھ اپنے حسیں انتخاب کو مسز شاہین رامے کی شکل میں زندگی بھر کا ہمسفر بنایا تھا۔ شاہین رامے شاعرہ بھی تھیں، ان کا شعری مجموعہ بھی ان کی زندگی میں چھپا، ان کی وفات کے خاصے عرصے بعد حنیف رامے نے دوسری شادی کی جو وقت اور حالات کی ضرورت تھی۔ وقت اور حالات کی ضرورت پر مجھے یاد آیا کہ منفرد لب و لہجے کے شاعر منیر نیازی کو اپنی پہلی اہلیہ صغریٰ سے بے حد پیار تھا۔ کہا کرتے تھے ’’یہ میری محبوبہ ہے، بیوی بھی اور ماں بھی کہ اس میں ممتا کوٹ کوٹ کے بھری ہے‘‘۔ سچی بات ہے محترمہ صغریٰ نے منیر نیازی کو زندگی بھر سنبھالا مگر ان کی وفات کو ابھی کچھ عرصہ نہ گزرا تھا کہ منیر نیازی نے دوسری شادی کرلی۔ میں نے یاد دلایا ’’نیازی صاحب! اتنی جلدی! ابھی تو آپ کی محبوب بیوی کا کفن بھی میلا نہیں ہوا‘‘۔

کہنے لگے: ’’ناصر! میرے کولوں روٹی نہیں پک دی‘‘۔

تو بہت سے ایسے باوفا مردوں کو بعض اوقات حالات کا جبر بھی مجبور کردیتا ہے یوں بھی تنہائی بہت بڑا عذاب ہے اور اگر تنہا رہ جانے والا شاعر، ادیب، مصور، دانشور اور سیاستدان بھی ہو تو پھر ساتھی کی کمی کو جلد سے جلد پورا کرنا، ناگزیر ہو ہی جاتا ہے کہ جانے والا تو خاموشی سے چل دیتا ہے مگر بقول شاعر، گلزار ہاشمی:

جانے والا خامشی سے چل دیا

یہ نہ سوچا کون تنہا رہ گیا

تنہائی کے عذاب کو نہ جھیلنے کے واسطے ہی حنیف رامے بھی دوسری بار شادی شدہ ہوگئے تھے۔ فارنر بیوی سے رفاقت بہت زیادہ برسوں پر محیط نہ رہ سکی کیونکہ اب حنیف رامے اپنی غیر ملکی بیوی کو تنہا چھوڑ گئے۔ ابراہیم رامے ان کے ہونہار بیٹے اور مریم رامے بیٹی ہیں جو اپنے والد کے نام اور کام کو آگے بڑھا رہی ہیں۔

محمد حنیف رامے نے اپنا نام اور مقام مُو قلم اور قلم سے بنایا اگرچہ پبلشنگ ان کے سب بھائیوں کا جما، جمایا پیشہ تھا مگر حنیف رامے نے اپنے بڑے بھائی کے ادارے مکتبۂ جدید اور مکتبہ جدید پریس کو بڑھاوا دینے کے ساتھ ساتھ اپنا ذاتی اشاعتی ادارہ ’’البیان‘‘ بھی قائم کیا اور ایک ہفت روزہ ’’نصرت‘‘ بھی جاری کیا جو ’’سویرا‘‘ سے الگ تھلگ ادبی، سیاسی، معاشرتی جریدہ تھا۔ پھر روزنامہ ’’مساوات‘‘ نکالا جسے بعد ازاں اپنی پیپلز پارٹی کا ترجمان بنا دیا اور خود چیف ایڈیٹر بن گئے۔ اس دور میں ہم نے دیکھا کہ کارکن حضرات بیدردی سے کاغذ کا استعمال کرتے ہوئے اچھے بھلے لکھنے کے کاغذ کو ٹشو بناکر ہاتھ منہ پونچھ کر پھینک دیتے یا ’’آل پن‘‘ زمین پر بکھیر دیتے تو رامے صاحب خود آل پن زمین سے چن کر میز پر رکھتے ہوئے بتاتے کہ نوزائید ہ ملک میں شروع شروع میں آل پن کے بجائے ببول کے کانٹوں سے کاغذ کو نتھی کرنے کا کام لیا جاتا تھا، اب ہم اس بیدردی سے چیزوں کے ضیاع کے کسی طرح بھی متحمل نہیں ہوسکتے۔ کاغذ کے بارے میں بتاتے کہ قیام پاکستان کے ابتدائی دنوں میں ایک طرف کے استعمال شدہ کاغذ کو الٹا کرد وسری طرف کو استعمال میں لایا جاتا، اب کاغذ میسر ہے تو لکھنے والے کاغذ کو ٹشو پیپر کے طور پر استعمال کرکے ضائع نہ کریں۔ یعنی وہ قوم کے غم میں خاصے جز رس تھے چنانچہ جب انہوں نے اپنی سیاسی پارٹی بنائی تومساوات پارٹی کے کارکنوں کو دال روٹی کھلائی جاتی تھی، پارٹی فنڈ یا قومی خزانے سے اللے تللے نہیں ہوتے تھے۔ گویا وہ عملی طور پر ان لیڈروں میں سے نہیں تھے جن کیلئے اکبر الٰہ آبادی کہہ گئے ہیں:

قوم کے غم میں ڈنر کھاتے ہیں حکام کے ساتھ

رنج لیڈر کو بہت ہے مگر آرام کے ساتھ

سیاستدان کے طور پر حنیف رامے نے قید و بند کی صعوبت بھی جھیلی۔ خصوصی عدالت سے ساڑھے چار سال قید اور پچاس ہزار روپے جرمانہ ہوا۔ سوا سال بعد ہائی کورٹ سے رہائی کا حکم ملا۔ وہ مصوری، معلمی اور پبلشنگ سے ہوتے ہوئے ادارت تک پہنچے۔ مرکزی اردو سائنس بورڈ کے ریسرچ آفیسر اور ڈائریکٹر بھی رہے۔ پیپلز پارٹی میں اصولی کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے آگے بڑھتے ہوئے صوبائی مشیر خزانہ، وزیر خزانہ (پنجاب) اور وزیراعلیٰ تک رہے۔ درمیان میں پی پی پی سے بلکہ بھٹو صاحب سے نظریاتی اختلاف ہوا تو پیر پگارہ کی مسلم لیگ کے چیف آرگنائزر ہوگئے اور بالآخر پاکستان پیپلز پارٹی میں واپس آکر سپیکر پنجاب اسمبلی بھی رہے۔ سینیٹر بھی بنے۔ سیاست کے میدان میں جہاں جہاں بھی رہے، نیک نام رہے۔ ادیبوں، شاعروں کیلئے عملی طور پر مددگار ثابت ہوئے کہ علامہ اقبال ٹاؤن میں رائٹرز کالونی کیلئے منہ مانگے پلاٹ الاٹ کئے۔

محمد حنیف رامے نے مصوری، خطاطی، ادارت، سیاست کے علاوہ شاعری بھی کی مگر ان کی اہلیہ محترمہ شاہین رامے کی طرح الگ سے شعری مجموعہ تو شائع نہیں ہوا مگر متعدد نثری کتابیں ضرور معرض وجود میں آئیں، جن میں مضامین کا ایک فکر انگیز مجموعہ ’’دُبِّ اکبر‘‘ بہت مشہور ہوا اور ایک کتاب ’’پنجاب کا مقدمہ‘‘ بے حد پذیرائی حاصل کرچکا اور مدتوں متنازع طور پر زیر بحث بھی رہا۔

مزید : کالم