چیف جسٹس ثاقب نثار اور نئی تاریخ رقم کرنے کی سعادت

چیف جسٹس ثاقب نثار اور نئی تاریخ رقم کرنے کی سعادت
 چیف جسٹس ثاقب نثار اور نئی تاریخ رقم کرنے کی سعادت

  

چیف جسٹس ثاقب نثار کے عہدہ سنبھالتے ہی پانامہ لیکس کے لئے نئے بنچ کی تشکیل اور خود کو اس بنچ سے علیحدہ رکھنے کا فیصلہ اس امر کا واضح اظہار ہے کہ 2017ء میں عدلیہ پہلے سے زیادہ غیر جانبدار اور فیصلہ کن کردار ادا کرنے کی حکمت عملی اختیار کر چکی ہے۔ عمران خان نے اس فیصلے کی تعریف کی ہے تاہم ان کا یہ کہنا کہ اس کیس کا فیصلہ جنوری ہی میں ہو جائے اور سپریم کورٹ روزانہ کی بنیاد پر اس کی سماعت کرے ایک نامناسب سی بات ہے۔ یہ اختیار سپریم کورٹ کے بنچ کا ہے کہ وہ کس طرح اور کیسے اس کیس کی سماعت کرتا ہے اس میں مدت کا تعین تو خود یہ بنچ بھی نہیں کر سکتا کیونکہ شواہد کی مکمل دستیابی تک کیس کا فیصلہ نہیں ہو سکتا عدلیہ کو سیاست سے دور ہی رکھا جائے تو بہتر ہے۔ پچھلے دنوں جب جاوید ہاشمی نے ایک ٹی وی ٹاک شو میں یہ کہا کہ دھرنے کے موقع پر عمران خان نے یہ کہا تھا کہ سپریم کورٹ عبوری سیٹ اپ بنا دے گی۔ جس کے تحت انتخابات ہوں گے، تو اس پر بڑی لے دے ہوئی۔ پی ٹی آئی والے اس بات سے انکار کر رہے ہیں اور جاوید ہاشمی اس پر مُصر ہیں۔ کون سچا ہے کون جھوٹا، اس کا فیصلہ کبھی نہیں ہو سکے گا۔ مگر خوامخواہ عدلیہ کے بارے میں ایک رائے قائم ہو جائے گی۔ سپریم کورٹ کا ہر جج بڑے مراحل سے گزر کر اس عظیم منصب پر فائز ہوتا ہے، اس لئے کسی بھی بنچ میں چاہے جج کوئی بھی ہوں، وہ ہوتا سپریم کورٹ کا بنچ ہے۔ اس پر انگلی اٹھانے یا یہ تاثر دینے کی بجائے کہ اس کی غیر جانبداری مشکوک ہے، اس کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے جسٹس ثاقب نثار نے پاناما کیس بنچ سے خود کو علیحدہ کر کے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ ان کے بارے میں کچھ حلقوں کی طرف سے جو افواہیں پھیلائی گئیں وہ سب غلط ہیں۔ اصل بات وہی ہے جو انہوں نے چند روز پہلے لاہور ہائیکورٹ کی گولڈن جوبلی کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہی کہ قوم دیکھے گی عدلیہ آزاد بھی ہے اور دباؤ سے بالا تر بھی۔ اس کے فیصلے بولیں گے اور قوم کے عدلیہ پر اعتماد کو بحال کریں گے۔

ایسا شاید ہی پاکستان کی تاریخ میں پہلے ہوا ہو کہ نئے سال کی ابتدا پر کسی چیف جسٹس نے اپنے عہدے کا حلف لیا ہو، یہ بہت علامتی لمحہ ہوتا ہے کہ سال نو کے آغاز پر آپ اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھالیں، اس لئے یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ چیف جسٹس ثاقب نثار عدلیہ میں نئی روح پھونکنے کی پوری کوشش کریں گے۔ وہ بے شک کچھ نہ بولیں، کوئی ریمارکس نہ دیں، کوئی بریکنگ نیوز نہ چلوائیں، اُن کے فیصلے اور اقدامات بولیں گے۔ پچھلے دو تین چیف جسٹس صاحبان نے میڈیا کو اپنی طاقت سمجھا اور ایسے بیانات دیتے رہے جو شہ سرخیوں کا باعث بنے سب سے اولین فیصلہ تو یہ ہونا چاہئے کہ عدلیہ کو بے بس ثابت کرنے کا رویہ ترک کر دیا جائے۔ جب ملک کی سب سے بڑی عدالت کے چیف جسٹس تقریبات میں اس بات کا رونا روتے رہیں گے کہ حکومت میں فرعون بیٹھے ہیں اور ہمارے فیصلوں پر عمل نہیں کیا جا رہا، اگر ایسا ہی کرنا ہے تو ہم سپریم کورٹ کو بند کر دیتے ہیں، وغیرہ وغیرہ تو یہ تاثر ابھرتا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کا موقر ترین ادارہ بھی انصاف دینے کے معاملے میں بے بس ہے۔ حالانکہ عدالت کو اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کرانے کا مکمل اختیار حاصل ہے ایسا نہ کرنے والوں کے لئے سزائیں اور دیگر اقدامات بھی واضح ہیں۔ اس قسم کے خیالات کسی جج کی زبان سے نکلنے ہی نہیں چاہئیں۔ اس سے بہتری کی بجائے حالات میں ابتری کا سلسلہ مزید بڑھ جاتا ہے۔ مثلاً حال ہی میں سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی اکثر تقریبات میں حالات کی خرابی کا ذکر کرتے رہے، لوگ پوچھتے تھے کہ اگر ملک کا چیف جسٹس بھی ایک عام آدمی کی طرح حالات کی خرابی کا بے بسی کے ساتھ ذکر کرتا ہے اور ان میں بہتری کے لئے کوئی اقدامات نہیں اٹھا سکتا، تو پھر کون سی غیبی قوت زمین پر اترے گی اور ملک سے نا انصافی، ظلم اور استحصال کا خاتمہ کرے گی۔

چیف جسٹس ثاقب نثار ایک بڑا کام اس طرح کر سکتے ہیں کہ وہ اپنے فیصلوں، اقدامات اور صلاحیتوں سے عدلیہ کو ایک مضبوط ادارے میں ڈھال سکتے ہیں۔ یوں تو اکثر کہا جاتا ہے کہ تمام اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہئے۔ لیکن بعض ادارے کام ہی نہیں کر رہے حدود کا سوال تو اس کے بعد آئے گا۔ مقننہ یعنی پارلیمینٹ ایک ایسے ادارے کی شکل اختیار کر چکی ہے جو عوام کو کچھ دینے سے قاصر ہے۔ اگر یہ ادارہ صحیح معنوں میں کام کرے تو ملک کے اکثر مسائل ختم ہو جائیں۔ پارلیمینٹ ویسے تو سوئی رہتی ہے، مگر جب فوج یا عدلیہ عوامی مسائل کے ضمن میں کوئی قدم اٹھاتی ہے تو پارلیمینٹ چونک کر جاگ اٹھتی ہے اور اپنے اختیارات میں مداخلت کا شور مچا دیتی ہے۔ اس پارلیمینٹ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی زیر نگرانی کام کرنے والے آئینی اداروں نیب، ایف بی آر، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ایف آئی اے اور پولیس کو فعال رکھے۔ انہیں تحفظ دے اور انہیں آزادانہ اپنے فرائض ادا کرنے کا موقع دے، مگر دیکھا یہ گیا ہے کہ پارلیمینٹ ہی ان کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ جب عدلیہ کی طرف سے اس کا نوٹس لیا جاتا ہے تو یہ واویلا کیا جاتا ہے کہ عدلیہ مداخلت کر رہی ہے۔ اُسے اپنی حدود میں رہنا چاہئے۔ سوال یہ ہے کہ عدلیہ کی حدود ہیں کیا۔ اگر عدلیہ کو بھی حدود و قیود کا پابند بنا دیا جائے تو انصاف کیسے فراہم کیا جا سکے گا۔ پانامہ لیکس کا معاملہ پارلیمینٹ کو حل کرنا چاہئے تھا جب اس نے نہیں کیا تو یہ عدالت میں چلا گیا۔ کوئی بتا سکتا ہے کہ اسے عدالت میں نہ لے جایا جاتا تو پھر کہاں جاتا، کیا سڑکوں پر اس کا فیصلہ ہو سکتا ہے؟

جب ہم یہ کہتے ہیں کہ عدلیہ میں نئے چیف جسٹس اور نئے سال کے آنے پر ایک نیا دور شروع ہونا چاہئے، تو اس کا مطلب صرف یہی نہیں ہوتا کہ سپریم کورٹ پانامہ لیکس کا فوری فیصلہ کردے۔ یہ تو صرف ایک کیس ہے اس عدلیہ کا ہے۔ جس سے عوام کو روزانہ واسطہ پڑتا ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار سے کوئی حقیقت ڈھکی چھپی نہیں، انہوں نے پاکستانی عدلیہ کو نچلی سطح سے لے کر بالائی سطح تک بذاتِ خود دیکھا ہے۔ وہ اس بات سے آگاہ ہیں کہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی سطح تک عام آدمی کے لئے انصاف کا حصول مالی مشکلات کیو جہ سے ناممکن ہے تو نچلی سطح پر کرپشن اور عدالتی نظام کی وجہ سے سست روی کے باعث انصاف حاصل کرنا ایک خواب بن جاتا ہے۔ وہ اپنی ساری توجہ زیریں عدالتی نظام کو بہتر، فعال اور سستا بنانے پر صرف کریں تو عدلیہ پر عوام کے اعتماد کو نہ صرف بحال کیا جا سکے گا بلکہ ملک میں عوام کی پچاس فیصد مشکلات بھی خودبخود ختم ہو جائیں گی۔ ماضی میں ہمارے چیف جسٹس صاحبان سپریم کورٹ کے جہانِ سنگ و خشت میں مقید ہو کر گزارتے رہے ہیں۔ انہوں نے نظامِ انصاف کی نچلی سطح پر فوری اور سستی فراہمی کو حکومتوں کی ذمہ داری سمجھے رکھا، اس حقیقت کے باوجود کہ حکومتوں کی کبھی بھی یہ ترجیح نہیں رہی کہ لوگوں کو جلد انصاف ملے۔ یہ کام خود عدلیہ نے کرنا ہے، چیف جسٹس آف پاکستان ایک ایسا منصب ہے جس پر ملک بھر میں انصاف کو یقینی بنانے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اُسے بے بسی کا اظہار کرنے کی بجائے ایک طاقتور آئینی ادارے کے سربراہ کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کے خیالات اور عزائم سے لگتا ہے کہ وہ اس نہج پر سوچ رہے ہیں۔ خدا کرے کہ 2017ء میں وہ اپنے اقدامات اور اصلاحات سے عدالتی نظام کو انصاف اور مظلوم دوست بنانے میں کامیاب رہیں۔ نئی تاریخ رقم کرنے کی سعادت کسی کسی کے حصے میں آتی ہے۔ شاید یہ سعادت چیف جسٹس ثاقب نثار کے نصیب میں لکھ دی گئی ہو۔

مزید : کالم