اب انہیں ڈھونڈ چراغِ رخِ زیبالے کر

اب انہیں ڈھونڈ چراغِ رخِ زیبالے کر
 اب انہیں ڈھونڈ چراغِ رخِ زیبالے کر

  

پچھلے ہفتے میرے ایک سمدھی کا انتقال ہوگیا۔ وہ پاکستان آرڈننس فیکٹریز، واہ میں اسسٹنٹ الیکٹریکل انجینئر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ بظاہر ان کی صحت ٹھیک ٹھاک تھی۔ اچانک سینے میں معمولی سا درد اٹھا اور انہیں ہسپتال جانا پڑا۔ واہ میں ملٹری کا ایک بہت اچھا اور جدیدطبی سہولیات سے لیس ہسپتال ہے ۔ ان کو Admit کر لیا گیا اور جیسا کہ جدید شفا خانوں میں دستور ہے تمام ممکنہ ٹیسٹوں سے گزارا گیا اور ان کی تمام ٹیسٹ رپورٹیں کلیئر آئیں۔باایں ہمہ ڈاکٹروں نے مشورہ دیا کہ ان کو مزید دو تین روز تک زیر مشاہدہ رکھیں گے اور پھر فارغ کردیں گے۔ اگلے روز بعد از دوپہر ان کو اونگھ سی آگئی اور وہ سر کے نیچے ہاتھ رکھ کر سو گئے۔ اور پھر یہی اونگھ مرگِ دوام بن گئی۔ ڈاکٹروں کے مطابق سوتے میں روح کے قفسِ عنصری سے پرواز کر جانے کو پروفیشنل میڈیکل اصطلاح میں Cardiac Arrest کہا جاتا ہے جس کا اردو میں ترجمہ یہ نہیں ہے کہ وہ دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے بلکہ یہ کہا جاتا ہے کہ حرکتِ قلب بند ہونے کی وجہ سے ان کی موت واقع ہو گئی۔۔۔ لیکن ایسی ’’آرام دہ‘‘ اور ’’پُرسکون‘‘ موت کسی کسی کو ہی نصیب ہوتی ہے۔

موت کا جو لمحہ متعین ہے وہ ٹل نہیں سکتا۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ روٹین یہ ہے کہ ہر موت کا کوئی نہ کوئی سبب ہوتا ہے جس میں انسانی جسم کا زوال یا قوائے جسمانی کا نحیف ونزار ہو جانا یا سینکڑوں ہزاروں طرح کے تکلیف دہ مراحل سے گزر کر زندگی سے موت تک کے سفر کی تدریجی منازل طے کرنا ایک معمول ہے لیکن بیٹھے بٹھائے اونگھ جانا اور اونگھ کی حالت میں فرشتہ ء اجل کو لبیک کہنا کسی کسی کے ’’مقدر‘‘ میں ہوتا ہے۔ مرحوم نے زندگی کے سفر کی اختتامی منازل کو جس عجلت سے اور جس خاموشی کے عالم میں طے کیا وہ اگرچہ حیرت انگیز تو نہیں لیکن شاذو نادر کی ذیل میں ضرور آتا ہے۔

مرحوم کا کنبہ ایک بڑا کنبہ ہے اور ان کے جنازے میں شرکت کے لئے دور و نزدیک سے جو لوگ آئے ان کا شمار معاشرے کے مختلف طبقات میں کیا جاسکتا ہے۔ تعلیم، صحت، کاروبار، مسلح افواج وغیرہ میں اعلیٰ عہدوں پر فائز اشخاص سے ملاقات ہوئی۔ سچی بات یہ ہے کہ خود مجھے بھی معلوم نہ تھا کہ ان کے رسمی تعلقات و روابط کا دائرہ اتنا وسیع اور پھیلا ہوا ہے۔ عام طور پر تو دیکھا جاتا ہے کہ انسان نے جس شعبے میں زندگی کا ایک بڑا حصہ گزارا ہو، اس کے دوست احباب کا تعلق بھی زیادہ تر اسی شعبے سے ہوتا ہے۔ لیکن مرحوم ایک کثیر الجہات شخصیت تھے۔ لالہ رخ کالونی واہ کینٹ میں جامعہ نعیمیہ ایک بڑی مسجد ہے جس میں بیک وقت سینکڑوں ہزاروں نمازی سماسکتے ہیں۔ واہ کے تعلیمی / تدریسی ادارے بھی پاکستان بھر میں مشہور ہیں۔ سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری سکولوں اور کالجوں میں زیرِ تعلیم طلباء و طالبات ہر سال اول اور دوم پوزیشن حاصل کرتی ہیں۔ یہاں کی سڑکیں اور بازار وغیرہ بھی صاف شفاف ہیں اور شرح خواندگی کا اوسط پاکستان میں سب سے زیادہ اسی کینٹ میں پایا جاتا ہے۔ چونکہ POF واہ پاکستان بننے کے بعد قائم ہوئی اس لئے اس کی تعمیرو تشکیل میں جدت اور تنوع دونوں شامل ہیں۔ یہ ایک فیکٹری نہیں بلکہ بہت سی فیکٹریوں کا مجموعہ ہے جو واہ سے حویلیاں تک پھیلا ہوا ہے۔ گزشتہ 70برسوں میں پی او ایف بورڈ واہ کے چیئرمینوں کی شبانہ روز کاوشوں اور محنتوں کا ثمر ہے کہ اس سلسلے کی فیکٹریوں میں جدید شہری، معاشرتی اور سماجی سہولیات کی فراوانی ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ جامع مسجد نعیمیہ کی تعمیر و تشکیل میں بھی مرحوم کا دامے، درمے اور سخنے بڑا ہاتھ تھا۔ عام طور پر مذہبی رجحانات والے اشخاص چھپے نہیں رہتے۔ اپنی بول چال اور نشست و برخاست میں ان کی دلچسپیوں کی جھلکیاں ضرور دکھائی دیتی ہیں۔ لیکن باوجود اس کے کہ مرحوم سے سینکڑوں دفعہ ملاقات ہوئی، ہر بار مجھے ایسے لگا کہ میں ایک جدید افکار و خیالات کے حامل اور ایک حد درجہ نستعلیق اور وضع دار انسان سے ہم کلام ہوں۔ ان کا کتابی مطالعہ شائد اتنا وسیع نہیں تھا لیکن ان کے مشاہدے کی گہرائی قابلِ صد تحسین تھی۔ ان کی گفتگو میں بہت کم جوش و خروش کا وفور دیکھنے اور سننے کو ملتا تھا لیکن جو لوگ ان کی میت کو کاندھا دینے آئے ان کی زبانی چوہدری نذیر احمد کی ’’کہانیاں‘‘ سن سن کر مجھے احساس ہوا کہ خدا اپنے خاص بندوں پر موت کی مشکل گھڑی بھی اتنی آسان کردیتا ہے کہ جس میں اس کی شانِ ربوبیت کا برملا اظہار دیکھنے کو ملتا ہے۔ کسی شاعر نے شائد اسی کیفیت کا نقشہ اس شعر میں کھینچ کر رکھ دیا ہے:

طے شود جادۂ صد سالہ بہ آہے گا ہے

دیدہ ام ہر دو جہاں را بہ نگاہے گا ہے

میت کو دفنانے کے بعد اگلے روز یا اس سے اگلے روز ختمِ قرآن کی رسم ادا کی جاتی ہے اور مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لئے اجتماعی دعا کی جاتی ہے۔ ان کی یہ رسم بھی صحنِ مسجد میں ادا کی گئی۔ وہاں سے فارغ ہو کر جب پنڈال میں واپس پہنچے تو جو لوگ دعا میں شریک نہیں ہو سکے تھے، وہ آتے گئے اور فاتحہ پڑھ کر رخصت ہوتے گئے۔ ایسی محافلِ عزاداری میں جب مختلف لوگ اکٹھے ہوتے ہیں تو دنیا جہان کے مسائل پر تبصروں کا ایک وسیع و عریض سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ لوگ بھول جاتے ہیں کہ وہ کہاں بیٹھے ہیں، کس لئے آئے ہیں، کیا کہنا ہے اور کیا نہیں کہنا۔ بعض حضرات بلند آہنگ قہقہوں سے بھی باز نہیں آتے۔ یہ ایک روایت سی بن گئی ہے اور لوگ شائد اسے بُرا بھی نہیں سمجھتے۔ اگر صبح سے شام تک سوگواری اور ماتم داری ہی کی ردا اوڑھ لی جائے تو شائد انسانی فطرت اس کو قبول نہیں کرتی۔ لوگ موت کو دفن کر آتے ہیں تو زندگی کا سامنا کرتے ہیں۔ زندگی اور موت ایک دوسرے کی دشمن ہیں۔ موت زندگی چھیننے کی کوشش کرتی ہے اور زندگی اس کو ایسا کرنے سے روکتی ہے۔ یہ باہمی کشمکش اور تصادم جب جذبات کی شکل اختیار کرتا ہے تو پھر محفلِ تعزیت (پنجابی میں ’’پُھوڑی‘‘) میں اس کشمکش کا عملی اظہار دیکھنے کو ملتا ہے۔ دنیا میں خوشی اور غم دونوں جیتی جاگتی حقیقتیں ہیں۔۔۔ جہاں بجتی ہے شہنائی وہاں ماتم بھی ہوتے ہیں۔۔۔ چنانچہ انہی ماتمی فضاؤں میں زندگی کا وجود دیکھنے کے لئے ہمیں مسکراہٹیں بھی دیکھنے کو ملتی ہیں اور بعض اوقات ہلکے پھلکے قہقہے بھی سننے کو ملتے ہیں۔۔۔ لیکن پھر چند لمحوں کے بعد مرنے والے کی زندگی یاد آنے لگتی ہے۔

حاضرین میں سے ایک صاحب مرحوم کی خوبیوں کا ذکر کرنے لگے۔ انہوں نے ایک واقعہ سنایا کہ ایک بار پی او ایف کالونیوں میں زیر زمین نئی وائرنگ بچھائی جا رہی تھی۔ مرحوم کو اس پراجیکٹ کا انچارج بنا دیا گیا۔ ان کا حکم تھا کہ جس برانڈ اور جس کوالٹی کی تاریں اور کیبلیں بچھانے کا ٹینڈر منظور ہو چکا ہے، اسی کوالٹی اور اسی سٹینڈرڈ کی تاریں بچھائی جائیں گی۔ یہ ایک بڑا پراجیکٹ تھا جس میں کئی ٹھیکے دار شامل تھے۔ ٹھیکے داروں کی کوشش ہوتی ہے کہ جہاں تک ہو سکے غیر معیاری میٹریل استعمال کرنے کی کوشش کی جائے لیکن چودھری صاحب مرحوم نے کوالٹی اور سٹینڈرڈ پر سمجھوتہ کرنے سے انکار کر دیا۔۔۔ اس کے نتیجے میں کام کی رفتار پہلے آہستہ ہوئی اور پھر رک گئی۔ جیسا کہ ہم جاتے ہیں ٹھیکے داروں کی کرپشن میں بالا افسران بھی شریک ہوتے ہیں۔ انہوں نے فیکٹری کے جنرل منیجر (GM) کے سامنے فریاد کی کہ یہ انجینئر صاحب کوالٹی کنٹرول پر مصر ہیں۔ GM نے مرحوم کو دفتر میں بلایا، انہیں سمجھایا کہ اتنی سختی نہ کریں، جو بل آپ کے سامنے آئے، اس پر دستخط کر دیا کریں۔ مرحوم نے جواب دیا کہ میں ایسا نہیں کر سکتا۔ آپ کسی اور الیکٹریکل انجینئر کی ڈیوٹی لگا دیں۔ چنانچہ اگلے روز ان کو نہ صرف اس پراجیکٹ سے فارغ کر دیا گیا بلکہ ان کی ٹرانسفر حویلیاں فیکٹری میں کر دی گئی۔ مرحوم کے بڑے بھائی چودھری نیاز احمد صاحب مرحوم GHQ راولپنڈی میں GSO-1 تھے۔ وہ جب بھائی سے ملنے آئے تو معلوم ہوا کہ وہ تو حویلیاں جا چکے ہیں۔ ان کو واہ بلوایا گیا اور بڑے بھائی نے چھوٹے بھائی سے پوچھا کہ تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں؟

بہر کیف وہ POF کے اس وقت کے چیئرمین (لیفٹیننٹ جنرل طلعت مسعود) سے ملے اور ان کو حقیقتِ حال سے آگاہ کیا۔ جب معاملے کی پوچھ گچھ کی گئی تو جنرل منیجر کو قصور وار پایا گیا۔چنانچہ ان کی ٹرانسفر بھی کر دی گئی اور عہدے میں تخفیف (Demotion) بھی ۔۔۔ اور اس طرح چودھری مرحوم واپس واہ فیکٹری میں آگئے۔

اسی طرح کا ایک اور واقعہ ان کے بیٹے (اور میرے داماد) بریگیڈیئر زاہد نے سنایا کہ جب انہوں نے جونیئر کیڈٹ بٹالین (JCB) کے لئے اپلائی کیا تو اس زمانے میں کامیاب امیدواروں کے نتائج اخباروں میں شائع ہوتے تھے۔ جب وہ نتائج شائع نہ ہوئے اور کافی تاخیر ہو گئی تو بیٹے نے باپ سے کہا: ’’ابو جی! GHQ میں تایا جان سے فون پر یہ تو پوچھ دیں کہ رزلٹ کب شائع ہوں گے؟‘‘ ۔۔۔ باپ نے جواب دیا: ’’اتنا بے صبر ہونے کی ضرورت نہیں۔ جب باقی امیدواروں کے نام شائع ہوں گے اور اگر تم پاس ہو گئے تو تمہارا نام بھی شائع ہو جائے گا۔ میں یہ بے اصولی نہیں کروں گا!‘‘

اسی طرح کے نصف درجن واقعات ایسے تھے جن کو سن کر حاضرین نے تصدیق کی کہ مرحوم واقعی اسی طبیعت کے آدمی تھے۔

خدا بخشے بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والے میں۔

قارئین گرامی! میں نے یہ سطور اس لئے نہیں لکھیں کہ کسی عزیز یا رشتے دار کے امیج کو بڑھا چڑھا کر آپ کے سامنے رکھوں۔ میں نے یہ تحریر آپ کے سامنے اس لئے رکھی ہے کہ آج سے دو چار عشرے پہلے پاکستان کا عمومی معاشرہ کرپشن، سفارش اور رشوت کے آزاروں سے تقریباً پاک تھا۔ بیشتر لوگ اصول پسند، دیانت دار اور کرپشن کی وبا سے کوسوں دور تھے۔ اس دور میں ہمارے حکمران بھی میرٹ کو تسلیم کیا کرتے تھے۔ لیکن پھر رفتہ رفتہ نجانے کیا ہوا کہ ان تینوں بیماریوں (کرپشن، سفارش، رشوت) کی یلغار اس تیزی سے ہوئی کہ آج معاشرے کا کوئی ایک طبقہ بھی ان کی زد سے نہیں بچا۔ اگر کوئی ’’دانہ‘‘ ایسا بچ بھی گیا ہے جو صاحبِ اقتدار ہوتے ہوئے بھی ان آزاروں سے پاک ہے تو اس کو چراغِ رخِ زیبا لے کر ڈھونڈنا پڑے گا۔

مزید : کالم