خوردنی تیل میں خود کفالت کیلئے کاشتکاروں کو مراعات دی جائیں

خوردنی تیل میں خود کفالت کیلئے کاشتکاروں کو مراعات دی جائیں

اسلام آباد(آن لائن)اسلام آباد چیمبر آف سمال ٹریڈرز کے سرپرست شاہد رشید بٹ نے کہا ہے کہ پاکستان کو خوردنی تیل میں خود کفیل کرنے کیلئے کاشتکاروں کو مراعات دی جائیں اور انھیں صنعتکاروں کی مافیا سے بچایا جائے ۔ پاکستان میں خوردنی تیل کا فی کس استعمال بہت کم ہے جسے بڑھانے کیلئے اسکی درامد پر ٹیکس اور ڈیوٹیاں کم کی جائیں جبکہ صنعتکاروں کو غیر معیاری تیل بنانے ، منافع خوری اور دیگر ہتھکنڈوں سے روکا جائے۔ شاہر رشید بٹ نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ زرعی ملک ہونے کے باوجود پاکستان خوردنی تیل میں خودکفالت حاصل نہیں کر سکا ہے جسکے زریعے سالانہ دو ارب ڈالرتک کا زرمبادلہ بچایا جا سکتا ہے۔1960 تک ہم خوردنی تیل کے معاملہ میں خود کفیل تھے جسکے بعد اسکی درآمد شروع ہوئی اور اب مقامی تیل کی پیداوار کم ہو کر کھپت کا ایک تہائی ہو گئی ہے ۔ روغنی بیج کے کاشتکار آڑھتیوں اور کارخانہ داروں کے رحم و کرم پر ہیں جبکہ بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتیں گرنے کے بہانے ان کا استحصال کیا جاتا ہے ۔ملک کو خوردنی تیل کی پیداوار میں خود کفیل بنانے کیلئے زیر کاشت رقبہ میں ترغیبات کے زریعے اضافہ کیا جا سکتا ہے جسکے لئے سندھ اور بلوچستان کی ساحلی پٹی سب سے مناسب ہے۔اسکے علاوہ معیاری بیجوں اور دیگر مداخل کی بروقت فراہمی اور انکی پیداوار کی مناسب قیمت میں فروخت، اس شعبہ میں ریسرچ،جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، سویا بین اور پام آئل پر امپورٹ ڈیوٹی میں اضافہ، آئل ملز کی استعداد بہتر بناناشامل ہیں۔ تاکہ سالانہ دو لاکھ ٹن بنولے کا تیل ضائع ہو نے سے بچایا جا سکے۔ آئل سیڈ ڈویلپمنٹ بورڈ کو با اختیار بنانے، امدادی قیمت کا تعین کرنے اور کاشتکاروں کو بلا سود قرضے دینے سے اس شعبہ کی ترقی یقینی ہو جائے گی۔

پاکستان میں ہر فرد سالانہ12 تا 13 لیٹر خوردنی تیل استعمال کرتا ہے جسکی کھپت میں سالانہ3فیصد کی شرح سے اضافہ ہو رہا ہے جس پر توجہ نہیں دی گئی تو سالانہ درآمدسوا دو ملین ٹن اور ڈیمانڈ سوا تین ملین ٹن سے بڑھ جائیگی جس سے امپورٹ بل مزید بڑھ جائے گا۔اس ضمن میں نئی اور جدید ریفائنریاں لگانے کی ضرورت ہے جس سے ایک طر ف زر مبادلہ کی بچت ہو گی تو دو سری طر ف روز گا ر میں اضا فہ سے ملک میں خو شحا لی آئے گی۔#/s#

مزید : کامرس