ریگولیٹری اداروں کی شفافیت بارے سوالات کھڑے ہو گئے: غلام مرتضی

ریگولیٹری اداروں کی شفافیت بارے سوالات کھڑے ہو گئے: غلام مرتضی

کراچی(آن لائن)پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے پانچ ریگولیٹری اداروں کو وزارتوں کے ماتحت کرنے سے جہاں شفافیت کے متعلق سوالات کھڑے ہو گئے ہیں وہیں سرمایہ کاروں کے اعتماد اور ملک کی ساتھ پر بھی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ حکومت نے حال ہی میں پانچ آزاد ریگولیٹری اداروں کو متعلقہ وزارتوں کے ماتحت کر دیا ہے جس سے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں۔ ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ اس فیصلے سے ادارے مزید کمزور ہونگے اور وزارتیں منہ زور ہو کر من مانی پر اتر آئیں گی جبکہ بڑے سرمایہ دار بلا خوف و خطر عوام کو لوٹیں گے۔ ریکولیٹروں کو وزارتوں کے ماتحت کرنے سے بجلی اور گیس کے ادارے جب چاہیں گے قیمت بڑھا دینگے جس سے عوام صنعت و زراعت پر منفی اثرات مرتب ہونگے۔ ادھر پیپرا کو فنانس ڈویژن کے ماتحت کرنے سے ٹینڈروں میں لوٹ مار کا نیا باب کھل جائے گا۔ ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا کہ حکومت نے آئی ایم ایف اور عالمی بینک سے قرضے لیتے ہوئے ریگولیٹروں کو زیادہ خود مختاری دینے کا وعدہ کیا تھا اور قرضے لینے کے بعد ان اداروں کو تقریباً ختم کر دیا گیا ہے جو ملک و قوم کے مفاد کی خلاف ورزی ہے۔انھوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اوگرا نے سالہا سال تک لائن لاسز کی آڑ میں گیس کمپنیوں کولوٹ مار سے روکا مگر اب یہ کمپنیاں بلا کسی خوف و خطر کی گیس کی قیمت بڑھاتی جائینگی۔اسی طرح سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے بجلی گھر جو دنیا کی مہنگی ترین بجلی بنا رہے ہیں کو اپنے نقصانات عوام پر ڈالنے کے راستہ میں نیپرا واحد رکاوٹ تھی جو اب ختم ہو گئی ہے۔ اسی طرح کوئلے، تیل اور ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کا ٹیرف اب عوام کے مفاد کے بجائے سرمایہ کاروں کے مفاد کے مطابق ہو گا۔

مزید : کامرس