بیگم کوٹ اتوار بازار ، ریٹ لسٹ آویزاں نہ کرنے پر سٹال سیل ،پارکنگ پر جھگڑے

بیگم کوٹ اتوار بازار ، ریٹ لسٹ آویزاں نہ کرنے پر سٹال سیل ،پارکنگ پر جھگڑے

 لاہور(عامر بٹ سے) 2016کا آخری اتوار،ضلعی حکومت کی جانب سے بیگم کوٹ میں لگائے گئے اتوار بازار میں خریداروں کا رش معمول سے زیادہ دیکھنے میں آیا،سبزیوں پھلوں اور خشک میوا جات کی قیمتوں میں معمولی اضافہ جبکہ گرم کپڑے اور سردی کے ملبوسات عام بازار کی نسبت مہنگے فروخت ہوتے رہے ،ریٹ لسٹیں آویزاں نہ کرنے پر پرائس کنٹرول مجسٹریٹس نے موقع پر 2دکانداروں کو جرمانہ اور سٹالز کو سیل کر دیا ،مناسب پارکنگ انتظامات نہ ہونے کے باعث اتوار بازار کے باہر ٹریفک جام اور معمولی لڑائی جھگڑے نے ضلعی انتظامیہ کے تمام انتظامات کو پھیکا کر دیا ،بیگم کوٹ اتوار بازار میں روزنامہ پاکستان کی جانب سے کئے جانیوالے سروے کے دوران خریدار محمد اعظم منہاس،بابر چوہدری محمد یوسف خان،طارق محمود اور حافظ یاسر نے کہا پچھلے دنوں کی نسبت اب بیگم کوٹ اتوار بازار میں انتظامات قدرے بہتر ہیں ،تمام سٹالز پر ریٹ لسٹیں بھی آویزاں کی گئیں ہیں لیکن دوکاندار زیادہ منافع کے لالچ میں ایک ہی سٹال پر دو قسم کی اشیاء سجاتے ہیں ان کا طریقہ واردات یہ ہوتا ہے کہ ریٹ لسٹ پر جو ریٹ آویزاں ہوتا ہے پوچھنے پر یہ بتاتے ہیں کہ وہ ریٹ اس چیز کا ہے اور اسی چیز کا ریٹ جو کہ تھوڑا بہتر کوالٹی میں ہوتی ہے زیادہ کرکے بتاتے ہیں ،خریدار بیچار ہ اچھی چیز خریدنے کے چکر ریٹ لسٹ سے زیادہ پیسے دے کر خریداری کر دلیتا ہے ،خریدار محمد نفیس،عثمان احمد،عدنان علی،فاروق چوہان نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس دفعہ ضلعی حکومت کی جانب سے بیگم کوٹ اتوار بازار میں انتظامات قدرے بہتر ہیں ،سکیورٹی کے بھی مناسب انتظامات ہیں ،ہر شخص کی پوری طرح تلاشی کے بعد اسے اندر جانے دیا جاتا ہے لیکن سیکیورٹی مقاصد کے لئے لگائے جانے والے واک تھرو گیٹس خراب ہیں ،جن کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے ،مارکیٹ کمیٹی ممبران اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس بھی اس دفعہ متحرک نظر آئے ہیں ورنہ تو اس سے پہلے اکثر ہی غائب رہتے تھے ،ہماری آنکھوں کے سامنے دو دوکانداروں کو موقع پر جرمانہ اور ان کے سٹالز کو سیل کیا گیا جنہوں نے اپنے سٹالز پر ریٹ لسٹیں آویزاں نہیں کی تھی ،گرم کپڑوں کے ریٹس تھوڑے زیادہ ہیں جبکہ سبزیوں ،پھلوں اور خشک میوا جات کے ریٹس میں ملا جھلا سا رجحان ہے ،لیکن پھر بھی اگر باہر کے بازار سے موازنہ کیا جائے تو قیمتیں معمولی زیادہ ہیں لیکن قیمتوں کے زیادہ ہونے کے جواز میں دوکاندار کہتے ہیں کہ یہ قیمتی سرکاری طور پر نافذ ہیں ہمارا ان میں کوئی کردار نہ ہے ۔ضلعی حکومت کے ترجمان نے کہا ہے کہ سال 2017میں بہترین خدمات کے جذبہ سے داخل ہور ہے ہیں ،لاہور میں قائم تمام اتوار بازاروں میں خریداروں کو ہرممکن سہولیات بہم پہنچانے کے لئے کوئی کسر نہ چھوڑی جائے گی ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1