سنیارٹی لسٹ کے مطابق ترقیاں نہ ہونے سے ریونیو افسران مایوسی کا شکار

سنیارٹی لسٹ کے مطابق ترقیاں نہ ہونے سے ریونیو افسران مایوسی کا شکار

لاہور(عامر بٹ سے)بورڈ آ ف ریونیو کے افسران کی عدم توجہ کے باعث سالہا سال سے ریونیو افسران کی سنیارٹی لسٹ کے مطابق ترقیاں نہ ہو سکیں ،صوبائی حکومت کے تحت کام کرنے والے دیگر محکمہ جات کے کلرکس گریڈ سترہ کی سیٹوں پر پہنچ گئے مگر محکمہ مال میں تحصیلدار اور نائب تحصیلدارایک دہائی سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود ترقیوں کے منتظر،پنجاب حکومت کو سب سے زیادہ ریونیو دینے والے محکمہ کے ساتھ امیتاز ی سلوک کیوں روا رکھا جارہا ہے ،افسران کی غفلت نے کئی سوالات کو جنم دے دیا ، تفصیلات کے مطابق محکمہ مال کے افسران کی مبینہ غفلت ،عدم توجہ اور لاپرواہی کے باعث سالہا سال سے ترقی کے منتظر نائب تحصیلدار اور تحصیلدار تاحال سنیارٹی لسٹ کے مطابق ترقیوں کے منتظر ہیں ،کم و بیش 20سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود ریونیو افسران کی مرتب کردہ سنیارٹی لسٹیں صرف کاغذی کاروائیوں تک محدود ہو کر رہ گئیں ،دلچسپ بات یہ ہے کہ پنجاب حکومت کے ماتحت کام کرنے والے دیگر محکمہ جات جن میں محکمہ زراعت،اوقاف،کمیونیکشن اینڈورکس،کوآپریٹو،انرجی،ماحولیات،ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن،فنانس،خوراک،جنگلات،وائلڈ لائف ،صحت،ہیومن رائٹس، انفارمیشن اینڈ کلکچر،لائیو سٹاک،مینجمنٹ اینڈ پروفیشنل ڈویلپمنٹ،مائنز اینڈ منرلز،پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ،بہبود آبادی،بیت المال،سپیشل ایجوکیشن ٹرانسپورٹ،وومن ڈویلپمنٹ اور زکواۃ و عشر میں سینکڑوں ایسے کلرکس ہیں جو ترقی کرتے ہوئے گریڈ سترہ تک پہنچ چکے ہیں لیکن انہی کے ساتھ محکمہ مال کو جوائن کرنے والے نائب تحصیلدار اور تحصیلدار کئی سالوں سے ایک ہی سیٹ پر کام کررہے ہیں ، ترقیوں کی امید لئے ریونیو سٹاف کی کثیر تعداد اس دنیا سے رخصت ہو چکی ہے متعدد ریٹائرڈ ہو گئے اور درجنوں ریٹائرمنٹ کے قریب پہنچ ہمت ہار چکے ہیں ،ریونیو قوانین کے مطابق ریونیو افسر 5سال کی سروس کے بعد تحصیلدار کے عہدے پر ترقی پا جاتا ہے چاہے کوئی سیٹ خالی ہو یا نہ ہو لیکن ادھر صورتحال دلچسپ ہے کہ پنجاب میں 70سے زائد تحصیلداروں کی سیٹیں خالی ہیں جن پر تعینانی کے لئے پرموشن بورڈ کا اجلاس نہ ہو رہا ہے بلکہ کئی بار سنیارٹی لسٹیں مرتب ہونے کے باوجود پرموشن بورڈ کے اجلاس کے انعقاد میں سستی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے سینکڑوں ریونیو افسران اپنی ترقی کے انتظار میں اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں ،کئی ریٹائرڈ ہو چکے ہیں اور درجنوں اپنی سروس کے دوران ہی ترقی کی امیدلئے ہوئے ریٹائرمنٹ کے قریب پہنچ کر مایوسی کا شکا ر ہو چکے ہیں ، محکمانہ ذرائع کے مطابق ریونیو افسران پر لگنے والے رشوت وصولی ،کرپشن،ریکارڈ میں ٹمپرنگ اور اختیارات کے ناجائز استعمال میں صداقت ہونے یا نہ ہونے کے برعکس پرموشن بورڈ کا اجلاس نہ ہونا اور حق داروں کو ان کے حق سے محروم رکھنا بذات خود ایک کرپشن اور اختیارات سے تجاوز کے زمرے میں آتا ہے ،بورڈ آف ریونیو کی طرف سے کئی سالوں سے سنیارٹی لسٹوں کے مرتب ہونے کے باوجود اس پر عمل درآمد نہ کرنا پٹواریوں اور ریونیو افسران کو نالائق اور اس عہدے کیلئے موزوں نہ ہونا ظاہر کرتا ہے ،لیکن کیا ہزاروں پٹواریوں اور قانگو میں سے چند بھی اس قابل نہیں ہیں کہ انہیں ترقی دے کر خالی سیٹوں کو پر تعیناتی کی جاسکے ،ان کے پیچھے جو بھی محرکات ہیں لیکن اس کا نقصان بلا شبہ بورڈ آف ریونیو کو ہو رہا ہے جس کی درجنوں تحصیلوں میں تحصیلدار وں کی خالی سیٹوں پر تعیناتیاں نہیں کی جارہی ہیں ،جہاں پر ایڈیشنل تحصیلدار اپنی ڈیوٹیاں سر انجام دے رہیں ہیں ،جبکہ بورڈ آف ریونیو کے بعض سینئر افسران کے مطابق موجودہ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو جواد رفیق ملک اس معاملے میں دلچسپی رکھتے ہیں لیکن بعض قانگو اور ریونیو افسران نے اس سنیارٹی لسٹ کو عدالتوں میں چیلنج کیا ہے کہ وہ سینئر ہیں اور ترقی کے زیادہ حقدار ہیں اس لئے ہم بھی عدالتی فیصلوں کے انتظار میں ہے ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1