ترکی میں سال نو کے آغاز پر ہی دہشت گردی ،استنبول کی نائٹ کلب میں فائرنگ ،42افراد ہلاک ،ملک بھر میں ریڈالرٹ ، ملزم کی تلاش جاری

ترکی میں سال نو کے آغاز پر ہی دہشت گردی ،استنبول کی نائٹ کلب میں فائرنگ ...

 استنبول(آن لائن) ترکی کے شہر استنبول کے نائٹ کلب میں سال نو کی تقریب میں سانتا کلاز کا روپ دھارے مسلح شخص نے فائرنگ کر کے 42 افراد کو ہلاک اور 72 کو زخمی کردیا،زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں متعددکی حالت نازک بتائی جاتی ہے،ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ترکی کے دوسرے بڑے شہر استنبول میں مسلح شخص نے پہلے نائٹ کلب کے سکیورٹی گارڈ کو فائرنگ کر کے قتل کیا اور پھر اندر گھس پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 42 افراد ہلاک جبکہ 72 زخمی ہوگئے۔ ہلاک ہونیوالوں میں 16 غیر ملکی بھی شامل ہیں۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے جبکہ حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔پولیس حکام کا کہنا ہے سانتا کلاز کا روپ دھارے حملہ آور نے نائٹ کلب میں سال نو کا جشن منانے والوں کو نشانہ بنایا، علاقے کا محاصرہ کر کے حملہ آور کی تلاش شروع کر دی گئی ہے۔رینا نائٹ کلب فاسفورس پل کے یورپی جانب واقع ہے۔حملے کے وقت کچھ افراد نے جان پچانے کیلئے آبنائے فاسفورس میں چھلانگ لگا دی۔ دوسری جانب گورنر استنبول اور وزیر داخلہ سلیمان صوئلو نے واقعہ میں16 غیر ملکیوں سمیت42 افراد ہلاکت جبکہ72 کے زخمی ہونے کی تصدیق کر دی ہے ،انہوں نے بتایا کہ حملے کے وقت کلب میں 700 لوگ موجود تھے۔،حملے میں زخمیوں کو شہر کے مختلف ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں زخمیوں کو بہترین طبی امداد فراہم کی جارہی ہے ، صالح صوئلو نے مزید بتایا کہ کہ حملے کے بعد پولیس نے علاقے میں آپریشن شروع کرکے حملہ آور کی تلاش کا کام شروع کردیا، مگر تاحال کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔ہسپتال انتظامیہ کے مطابق بعض زخمیوں کی حالت نازک ہے جس سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔رپورٹ کے مطابق فوری طور پر واقعے کی ذمہ داری کسی گروپ یا تنظیم نے قبول نہیں کی،ادھر برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق سی این این ترک کا کہنا ہے کہ مبینہ دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر استنبول شہر میں سکیورٹی ہائی الرٹ تھی اور یہاں 17000 پولیس اہلکار تعینات تھے۔ واقعہ استبنول کے ضلع ارتاکوی میں پیش آیا۔ترک میڈیا کا دعویٰ ہے کہ پولیس نے مسلح افراد کے خلاف آپریشن کا آغاز کردیا ہے۔ترکی کے سرکاری خبر رساں ادارے اناطولیہ کے مطابق امریکی صدر براک اوباما نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے امریکی انتظامیہ کو حملے کی تفتیش میں ترک حکام کی مدد کرنے کی ہدایت کی۔وائٹ ہاؤس ترجمان کے مطابق صدر براک اوباما نے ترکی کی مدد جاری رکھنے کا ارادہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ترکی نارتھ ائٹلانٹک ٹریٹی آرگنائیزیشن (نیٹو) کا اہم اتحادی ہے اور وہاں دہشت گردی کو شکست دینا لازمی ہے۔نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز اسٹال برگ نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ استنبول سے 2017 کا المناک آغاز ہوچکا جو افسوس ناک ہے،یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی چیف فریڈریکا موغرینی، برطانیہ، فرانس اور دیگر ممالک نے بھی نائٹ کلب حملے کی مذمت کی۔

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم نواز شریف نے ترکی کے شہر استنبول میں دہشتگردانہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ استنبول میں دہشت گردی کی کارروائی افسوسناک واقعہ ہے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں پاکستان کے عوام ترک بھائیوں کے غم میں برابرکے شریک ہیں ۔انہوں نے واقعے میں انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ دنیا کو مل کر دہشت گردی کیخلاف لڑنا ہوگا۔انہوں نے مزیدکہ دہشتگردی کے باعث پاکستان کو بھی جانی اورمالی نقصان کا سامنا ہے تاہم پاکستان دہشت گردی کیخلاف اقدامات جاری رکھے گا۔

نوازشریف

مزید : صفحہ اول