پاکستان اور بھارت کا ایٹمی تنصیبات اورقیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ

پاکستان اور بھارت کا ایٹمی تنصیبات اورقیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ

اسلام آباد/نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک ) پاکستان اور بھارت نے دوطرفہ معاہدے کے تحت نئے سال کے آغاز پر اپنی ایٹمی تنصیبات اور ایک دوسرے کے قیدیوں سے متعلق فہرستوں کا تبادلہ کیا ہے۔ بھارتی اخبار’’ٹائمز آف انڈیا‘‘ کی رپورٹ میں وزارت خارجہ کے حوالے سے کہا گیا کہ دونوں ملکوں نے نئی دہلی اور اسلام آباد میں بیک وقت سفارتی سطح پر ایٹمی تنصیبات کی فہرستوں کا تبادلہ کیا۔ دونوں ممالک دوطرفہ معاہدے کے تحت مسلسل گزشتہ 26سال سے ایٹمی تنصیبات کی فہرستوں کا تبادلہ کرتے آرہے ہیں جس کا مقصد ایک دوسرے کی ایٹمی تنصیبات پر حملوں سے بچنا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان ایٹمی تنصیبات کے خلاف حملوں کی روک تھام کے حوالے سے معاہدہ 31دسمبر1988ء میں طے پایا تھا اور اس کا اطلاق 27جنوری 1991ء سے ہوا تھا۔ بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں ملکوں نے نئے سال کے آغاز پر نئی دہلی اور اسلام آباد میں بیک وقت سفارتی سطح پر ایک دوسرے کی جیلوں میں قید اپنے اپنے باشندوں کی فہرستوں کا بھی تبادلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے معاہدہ 21مئی 2008 ء کو طے پایا تھا جس کا مقصد ایک دوسرے کی جیلوں میں قید اپنے شہریوں کو قونصلر رسائی فراہم کرنا ہے۔

مزید : صفحہ اول