جاوید ہاشمی کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں: عمران خان ، ہم دونوں کا ڈوپ اور دماغی ٹیسٹ کرایا جائے :ہاشمی کا چیلنج

جاوید ہاشمی کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں: عمران خان ، ہم دونوں کا ڈوپ اور دماغی ...
جاوید ہاشمی کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں: عمران خان ، ہم دونوں کا ڈوپ اور دماغی ٹیسٹ کرایا جائے :ہاشمی کا چیلنج

  

کراچی/ اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، اے این این) چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ توقع ہے نیا سال انصاف کا سال ہوگا اور اس کی ابتدا پاناما کیس سے ہو گی ۔کیس کی سماعت روزانہ کی بنیادوں پر ہونی چاہیے ٗ کسی ایسی پارٹی کے ساتھ اتحاد نہیں کرسکتے جس پر کرپشن کے الزامات ہوں ٗ جن لوگوں نے پارٹی کو بیچا اور(ن)لیگ کے ساتھ گئے ایسے ضمیر فروشوں کی تحریک انصاف میں کوئی جگہ نہیں ٗجاوید ہاشمی عمر کے اس حصے میں آگئے ہیں جہاں ذہنی توازن ٹھیک نہیں رہتا ٗ وہ جھوٹ نہیں جھوٹ پلس بول رہے ہیں ٗ جھوٹوں کی داستان تو شریف برادران کی ملکیت ہے ٗ کراچی کے عوام سڑکوں پر نہ نکلے تو شہر بہت جلد موہنجو دڑو لگنا شروع ہوجائے گا ۔کراچی سے اسلام آباد روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کا دیوالیہ نکل گیا ہے اور قرضوں پر گزارا ہو رہا ہے، ملک کا سربراہ چور ہو تو کسی عام فرد کو بھی چوری سے نہیں روکا جاسکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ 2017 انصاف کا سال ہوگا اور اس انصاف کی ابتدا پاناما کیس سے ہو گی۔عمران خان کا کہنا تھا کہ آئندہ ہفتے سے پاناما کیس شروع ہو گا، امید ہے کہ کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر ہوگی، کسی ایسی پارٹی کے ساتھ اتحاد نہیں کر سکتے جس کی قیادت پرکرپشن کے کیسز ہوں اور پیپلز پارٹی کے ساتھ بھی صرف پاناما ایشو کے معاملے پر اتحاد ہو سکتا ہے۔ چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ کراچی میں گندگی کی انتہا ہے اور شہر کچرے کا ڈھیر بن چکا ہے لیکن کسی کو بھی اس کی فکر نہیں کہ کراچی کے حالات کیسے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر کے پانی پر واٹر مافیا کا راج ہے، پاناما کیس کے ختم ہوتے ہوئے شہرقائد میں آکر پانی و دیگرمسائل کی طرف توجہ دلانے کیلئے بڑے مظاہرے کریں گے لیکن کراچی کے مسائل اس وقت تک حل نہیں ہو سکتے جب تک یہاں کے شہری خود گھروں سے باہر نہ نکلیں۔عمران خان کا کہنا تھا کہ کراچی کے عوام کو اپنے حق کے لئے کھڑا ہونا پڑے گا، جب تک یہاں کے باسی مظاہرے نہیں کریں گے اس وقت تک کسی کو فرق نہیں پڑے گا، یہاں سے پیسا چوری کر کے دبئی میں پراپرٹی خریدنے کے لیے لے جایا جا رہا ہے، اگر کراچی کے عوام نے ہمت نہ کی تو بہت جلد یہ شہرموہن جودڑو لگنا شروع ہو جائے گا۔بزرگ سیاستدان جاوید ہاشمی کی جانب سے لگائے گئے الزامات پر عمران خان کا کہنا تھا کہ جاوید ہاشمی عمر کے اس حصے میں آگئے ہیں، جہاں ذہنی توازن ٹھیک نہیں رہتا،ان کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں۔ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ جاوید ہاشمی پاگل پن کا مظاہرہ کر رہے ہیں، وہ جھوٹ نہیں بلکہ جھوٹ پلس بول رہے ہیں کیوں کہ جھوٹوں کی داستان تو شریف برادران کی ملکیت ہے۔خیال رہے کہ چیئرمین تحریک انصاف نے یہ بات اس سوال کے جواب میں کہی جس میں ان سے پوچھا گیا تھا کہ جاوید ہاشمی نے الزامات عائد کیے ہیں کہ دھرنے کے وقت عمران خان کی اندرون خانہ ڈیل چل رہی تھی۔ بلدیاتی انتخابات میں تحریک انصاف کے نمائندوں کی جانب سے مسلم لیگ(ن)کو ووٹ دینے کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ جن لوگوں نے پارٹی کو بیچا اور(ن)لیگ کے ساتھ گئے انہیں نکالا جا رہا، ایسے ضمیر فروشوں کی تحریک انصاف میں کوئی جگہ نہیں ہے۔اپنی شادی سے متعلق پوچھے گئے سوال پر عمران خان کا کہنا تھا کہ 2014 کا سال دھاندلی میں نکل گیا، 2016 میں ہم پاناما میں پھنس گئے لیکن ابھی شادی سے متعلق کچھ نہیں سوچ رہا، فی الحال ساری توجہ پاناما کیس پر ہے۔عمران خان کا کہنا ہے2017انصاف کا سال ہوگا ، شروع پاناما سے ہوگا ، دھرنے سے متعلق جاوید ہاشمی نے جھوٹ پلس بولا ، ان کا دماغی توازن درست نہیں رہا ، کراچی سے پیسہ چوری کرکے دبئی میں جائیدادیں بنائی جا رہی ہیں ۔ جاوید ہاشمی کے دھرنا انکشافات کو جھوٹ پلس قرار دیتے ہوئے کپتان سابق کھلاڑی پر برس پڑے ۔ کراچی کو مسائل کا گڑھ کہا اور اعلان کیا اگلی بار کراچی میں بڑا مظاہرہ کریں گے ۔ عمران خان نے ایک بار پھر دہرایا کرپشن کے مقدمات میں ملوث کسی جماعت سے اتحاد نہیں کریں گے ۔ شادی کے سوال پر کہا ابھی اس بارے میں کچھ سوچا نہیں ۔

عمران خان

ملتان(جنرل رپورٹر ،اے این این) سینئر سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی نے عمران خان کی جانب سے خود کو پاگل قرار دینے پر چیئرمین تحریک انصاف کو مناظرے کا چیلنج دیتے ہوئے کہاہے کہ میرااور عمران خان کے دماغ کا ٹیسٹ ہونا چاہیے،اگر پاگل خانے کی رپورٹ آگئی تو قوم کی عمران خان سے جان چھوٹ جائے گی،عام انتخابات کے نتائج سے عمران خان شدیدمایوس تھے، 2014کے دھرنے کا سکرپٹ لکھاہواتھا، ایک ایک قدم پر گائیڈ کیا جارہا تھا، فوج کے غیر مطمئن عناصر کپتان کے ذریعے تباہی لاناچاہتے تھے وہ ہر حال میں راحیل شریف کو بھی ناکام کرنا چاہتے تھے ،عمران خان نے مجھ سے کہا تھاکہ تصدق جیلانی چلے جائیں گے اور ناصر الملک آجائیں گے جس کے بعد اسمبلیاں تحلیل کردی جائیں گی، 90دن کے اندر الیکشن کرائے جائیں گے، حکومت سپریم کورٹ کے پاس ہوگی اور پھر ہم جیتیں گے اور کس نے جیتنا ہے، عمران خان کی یہ باتیں سن کر میں نے کہا تھاکہ ایسا نہیں ہوسکتا ، جہانگیر ترین سے امپائرکی انگلی نہ اٹھنے کی وجہ پوچھی توانہوں نے کہا ہم نے ان سے جو وعدہ کیا تھا وہ ہم پورا نہیں کرسکے تو امپائر کیسے آگے آئے گا؟، قوم کے ساتھ اتنا بڑا دھوکا ہوا ہے، اس کی تحقیقات کیلئے کمیشن بننا چاہیے ۔ ملتان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جاوید ہاشمی نے کہا کہ عمران خان کے بیان سے بہت تکلیف ہوئی، وہ غیر مناسب باتیں کرتے ہیں ، عمران خان 65سال کے ہیں اورمیں 67سال کاہوں، نواز شریف مجھ سے چارماہ چھوٹے ہیں ،میڈیکل بورڈبنناچاہیے جو عمران خان کا دماغی توازن دیکھے اور میرا بھی، اگر پاگل خانے کی رپورٹ آگئی تو قوم کی عمران خان سے جان چھوٹ جائے گی ۔ عمران خان اور میرا ڈوپ ٹیسٹ بھی کرالیا جائے، سچ سامنے آجائے گا، اس ٹیسٹ میں مجھے تو 100میں سے 100نمبر ملیں گے ۔ جاوید ہاشمی نے عمران خان کو مناظرے کا چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان میرے سوالات کا جواب دیں۔ جاوید ہاشمی نے عمران خان کے بیانات کے رد عمل میں 2014 میں دیئے جانے والے دھرنے کی اندرونی باتیں بھی بتادیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان 2013کے انتخابات میں ووٹ نہ ملنے پر مایوس تھے، میں آج یہ باتیں کررہا ہوں تو ان کی پارٹی کے تمام لوگ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ عمران خان نے کتنا بڑا جھوٹ بولا ۔ جاوید ہاشمی نے دعویٰ کیا کہ ممبرز نے ہم سے پوچھا کہ کیا پنجاب میں دھاندلی ہوئی ہے؟ اس وقت پارلیمانی لیڈر شاہ محمود قریشی تھے، میرے سامنے انہوں نے پارلیمانی پارٹی کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں کوئی دھاندلی نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان شائد یہ سوچ رہے تھے کہ انتخابات میں انہوں نے دنیا فتح کرلینی ہے لہٰذا نتیجہ دیکھ کر وہ مایوس ہوئے۔ جاوید ہاشمی نے کہا کہ الیکشن سے قبل مجھ سے پوچھا گیا کہ کتنی نشستیں مل جائیں گی تو میں نے کہا کہ 40یا زیادہ سے زیادہ 45، تحریک انصاف کو 37سیٹیں ملیں۔ انہوں نے کہا کہ جب زیادہ نشستیں نہیں ملیں تو پھر مایوس ہوکر پوری قوم کو تباہی کے دہانے پر لاکر کھڑا کردیا گیا۔ جاوید ہاشمی نے بتایا کہ عمران خان نے مجھ سے کہا کہ تصدق جیلانی چلے جائیں گے اور ناصر الملک آجائیں گے جس کے بعد اسمبلیاں تحلیل کردی جائیں گی، 90 دن کے اندر الیکشن کرائے جائیں گے، حکومت سپریم کورٹ کے پاس ہوگی اور پھر ہم جیتیں گے اور کس نے جیتنا ہے، عمران خان کی یہ باتیں سن کر میں نے کہا کہ ایسا نہیں ہوسکتا ، میں نے یہ بھی کہا تھا کہ دھرنا کامیاب نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کا میڈیا سیل دوسال تک مجھے گالیاں دیتا رہا ہے جس پر انہیں شرم آنی چاہیے۔2014ء کے دھرنے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مخدوم ہاشمی نے کہا کہ میں راحیل شریف سے کہہ رہا تھا کہ آپ چند عناصر کا کورٹ مارشل کریں، آپ چیف ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے جہانگیر ترین سے بھی پوچھا کہ آپ کا انگلی اٹھانے والا امپائر کیوں نہیں آرہا تو انہوں نے کہا کہ ہم زیادہ سے زیادہ سوا 36 ہزار بندے جمع کرسکے ہیں وہ بھی طاہرالقادری کے بندوں کو ملا کر، ہم نے وعدہ کیا تھا کہ کم سے کم 5 لاکھ افراد جمع کریں گے ۔ جاوید ہاشمی کے مطابق جہانگیر ترین نے کہا تھاکہ ہم نے ان سے جو وعدہ کیا تھا وہ ہم پورا نہیں کرسکے تو امپائر کیسے آگے آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ دھرنے کے ایک ایک قدم پر گائیڈ کیا جارہا تھا، سکرپٹ لکھا ہوا تھا۔ جاوید ہاشمی نے کہا کہ جس بات پر میں نے استعفیٰ دیا وہ یہ تھی کہ ایک جج صاحب نے سپریم کورٹ کی چھٹیاں منسوخ کردیں، وکلا اور ججوں سے پوچھیں کہ کیوں چھٹیاں منسوخ کی گئیں، ایسا کیا عذاب آگیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب ہونے کے بعد میں نے اپنی نشست سے استعفیٰ دیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے انہیں 11 بار رکن اسمبلی منتخب کیا اور آج تک کوئی شخص سات سے زیادہ بار منتخب نہیں ہوسکا ہے۔ جاوید ہاشمی سے جب یہ پوچھا گیا کہ آپ دھرنے میں بھی گئے تھے تو کیا آپ کو پہلے سے ان باتوں کا علم نہیں تھا تو انہوں نے جواب دیا کہ میرے سامنے فیصلے نہیں ہوتے تھے لیکن جب بھی کوئی ایسی بات آتی تھی میں باہر آجاتا تھا ۔ جاوید ہاشمی نے بتایا کہ عمران خان نے کہا کہ ٹیکنوکریٹس کی حکومت بنانی چاہیے لیکن میں نے کہا کہ میں آپ کی اس بات سے متفق نہیں، یہ بات واپس لیں ورنہ میں آپ کے ساتھ نہیں چل سکتا اور اس کے بعد میں ملتان آگیا تھا۔ایک اور موقع پر مجھے کہا گیا کہ راحیل شریف ضامن بن گئے ہیں لیکن میں نہیں مانا اور ہسپتال میں داخل ہوگیا، میں چاہتا تھا کہ میں ان کو ایکسپوژ نہ کروں ان کو روکوں ۔ ماڈل ٹاؤن سانحے کے حوالے سے جاوید ہاشمی نے کہا کہ عمران خان نے اس مسئلے پر مجھ سے کوئی بات نہیں کی، جب ہمارا کارواں اسلام آباد پہنچ گیا تو جو اسکرپٹ لکھنے والے تھے، جو بھی تھے، انہوں نے لکھا کہ طاہر القادری صاحب پارلیمنٹ کی طرف بیٹھیں گے، آپ لوگ پیچھے کی طرف بیٹھیں گے۔ جاوید ہاشمی نے کہا کہ میں نے سوال اٹھایا کہ یہ کون کہہ رہا ہے، کون فرما رہا ہے؟ لیکن اسکرپٹ یہی تھا تاہم عمران خان یہ کہتے تھے کہ طاہر القادری پہلے جاکر اسمبلیوں پر قبضہ کریں گے اور پیچھے سے ہم جاکر کرسیوں پر بیٹھ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ باتیں میرے سامنے ہوتی تھیں، میں انہیں روکتا تھا۔ عمران خان کو بتایا گیا تھا کہ نواز شریف استعفے پر دستخط نہیں کریں گے ۔جاوید ہاشمی نے انکشاف کیا کہ اس وقت ایک بہت بڑا مسئلہ ہوگیا تھا، آرمی کے اندر بھی اس طرح کے لوگ نکل آئے تھے، عدلیہ میں بھی اور سیاستدان بھی استعمال ہورہے تھے یا استعمال کررہے تھے، لہذا میں اسے بہت بڑی سازش کے طور پر دیکھ رہا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے ججز کی چھٹیاں منسوخ کیں تو مجھے پتہ تھا کہ یہ آخری آئٹم ہے کیوں کہ ان جرنیلوں نے عمران خان سے کہا تھا کہ نواز شریف استعفے پر دستخط نہیں کریں گے ۔ جاوید ہاشمی نے مزید بتایا کہ جرنیلوں نے عمران خان سے کہا کہ پہلے بھی جب جنرل محمود وزیراعظم ہاؤس گئے تھے 1999 میں اور کہا تھا کہ آپ اس خط پر دستخط کریں تو نواز شریف نے پوچھا تھا کہ اس میں کیا لکھا ہے؟ انہوں نے کہا تھا کہ یہ آپ کا استعفیٰ ہے اور اسمبلیوں کو تحلیل کرنے کا حکم ہے، میاں صاحب نے کہا کہ اگر میں نہ کروں تو؟ یہ سن کر جنرل محمود نے ریوالور نکالا، میاں صاحب نے پوچھا کہ آپ مجھے مار دیں گے؟ اس نے کہا ہاں مار دوں گا، میاں صاحب نے کہا پھر ماردیں لیکن اس نے نہیں مارا۔ جاوید ہاشمی نے کہا کہ میاں نواز شریف کی جو کہانی ہے یہ عمران خان کو جنرل راشد قریشی کے بندے کی جانب سے بتائی گئی تھی لہذا یہ دوسرا منصوبہ تھا کہ سپریم کورٹ سے ہی سب کچھ کرایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ میری اس بات کی تصدیق گزشتہ روز معین الدین حیدر نے کی ہے کہ پرویز مشرف کے دور میں بھی جوڈیشل مارشل لا کا سوچا گیا تھا۔ جاوید ہاشمی نے کہا کہ قوم کے ساتھ اتنا بڑا دھوکا ہوا ہے، اس کی تحقیقات کے لیے کمیشن بننا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ عمران خان میرے سامنے بیٹھ کر بات کرنے کی بھی جرات نہیں رکھتے۔ یاد رہے کہ پی ٹی آئی نے عام انتخابات 2013 میں مبینہ دھاندلی کے خلاف پاکستان مسلم لیگ(ن)کی وفاقی حکومت خلاف دارالحکومت اسلام آباد میں 126 روز تک دھرنا دیا تھا،جسے پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر حملے کے بعد ختم کردیا گیا تھا، اس دھرنے کے وقت جاوید ہاشمی ان کی پارٹی میں شامل تھے۔ دوران دھرنا یہ اطلاعات آئی تھیں کہ جاوید ہاشمی فوج کے بطور ثالث کردار ادا کرنے کے معاملے پر پارٹی قیادت سے ناراض ہو کر اسلام آباد سے ملتان روانہ ہوگئے۔ بعد میں جاوید ہاشمی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ پارٹی کے تمام فیصلے میری مشاورت سے ہوئے، فوج کے پاس عمران خان کے جانے کے فیصلے میں میری رائے شامل تھی، میڈیا ذمہ دارانہ کردار ادا کرے۔

جاوید ہاشمی

مزید : صفحہ اول