چیف جسٹس ثاقب نثار کی تعیناتی آئین اور میرٹ کے مطابق ہوئی :خواجہ آصف

چیف جسٹس ثاقب نثار کی تعیناتی آئین اور میرٹ کے مطابق ہوئی :خواجہ آصف

 اسلام آباد(سٹاف رپورٹر،این این آئی)وزیردفاع خواجہ محمدآصف نے کہاہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی تعیناتی آئین کے مطابق اورمیرٹ پرعمل میں لائی گئی،الجہاد ٹرسٹ ،سجادعلی شاہ کیسز اور اٹھارہویں ترمیم کے بعدعدالت عظمیٰ کاسینئرترین جج ہی چیف جسٹس بن سکتاہے، کسی اور کی تعیناتی آئین کے منافی ہوتی ، سوشل میڈیا پرایک سازش کے تحت ان دفاترکوبدنام کرنے کی مہم جاری ہے جن کاتقدس ملک کے عدالتی نظام کی آزادانہ طورپرانجام دہی کیلئے ضروری ہے۔اتوارکو جاری ایک بیان میں کہاگیا ہے کہ اپنے موقف کو درست قراردینے کی غرض سے دوسروں کی کردارکشی کرنے کی وجہ سے بدنام حلقوں نے اب ریاست کے اعلیٰ ترین جوڈیشل آفس کوبدنام کرنا شروع کردیاہے،انہوں نے کہاکہ سوشل میڈیا پرایک سازش کے تحت ان دفاترکوبدنام کرنے کی مہم جاری ہے جن کاتقدس ملک کے عدالتی نظام کی آزادانہ طورپرانجام دہی کیلئے ضروری ہے۔ انہوں نے کہاکہ الجہادٹرسٹ اورسجاد علی شاہ کیسزکے فیصلوں اورآئین میں اٹھارہویں ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کے سینئرترین جج کوہی چیف جسٹس مقررکیاجاسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ جسٹس ثاقب نثارہی سپریم کورٹ کے سینئرترین جج ہونے کی وجہ سے چیف جسٹس مقرر ہوسکتے تھے جو کہ آئینی طورپر ضروری تھا۔ انہوں نے کہاکہ کسی اورکی اس عہدے پرتقرری آئین کی خلاف ورزی ہوتی۔وزیردفاع نے کہاکہ چیف جسٹس ثاقب نثار سیکرٹری قانون رہے لیکن اس عہدے پرتعینات ہونیوالے وہ پہلے غیر جج تھے جس کی تین وجوہات ہیں پہلی یہ کہ الجہاد ٹرسٹ کیس میں کہاگیا کہ ایسے عہدوں پرججز کوتعینات نہیں کیاجاناچاہیے دوسری وجہ یہ تھی کہ چیف جسٹس سجادعلی شاہ نے یہ واضح کردیاتھا کہ اس عہدے کیلئے کوئی جج دستیاب نہیں ہوگاجبکہ تیسر ی وجہ یہ کہ انتہائی ممتاز حیثیت کے حامل قانون دان اوراس وقت کے وزیرقانون خالدانور نے ثاقب نثار کوسیکرٹری قانون مقررکرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔خواجہ محمدآصف نے کہاکہ ثاقب نثارکا لاہورہائی کورٹ میں ایڈیشنل جج کے طورپرتقرر ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی سفارش اورچیف جسٹس آف پاکستان اجمل میاں کی مشاورت سے کیاگیا اس وقت الجہادٹرسٹ کیس کافیصلہ سامنے آچکاتھا اورانتظامیہ کیلئے چیف جسٹس کی ایڈوائس پرعمل کرنا ضروری تھا۔انہوں نے کہاکہ جسٹس ثاقب نثارکوصدرپرویزمشرف نے چیف جسٹس ارشادحسن خان کی مشاورت سے ہائیکورٹ کامستقل جج مقررکیاجبکہ چیف جسٹس افتخارمحمدچودھری کی ایڈوائس پر صدرآصف علی زرداری نے انہیں سپریم کورٹ میں تعینات کیا۔حلف برداری کے موقع پرچیف جسٹس افتخارمحمدچودھری نے ان کی تعریف کرتے ہوئے آزادانہ طورپرفرائض نبھانے اورحکومت وقت کے سیاسی عزائم کوخاطرمیں نہ لاتے ہوئے عدلیہ کی آزادی اورتقدس کے کازکیلئے ان کی خدمات اورقربانیوں کوسراہا۔خواجہ محمدآصف نے کہاکہ جسٹس ثاقب نثار کی اب چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے پر تعیناتی قطعی طورپرمیرٹ پراورآئین کے آرٹیکل 175اے (3)کے مطابق عمل میں لائی گئی ہے اس آئینی شق میں کہاگیا ہے کہ انتہائی سینئرجج کوچیف جسٹس آف پاکستان تعینات کیاجاناچاہیے۔ انہوں نے کہاکہ اس تقرری میں حکومت یا وزیراعظم کاکوئی کردارنہیں کسی اورشخص کی اس عہدے پرتعیناتی غیرآئینی ہوتی۔

مزید : صفحہ اول