ملتان ؛میٹروبس پراجیکٹ کے افتتاح میں ٹریک کی کم چوڑائی رکاوٹ بن گئی

ملتان ؛میٹروبس پراجیکٹ کے افتتاح میں ٹریک کی کم چوڑائی رکاوٹ بن گئی

 ملتان (ملک اعظم سے ) روزنامہ ’’ پاکستان‘‘ نے گزشتہ سال اکتوبر میں ملتان میٹرو بس پروجیکٹ کے ٹریک کی چوڑائی کے حوالے سے انجینئرنگ کے بھیانک ترین نقص کی نشاندہی کی تھی ‘ ٹریک کی چوڑائی کم ہونے کیوجہ سے مخالف سمت سے آنیوالی بسیں بیک وقت ایک دوسرے کو کراس نہیں کر سکتیں‘ اب میٹرو بس پروجیکٹ سے متعلق مستند ترین دستاویزات نے انجینئرنگ کے سنگین ترین فالٹ کی تصدیق کر دی ہے ۔ روزنامہ ’’ پاکستان ‘‘ کے پاس موجود دستاویزات کے مطابق بہاء الدین زکریا یونیورسٹی سے چوک کمہارانوالا تک ساڑھے اٹھارہ کلو میٹر طویل ٹریک کی چوڑائی 10 میٹر مقرر کی گئی ۔ ایلی وٹیڈیا فلائی اوور اور زمینی ٹریک پر چوڑائی ایک جیسی مختص کی گئی لیکن زمینی حقائق ایک خوفناک حقیقت کی تصدیق کرتے نظر آتے ہیں ‘ ساڑھے بارہ کلو میٹر طویل فلائی اوور اور 6 کلو میٹر زمینی ٹریک کی چوڑا ئی صرف 9 میٹر پر مشتمل ہے ‘ میٹرو بس پروجیکٹ کے حکام بھی اس بات کی خود تصدیق کر رہے ہیں ‘دسویں میٹر کا سرے سے کہیں وجود ہی نہیں ہے ۔ اس طرح ایم ڈی اے کے شاہکار انجینئرز نے ساڑھے اٹھارہ کلو میٹر پر مشتمل میٹرو ٹریک کا 1 میٹر غائب کر دیا ۔ 1 میٹر چوڑائی پرمشتمل ٹریک 60 ہزار سکوائر فٹ سے زیادہ کا ایریا ہے ‘ ایک میٹر کم چوڑائی کیوجہ سے مخالف سمت میں آنیوالی بسیں کراس نہیں کر سکتیں ‘ اس ٹریک کے ایک طرف ڈیک بنایا گیا جبکہ دوسرے طرف ڈیک کیلئے مخصوص ایریا کو ٹریک میں شامل کیا گیاہے ۔ بتایا جاتا ہے لاہور ‘ راولپنڈی اسلام آباد میٹرو بس پروجیکٹ کے ٹریک کی چوڑائی 10 میٹر ہے لیکن ملتان میٹرو بس پروجیکٹ میں ٹریک کی چوڑائی 9 میٹر کیوں کردی گئی اس کا جواب کوئی بھی مجاز اہلکار دینے کو تیار نہیں ہے ۔ معلوم ہوا ہے میٹرو بس پروجیکٹ کے پانچویں پیکجز پر کام کرنیوالی کنسٹریکشن کمپنیوں کو ادائیگی بھی کردی گئی ہے اور تمام کمپنیاں ملتان سے واپس چلی گئی ہیں لیکن اب ٹریک کی کم چوڑائی اس پروجیکٹ کے افتتاح میں رکاوٹ بن گئی ہے ۔ روزنامہ ’’ پاکستان ‘‘ کی جانب سے ملتان میٹروبس پروجیکٹ کے ٹریک کی چوڑائی کم ہونے کی نشاندہی کے بعد لاہور سے بیشتر ٹیکنیکل ٹیمیں ملتان آن وارد ہوئیں ۔ ان سب ٹیموں نے اس ٹیکنیکل فالٹ کو انجینئر کی تاریخی غلطی قرار دی ۔ اس حوالے سے پروجیکٹ ڈائریکٹر میٹرو بس ملتان ‘ چیف انجینئر ‘ٹیکنیکل ایڈوائزر ‘ ڈائریکٹر انجینئرنگ ایم ڈی اے ‘ ایکسین اور ایس ڈی اوز کو سخت ترین حالات کا سامنا کرنے کیلئے تیار رہنے کا حکم دیا گیا جبکہ کمشنر ملتان نے اپنے آفس میں میٹرو بس پروجیکٹ پرکام کرنیوالی ایم ڈی اے کی ٹیم پر واضح کیا کہ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ اس فالٹ کا ذمہ دار ہے ۔اس فالٹ کے سامنے آنے پر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ملتان سمیت جنوبی پنجاب بھر میںیہ قیام آرائیاں زوروں پر ہیں کہ ااس ٹیکنیکل نقص کی آڑ میں اربوں روپے ادھر سے ادھر کیے گئے ہیں اور یہ چہ مگوئیاں جاری ہیں کہ یہ رقم کن لوگوں کی جیبوں میں منتقل ہوئی ہے۔تین ماہ سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود اب اس ایشو پر خاموشی اختیار کر لی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے پیکج ون بہاء الدین زکریا یونیورسٹی سے چونگی نمبر 6تک ہے ‘ یہ ٹریک 5.625 کلو میٹر پر مشتمل ہے ‘ پیکج ٹو چونگی نمبر 6سے فش مارکیٹ تک ہے ‘ اس کی لمبائی 3.273 کلو میٹر مشتمل ہے ۔پیکج تھری فش مارکیٹ سے چونگی نمبر 14 تک ے ‘ اس کا فاصلہ 1.171 کلو میٹر ہے ‘ پیکج فور چونگی نمبر 14 سے بی سی چوک تک ہے ‘ اس میں وہاڑی روڈ کا ایک حصہ بھی شامل ہے ۔ پیکج فورکے ٹریک کی لمبائی 2.331 کلو میٹر ہے ‘ پیکج فائیو بی سی جی چوک سے کمہارانوالا پر مشتمل ہے ‘یہ پیکج 5.582 کلو میٹر پر مشتمل ہے ۔ پیکج ون کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ‘ پہلا حصہ ای ایس ای آر اور ایس ایم سی کنسٹریکشن کمپنیوں پر مشتمل جوائنٹ وینجر کر دیا گیا ‘ دوسرا حصہ کیو بی اے اور ایس ای پر مشتمل کنسٹریکشن کمپنیوں کے حصہ میں آیا‘ پیکج ٹو زیڈ کے بی نے حاصل کیا ‘ پیکج تھری سی آر ایف جی اور ایچ آر ایل نے حاصل کیا ‘ پیکج فور مقبول ‘ کالسن کو الاٹ ہوا ‘ جبکہ ایچ سی ایس کو پیکج فائیو الاٹ کیاگیا ‘ پیکج ون اورپیکج ٹو کی ذمہ دار سابق ڈائریکٹر انجینئرنگ حال ٹیکنیکل ایڈوائزر خالد پرویز کو سونپی گئی ۔ ڈائریکٹر انجینئرنگ ایم ڈی اے نذیرچغتائی کو میٹرو بس پروجیکٹ کا پیکج نمبر تین اور چار کی ذمہ دار تفویض کی گئی جبکہ 1 ماہ قبل چیف انجینئر کی سیٹ پرتعینات ہونیوالے سابق ڈائریکٹر شاہد نجم کو پیکج فائیو ‘ بس ڈپو ‘ کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر اور لاری اڈے کا چارج دیا گیا ۔ جبکہ اس پروجیکٹ کے چیف انجینئر کی پوسٹ پر صوبہ بھر سے قابل اعتماد اورتجربہ کار انجینئر صابر خان سدوزئی کو ڈیپوٹیشن پر لایا گیا ‘ انکے لانے کی بنیادی وجہ ان کا تجربہ اور جنوبی پنجاب سے وابستگی تھی ۔ معلوم ہوا ہے کنسٹریکشن کمپنیوں اور ایم ڈی اے کے انجینئرز کی اس نااہلی کیوجہ سے اب اربوں روپے مالیت کے پروجیکٹ پر سوالیہ نشان پیدا ہوگئے ‘ اس کی شفافیت پر بھی انگلیاں اٹھ رہی ہیں ‘ جبکہ شہر بھر میں اس قسم کی قیاس آرائیاں گردش کر رہی ہیں کہ میٹرو بس پروجیکٹ میں اربوں روپے مالیت کے غبن کیلئے ٹیکنیکل فراڈ کیا گیا ہے ۔ اس کے ٹریک کی چوڑائی کم کر کے ہزار سکوائر فٹ کی رقم کرپٹ آفسران کی جیبوں میں منتقل ہو چکی ہے ۔ اس حوالے سے میٹرو بس پروجیکٹ کے پی آر او نے اپنی صفائی میں موقف دیا ہے کہ جن دستاویزات کا روزنامہ ’’ پاکستان‘‘ نے حوالہ دیا ہے ان میں 10 میٹر چوڑائی کے ساتھ ایک مخصوص نشان موجود ہے ‘ اس نشان کو تقریباً کے معنوں میں لیا جاتا ہے ‘ اس لیے ٹریک کی چوڑائی کو تقریباً 10 میٹر پڑھا جائے ۔ اس پر معروف ایڈووکیٹ فہیم اختر گل نے کہا کہ اربوں روپے مالیت کے پروجیکٹ کو مذاق بنا دیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا میٹرو بس پروجیکٹ کے حکام کی وضاحت کچھ اس طرح سمجھ آتی ہے کہ آپ نے ٹیلر کو قمیض کی پیمائش دی اس نے پیمائش کم کر کے شرٹ بنا دی اور اپنے موقف میں کہا اس کو تقریباً قمیض ہی سمجھیں او ر اسی پر گذاراکریں۔

مزید : صفحہ اول