مسلم حکمرانوں کی شام اور برما کے مسلمانوں کے قتل عام پر خاموشی شرمناک ہے :سراج الحق

مسلم حکمرانوں کی شام اور برما کے مسلمانوں کے قتل عام پر خاموشی شرمناک ہے ...

کراچی (اسٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ عالم اسلام کے حکمرانوں نے امت کے اہم مسائل پر خاموشی اختیار کررکھی ہے ۔مسلم حکمرانوں کو عالم اسلام کے لیے ایک ارب سے زائد مسلمانوں کے لیے اقوام متحدہ کے اندر اپنا حق مانگنا ہوگا ورنہ اپنی الگ عالمی تنظیم بنائی جائے۔ حکمرانو ں کو یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ وہ غلامی چاہتے ہیں یا آزادی چاہتے ہیں ۔ مسلمانوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم مشترکہ معاشی منڈی اور مشترکہ فوج بنانے کی ضرورت ہے ۔مسلمانوں کے لیے زندگی کا واحد راستہ اتحاد ویکجہتی اور جدوجہد کا راستہ ہے ۔ مشرقی تیمور اور سوڈان کے اندر تو اقوا م متحدہ فوراً حرکت میں آجاتی ہے لیکن کشمیر ، فلسطین ، حلب اور برماکے اندر مسلمانوں پر مظالم پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اندھی ، بہری اور گونگی بن چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ انسان خواہ کسی علاقے اور خطے کا ہو وہ انسان ہے اور اس کا خون سرخ ہے ۔ امریکہ مغرب اور اقوام متحدہ کو مسلمانوں کا خون آج کیوں نظرنہیں آرہا ۔ آج کراچی کے نوجوانوں ، ماؤں ، بہنوں ، بیٹیوں اور غیور عوا م مبارکباد اور خراج تحسین کے مستحق ہیں جنہوں نے یہ فرض کفایہ ہے ۔ حکومت پاکستان کافرض ہے کہ وہ امت کے ان مسائل پر آواز بلند کریں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کے روز جماعت اسلامی کراچی کے تحت شام اور برما کے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے وحشیانہ مظالم کے خلاف اور مظلومین کی حمایت اور اظہار یکجہتی کے لیے شاہراہ قائدین پر منعقد ہونے والے فقید المثال ’’اتحاد امت رسولﷺ مارچ ‘‘ کے ہزار وں مرد و خواتین شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ مارچ میں نوجوانوں ، بچوں ، بزرگوں، خواتین ، علماء کرام ، وکلاء صحافی ، اساتذہ ، ڈاکٹرز ، انجینئرز ، مزدور محنت کش اور مختلف شعبہ زندگی سے وابستہ افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی اور مظلومین کی حمایت اور اتحاد امت کا بھرپور اظہار کیا گیا۔ امت رسول ؐ مارچ سے امیر جماعت اسلامی صوبہ سندھ ڈاکٹر معراج الہدی صدیقی ، امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن ، نائب امیر کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی ،جماعت الدعوۃ کے رہنما ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی ، برمی مسلمانوں کے رہنما حبیب اللہ تاج اور دیگر نے بھی خطاب کیا ۔مارچ میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے قرارداد بھی منظور کی گئی۔ سراج الحق نے مزید کہا کہ آج عظیم الشان امت رسولﷺ مارچ کرنے پر میں کراچی کے نوجوانوں ، ماؤں ، بہنوں ، بیٹیوں اور غیور عوا م کو مبارکباد اور خراج تحسین پیش کرتا ہوں ۔ یہ فرض کفایہ ہے جو آج آپ لوگ ادا کررہے ہیں یہ مارچ برما اور شام سمیت دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں سے بھرپور اظہار یکجہتی ہے ۔ حلب کے اندرنوجوانوں ، خواتین، بزرگ بچے تہہ تیغ کیے جارہے ہیں ۔ ہم آج حلب کی ماؤں ۔ بہنوں اور مظلوم مسلمانوں کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم ان کے ساتھ ہیں ۔انہوں نے کہا ہ حلب کے اندر مسلم خواتین علمائے کرام سے فتویٰ مانگ رہی ہیں کہ جب ان کے ساتھ زیادتی اور بے حرمتی ہورہی ہے تو کیا وہ خودکشی کرسکتی ہیں؟ یہ صورتحال انتہائی افسوس ناک اور تشویش ناک ہے ۔ برماکے اندر مسلمانوں کی آبادیاں جلائی جارہی ہیں ان کا جرم صرف یہ ہے کہ وہ حکم لا الہ الا اللہ پڑھتے ہیں ۔ اس ظلم پر آج مسلم حکمران آخر کیوں خاموش ہیں ۔ حکمران جب امریکہ اور اقوام متحدہ کچھ کہتے ہیں تو بولتے ہیں ورنہ خاموش رہتے ہین ۔ انہوں نے کہ پاکستان کے حکمرانوں پر فرض ہے کہ وہ شام اور برما کے مسلمانوں کا ساتھ دیں ۔ ہم نے حکومت کے اہم ذمہ داران سے رابطہ کیا ہے اور بات کی ہے کہ حکومت پاکستان کافرض ہے کہ وہ امت کے ان مسائل پر آواز بلند کریں ۔انہوں نے کہا کہ عالم اسلام کے حکمرانوں نے امت کے اہم مسائل پر خاموشی اختیار کررکھی ہے ۔ حکمران ٹولے کے اندر قبرستان کی طرح خاموشی ہے ۔ جماعت اسلامی کشمیر ، فلسطین اور دیگر مسلمانوں کے ساتھ ہمیشہ کھڑی رہی ہے اور آج جماعت اسلامی شام کے کے علاقے حلب اور برما کے مسلمانوں کے ساتھ کھڑی ہے ۔ جماعت اسلامی نے آج یکم جنوری کو مظلوم مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کرکے 2017کے سال کو مظلوم مسلمانوں کا سال بنادیا ہے ۔ ہم مظلومین کی حمایت آخری دم تک جاری رکھیں گے ۔ حکمران امریکہ مغرب اور عالمی اداروں کے ایجنڈے کو ملک کے اند ر لانا چاہتے ہیں ۔ نصاب تعلیم کو تبدیل کرنے کی سازش کی جارہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اتحاد و حدت کی علامت ہے ۔ امت مسلمہ کو ہم جسد واحد کی طرح سمجھتے ہیں اور اپنا یہ فرض ادا کرتے رہیں گے ۔ آج ہماری ان کوششو ں سے حلب اور برما کے مسلمانوں کو حوصلہ مل رہا ہے ۔اقوام متحدہ کفن چوروں کا ٹولہ ہے اور یہ مسلمانوں کے لیے کبھی کچھ کرنے پر تیار نہیں ۔انہوں نے کہا کہ مشرقی تیمور اور سوڈان کے اندر تو اقوا م متحدہ فوراً حرکت میں آجاتی ہے لیکن کشمیر ، فلسطین ، حلب اور برماکے اندر مسلمانوں پر مظالم پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اندھی ، بہری اور گونگی بن چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ انسان خواہ کسی علاقے اور خطے کا ہو وہ انسان ہے اور اس کا خون سرخ ہے ۔ امریکہ مغرب اور اقوام متحدہ کو مسلمانوں کا خون آج کیوں نظرنہیں آرہا ۔مسلم حکمرانوں کو عالم اسلام کے لیے ایک ارب سے زائد مسلمانوں کے لیے اقوام متحدہ کے اندر اپنا حق مانگنا ہوگا ورنہ اپنی الگ عالمی تنظیم بنائی جائے۔ حکمرانو ں کو یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ وہ غلامی چاہتے ہیں یا آزادی چاہتے ہیں ۔ حکمرانوں کو مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کی سازشوں میں شریک ہونے کے بجائے امت کو ایک کرنے کی جدوجہد کا حصہ بننا چاہیئے ۔ ترکی کو بھی نشانہ بنایا جارہاہے جو سب کے لیے تشویشناک ہے ۔مسلمانوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم مشترکہ معاشی منڈی اور مشترکہ فوج بنانے کی ضرورت ہے ۔مسلمانوں کے لیے زندگی کا واحد راستہ اتحاد ویکجہتی اور جدوجہد کا راستہ ہے ۔مسلم عوام کو اٹھنا ہوگا اور عالم اسلام کے اندر ایسی قیادت لانی ہوگی جو جو عوام کے حقیقی احساسات و جذبات کی ترجمانی کرتی ہو۔انہوں نے کہا کہ حکومت کا فرض ہے کہ مودی کو اس کی زبان سے جواب دینا ہوگا ۔ مودی کا پانی بند کرنے کا اعلان ہماری زندگی او ر موت کا مسئلہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم عزم کرتے ہیں کہ 2017ظلم سے نجات ، جدوجہد اور اسلامی اور خوشحال پاکستا ن بنانے کا سال ثابت ہوگا ۔ ہم ملک کے اندر ایسی قیادت لانا چاہتے ہیں جو کرپشن سے پاک ہو ۔ ہمارے ساتھ ایسا کوئی نہیں جس کا نام پنامہ لیکس کے اندر ہو۔ہمارا دامن کرپشن کے داغ دھبوں سے بالکل پاک ہے ۔انہوں نے کہا کہ جب مسلمان متحد ہوں گے اور امت کے حکمران عوا م کے ساتھ ہوں گے تو نہ شام کے اندر بشار الاسد حلب کے اندر مسلمانوں پر مظالم ڈھاسکے گا اور نہ برما کی فوج روہنگیا کے مسلانون کی نسل کشی کرسکے گی کشمیر و فلسطین آزاد ہوں گے ۔مایوس اور ناامید ہونے ی ضرورت نہیں ۔ مسلم عوام اور نوجوان بیدار اور متحرک ہیں اور فتح و کامرانی ان شاء اللہ امت مسلمہ کا مقدر ضرور بنے گی ۔ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی نے کہا کہ آج کراچی نے ثابت کردیا ہے کہ یہ امت مسلمہ کا شہر ہے ۔ شام کے علاقے حلب میں معصوم انسان اپنے بچوں کی لاشیں اٹھائے اقوام متحدہ کے سامنے سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں ، حقوق انسانی کی بات کرنے والے اور زرا زرا سی باتوں پر موم بتی جلانے والی مافیا شام اور برما کے مسلمانوں پر مظالم پر خاموش ہیں۔دشمن جانتا ہے کہ شام کے اندر مسلمانوں کی حالت زار کو اختلاف کا ذریعہ بنایا جائے لیکن ہم اتحاد امت کو ہرگز نقصان نہیں پہنچنے دیں گے ۔ اتحاد امت وقت کا تقاضا ہے ۔ ہم ترکی کی حکومت اور عوام کو سلام پیش کرتے ہیں اور فرانس کے بھی شکر گزارہیں کہ وانہوں نے ظلم کے آواز بلند کی ۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ آج شام ، برما ،کشمیر اور فلسطین کے مسلمانوں کی حالت زار کسی سے ڈھکی چھپی ہوئی نہیں ہے ۔ شام کے علاقے حلب سے 40لاکھ سے زائد مسلمان نقل مکانی پر مجبور ہیں ، 5لاکھ مسلمان شہید کیے جاچکے ہیں ۔ امریکہ اور روس کی نوراکشتی جاری ہے ۔ ہم نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے اور مظلوم مسلمانوں کے حق میں آواز اٹھانے کے لیے یہ مارچ رکھا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آج کراچی کے عوام نے ثابت کیا ہے کہ عوام امت مسلمہ کے ترجمان ہیں لیکن بدقسمتی سے حکمران امریکہ اور روس کے ٖغلام بنے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ برما کے اندر مسلمانوں پر مظالم ڈھائے جارہے ہیں ، بنگلہ دیش کی حسینہ واجد نے اپنے ملک کی سرحدیں ان کے لیے بند کی ہوئی ہیں ۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ برما کے اندر اسلامی حکومت کو تسلیم کیا جائے ۔ہم اہل کراچی کی جوق در جوق شرکت پر کراچی کے عوام کو خراج تحسین اور اظہار تشکر کرتے ہیں ۔مزمل اقبال ہاشمی نے کہا کہ آج پوری امت کا فرض ہے کہ شام اور برما کے مظلوم مسلمانوں کی آواز بنیں اور ان کے حق میں آواز بلند کریں ۔حبیب اللہ تاج نے کہا کہ شام اور برما کے اندر جس طرح مسلمانوں پر مظالم ڈھایاجارہا ہے ان کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی ۔ برمی افواج مسلمانوں کی نسل کشی کررہی ہیں ۔ بشار الاسد شام کے علاقے حلب میں مظلوم و نہتے مسلمانوں پر مظالم ڈھارہا ہے ۔ پاکستان کے عوام نے ہمیشہ امت مسلمہ کے سلگتے مسائل پر آواز بلند کی ہے اور امت سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے ۔

مزید : صفحہ اول