چین میں گردوں کی غیر قانونی پیوندکاری پر 16 افراد کو قید کی سزا

چین میں گردوں کی غیر قانونی پیوندکاری پر 16 افراد کو قید کی سزا

بیجنگ (آن لائن)چین میں گردوں کی غیر قانونی پیوندکاری میں ملوث ہونے پر 16 افراد کو پانچ سال کی تک قید کی سزا سنادی گئی ۔ چینی خبررساں اداے شن ہوا کے مطابق ایک مقامی عدالت کا کہنا ہے کہ صحت کے شعبہ سے وابستہ افراد نے گردوں کی خرید وفروخت کے لیے انٹرنیٹ کا استعمال کیا۔مجرمان میں دو ڈاکٹر، ایک نرس اور ایک بے ہوشی کے ڈاکٹر شامل ہیں اور عدالت کے مطابق یہ افراد خفیہ پیوندکاری میں ملوث رہے۔چین میں اعضا عطیہ دینے والوں کی کمی کی وجہ سے اعضا کی غیرقانونی منڈی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔صوبہ شنڈونگ کے جنان شہر میں عدالت کا کہنا ہے کہ مریضوں کو کم از کم 57 ہزار ڈالر ادا کرنے کا کہا گہا تھا۔کئی برسوں تک چین میں سزائے موت دیے جانے والے قیدیوں کے اعضا دوسرے افراد کو عطیہ کیے جاتے رہے ہیں۔لیکن سنہ 2015 کے اغاز میں بیجنگ کا کہنا تھا کہ تھا کہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے اس پر عمل درآمد روک دیا تھا۔حکومت کی جانب سے کسی حد تک اعضا عطیہ دینے والے افراد کو رجسٹر کرکے کامیابی حاصل کی تھی لیکن ابھی بھی بہت سے افراد پیوندکاری کے منتظر ہیں۔چین میں اعضا عطیہ کرنے کرنے کی شرح دنیا میں کم ترین سطح پر ہے۔ بہت سے لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ جسم مقدس ہوتا ہے اور اپنے آبا و اجداد کو تقریم کو برقرار رکھتے ہوئے جسم کو ایسے ہی دفنانے پر یقین رکھتے ہیں۔

خیال رہے کہ چین میں سنہ 2007 سے انسانی اعضا کی خریدوفروخت پر پابندی عائد ہے

مزید : عالمی منظر