غرب اردن کو صہیونی ریاست میں ضم کرنے کی نئی اسرائیلی سازش شروع

غرب اردن کو صہیونی ریاست میں ضم کرنے کی نئی اسرائیلی سازش شروع

رام اللہ(اے این این)اسرائیلی حکومت نے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں غیرقانونی یہودی کالونیوں کے قیام کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایک نئی رپورٹکہا گیا ہے کہ صہیونی حکومت نے دریائے اردن کے مغربی کنارے کو صہیونی ریاست کے زیرتسلط شہروں سے مربوط کرنے کی ایک نئی اسکیم پر کام شروع کیا ہے۔ فلسطینی میڈیا رپورٹس کے مطابق غرب اردن میں یہودی کالونیوں کے قریب سے گذرنے والی مرکزی شاہراہ کو شمالی فلسطینی شہروں سے ملانے کے ایک نئے پلان پرکام شروع کیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کی یہودی کالونیوں کو صہیونی ریاست سے مربوط کرنا ہے۔تنظیم آزادی فلسطین کے زیرانتظام دفاع اراضی دفتر کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حال ہی میں اسرائیلی نائب وزیر دفاع ایلی بن دھان نے تصدیق کی ہے کہ حکومت آئندہ ہفتے غرب اردن کو اسرائیلی شہروں سے مربوط کرنے کے پروجیکٹ پرکام شروع کرے گی۔ان کا کہنا ہے کہ آئندہ ہفتے غرب اردن کیشمالی شہر نابلس کی مرکزی شاہراہ کو وسطی اسرائیل کے کفار سابا سے ملانے کے پروجیکٹ پر کام شروع کرے گی۔

ایلی بن دھان کا کہنا ہے کہ نابلس شاہراہ کو کفر سابا سے ملانے سے یہودا اور سامرا کو اسرائیل میں ضم کرنے کانیا موقع ملے گا۔اس کے علاوہ ایک نابلس شہر ہی کو ایک دوسرے شہر سے اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب اور بیت المقدس ملانے کی اسکیم بھی تیار کی جا رہ ہے۔ایک تیسرا منصوبہ جس میں غرب اردن کو اسرائیل میں ضم کرنے کی سازش تیار کی گئی ہے، مغربی کنارے کے جنوبی شہروں بیت لحم، الخلیل اور ان میں قائم کردہ یہودی کالونی گوش عتصیون کو صہیونی ریاست کے زیرتسلط شہروں سے ملانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔اسرائیلی وزیر مواصلات یسرائیل کاٹز نے حال ہی میں جبل الخلیل اور کریات اربع کالونی کو اسرائیلی شہروں سے ملانے کے ایک منصوبے کی منظوری دی تھی۔اسرائیلی وزیر کا کہنا ہے کہ نئے تعمیراتی منصوبے پر 6 جنوری 2017 کام شروع کیا جائے گا اور اگلے ایک سال کے دوران اس نوعیت کے گیارہ منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچائے جائیں گے۔

مزید : عالمی منظر