پاکستان میں ونڈ اور انرجی کابے مثال پوٹینشل موجود ہے ، پاکستان اکانومی واچ

پاکستان میں ونڈ اور انرجی کابے مثال پوٹینشل موجود ہے ، پاکستان اکانومی واچ

اسلام آباد(صباح نیوز) پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ پاکستان میں ونڈ اور سولر انرجی کا بے مثال پوٹینشل موجود ہے جس سے فائدہ اٹھایا جائے تو توانائی بحران ختم ہو سکتا ہے بلکہ ملک توانائی برآمد بھی کر سکتا ہے۔ موجودہ صدی گیس کی صدی ہے اسلئے ملک کے انرجی مکس میں گیس کا حصہ بڑھایا جائے۔سی این جی اور پٹرول کی قیمت میں کم از کم بیس فیصد فرق برقرار رکھنے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔توانائی بحران کے خاتمہ کیلئے وفاقی وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی ملکی اثاثہ ہیں جن کی انتھک اور مخلصانہ کاوشوں اورانرجی وژن کی قدر کرتے ہیں۔ ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ گیس سے بجلی بنانے کے منصوبوں کو جلد از جلد مکمل کیا جائے۔ پاکستان میں گیس کے زریعے بنائی جانے والی بجلی کی قیمت چھ سینٹ فی یونٹ ہے جبکہ پن بجلی کی قیمت تین گنا زیادہ یعنی اٹھاری سینٹ فی یونٹ ہے۔ اسکے علاوہ ہائیڈل منصوبے بہت وقت لیتے ہیں جن پر صرف ہونے والا سرمایہ ساڑھے چار ملین ڈالر فی میگاواٹ ہے اور دیگر تمام طریقوں سے بجلی بنانے سے بہت زیادہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان میں ونڈ پاور کے ذریعے کم از کم50 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے شمسی توانائی کا پوٹینشل لاکھوں میگاواٹ ہے۔ ان زرائع کو وہ توجہ نہیں دی جا رہی جس کے یہ مستحق ہیں۔ ہوا اور سورج کے زرائع کو مناسب توجہ دینے سے ملک توانائی کے معاملہ میں خود کفیل ہونے کے علاوہ توانائی برامد بھی کر سکتا ہے جس سے بھاری زرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے۔ اگلے چودہ برس میں دنیا میں انرجی مکس میں قابل تجدید توانائی کا حصہ دگنا ہو جائے گا ۔ اس وقت دنیا کی بیس فیصد بجلی قابل تجدید زرائع سے بنائی جا رہی ہے اور تمام ترقی یافتہ ممالک اس ضمن میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کیلئے کوشاں ہیں مگر پاکستان میں صورتحال مایوس کن ہے جسے بہتر بنانے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔

مزید : علاقائی